Showing posts with label حیوانات. Show all posts
Showing posts with label حیوانات. Show all posts

Thursday, October 10, 2013

داستان بکرافروشوں کی - عمران زاہد کے قلم سے


پچھلی بڑی عید کا یہ  یادگار واقعہ ہمارے ماموں جان نے ہمیں سنایا۔ انہیں کی زبانی یہ واقعہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

شیخ صاحب ہمارے ہمسائے ہیں ۔ اتنے زیادہ ذہین، موقعہ شناس اور کاروباری  ہیں کہ ان کی اس ذہانت کا خمیازہ اکثر ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ ہماری بیگم اکثر ہمیں دق کرتی رہتی ہیں اور ہماری کاروباری  اور پیشہ وارانہ کامیابیوں کو ان کے مقابلے میں  ہیچ گردانتی ہیں۔  ہمارے سودا ، پھل اور دوسری چیزیں خریدنے کے ہنر کو بھی اکثر تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ شیخ صاحب گویا ان کے لیے ایک نمونہ ہیں جو گھر گرہستی کے معاملات سے لے کر مارکیٹ، بازار اور کاروباری دنیا کے معاملات تک کے ماہر ہیں ۔

Sunday, June 30, 2013

شکاری پرندوں اور ہم غلاموں کا قصّہءِ مشترک


چند دن ہوئے کہ میں بی-بی-سی پر پرندوں کے متعلق ایک معلوماتی پروگرام دیکھ رہا تھا۔ نہ جانے اس پروگرام کو دیکھتے ہوئے مجھے وہ سب کچھ جانا پہچانا سا کیوں لگنے لگا۔ غور کیا تو پتہ چلا کہ وہ سب کچھ اس لیے جانا پہچانا لگ رہا تھا کیونکہ اس سے ملتی جلتی کہانی ہماری اور ہمارے دیس پاکستان کی ہے۔گو کہانی وہی ہے، بس ان پرندوں کی جگہ ہم ہیں اور ان کے مالکوں کی جگہ ہمارے آقا ہیں۔ پچھلے چھیاسٹھ سالوں میں پاکستان میں یہی کھیل چلتا آ رہا ہے۔ مماثلتیں اتنی گہری تھیں کہ اور وہ سب کچھ اتنا صاف اور واضح تھا کہ مجھے اُن پرندوں میں پاکستان کی شبیہ نظر آنی شروع ہو گئی۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب نے تو صرف ایک ادبی استعارے کے طور پر لکھا تھا کہ "الو ہمارے بھائی ہیں"، لیکن اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ کو اس پر یقین بھی آ جائے گا۔ چلیں الو نہ سہی، یہ شکاری پرندے ہی سہی۔

 اُس پروگرام کی تفصیل کچھ یوں ہے:
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...