Showing posts with label پاکستان. Show all posts
Showing posts with label پاکستان. Show all posts
Saturday, June 27, 2015
تین غدار، تین کہانیاں - عمران زاہد کے قلم سے
Labels:
Bangladesh
,
History
,
پاکستان
,
تاریخ
,
حالاتِ حاضرہ
,
عالمی سیاست
,
عمران زاہد
Tuesday, November 25, 2014
جماعتِ اسلامی کے سالانہ اجتماع میں کچھ وقت - عمران زاہد کے قلم سے
کئی دوستوں کی معیت اور کشش کے سبب جماعت کے سالانہ اجتماع میں جانے کا پکا پروگرام تھا لیکن ہماری یونیورسٹی کے کانوکیشن نے، جو انہی تاریخوں میں منعقد ہوا، اسے تقریباً ناممکن بنا دیا۔ گو فیس بک کے ذریعے پتہ چلتا رہا کہ اجتماعِ عام میں لاکھوں لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک سے مندوبین کا اجلاس ہوا۔ خواتین کا ایک علیحدہ سے پروگرام ہوا۔ نوجوانوں کا ایک کنونشن بھی ہوا ، جس میں جمعیت والوں نے ایک ڈرامہ بھی پیش کیا۔ سوشل میڈیا کیمپ کا خاصا چرچا تھا۔ فیس بک پہ ہی اس میں موجود سہولتوں کے بارے میں پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اردو بلاگرز جن میں ایم بلال بھی شامل ہیں ان کے سوشل میڈیا کیمپ کے وزٹ کی خبر بھی پہنچی۔ اسی طرح کی مزید کئی سرگرمیوں کی خبریں پہنچتی رہی تھیں لیکن ان میں عملاً شریک ہونا ناممکن تھا۔ تئیس نومبرکو اجتماع کا آخری دن تھا۔بائیس کی شام کو کانوکیشن سے فارغ ہوا تو برادرم الیاس انصاری نے دعوت دی کہ آخری دن اکٹھے چلا جائے۔ میں نے ان کی دعوت پہ لبیک کہا۔ سوچا چلو اسی طرح سے انگلی کٹا کے شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔
Labels:
Imran Zahid
,
JI
,
Pakistan
,
Politics
,
اسلام
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
Saturday, November 22, 2014
ایک تربیت گاہ کی یادیں - عمران زاہد کے قلم سے
سن 1992 کی بات ہے، مہینہ شاید نومبر کا ہی تھا کہ جمعیت صوبہ پنجاب کی ایک تربیت گاہ بہاولپور میں رکھی گئی۔ سفر میں زیادہ سامان سے مجھے ہمیشہ کوفت ہوتی ہے، لہٰذا والدہ سے کرایہ لیا اور خالی ہاتھ گھر سے نکل آیا۔ والدہ نے اصرار بھی کیا کہ ساتھ کوئی گرم کمبل لیجاؤ کہ وہاں رات کو ٹھنڈ ہو گی۔۔ لیکن کمبل کو اٹھانے کی کوفت سے بچنے کے لیے میں سنی ان سنی کرتا ہوا ویسے ہی گھر سے نکل آیا۔ ایک ہلکی سی چادر ضرور جماعتی سٹائل میں اوڑھ لی کہ سردی سے بچاؤ کے لیے کافی ہے۔ بار بار اتارنے اور پہننے سے بچنے کے لیے مجھے تسموں والے بوٹ بھی ہمیشہ سے اَن ایزی لگتے تھے لہٰذا عام گھریلو چپل ہی پہنے رکھی کہ اس میں پاؤں کو خاصا سکون ملتا ہے۔
Labels:
Imran Zahid
,
پاکستان
,
خودنوشت
,
طلبہ سیاست
,
عالمی سیاست
,
عمران زاہد
Tuesday, November 4, 2014
عمران خان کے نواز شریفی ہتھکنڈے - عمران زاہد کے قلم سے
میاں نواز شریف ماضی میں اپنے اتحادیوں کی سبکی کا باعث بنتے رہے ہیں بلکہ یہ رویہ ان کی اہم سیاسی حکمت عملی بن چکا ہے۔ چانکیہ کوٹلیا کی فلاسفی کہیں یا میکاولی کے اصول کہیں، سیاسی کامیابی کے لیے ایسے ہی طریقے بیان کیے گئے ہیں کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لو اور ضرورت نہ ہو تو باپ کو بھی گڑھے میں ڈال دو۔ عمران خان صاحب بھی اسی روش پر گامزن ہیں۔ موجودہ دھرنے کے دوران قادری صاحب اور عمران خان صاحب کے درمیان طے شدہ باتوں سے خان صاحب کا نظریہ ضرورت کے تحت انحراف اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس ضمن میں بہت سی باتیں تو علامہ طاہرالقادری کے حوالے سے میڈیا میں آ چکی ہیں۔ وہ بیچارے مایوس ہو کر خان صاحب کا ساتھ ہی چھوڑ گئے۔
Labels:
Imran Khan
,
Imran Zahid
,
Jamaat e Islami
,
JI
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
طلبہ سیاست
,
عمران زاہد
Monday, July 21, 2014
برکس بینک کا قیام.... اُمہ کیلئے قابل تقلید مثال - سرور منیر راؤ کے قلم سے
دنیا کے پانچ ممالک نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی اقتصادی اجارہ داری سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ’برکس ترقیاتی بینک کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ BRICS کا نام بھی ان پانچ مالک کے پہلے حروف تہجی پر رکھا گیا ہے۔ B برازیل ، Rروس ، Iانڈیا، C چین،Sسے ساؤتھ افریقہ کے پہلے حروف تہجی پر مشتمل ہے۔ جنوبی افریقہ کی شمولیت سے پہلے اس بینک کا مجوزہ نامBRICتھا ۔ ان پانچ ممالک کی مجموعی آبادی تین ارب اور اس کی مجموعی پیداوار 16.39کھرب ڈالر ہے جبکہ فارن کرنسی کے ذخائر چار کھرب ڈالرسے زیادہ ہیں۔اس نئے ترقیاتی بینک نے حادثاتی فنڈ بھی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برازیل کے شہر فورٹی لیزا میں ممبر ممالک کے رہنماؤں کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ابتدائی طور پر ترقیاتی بینک کے لیے سرمایہ کا حجم 50 ارب ڈالر رکھا گیاہے۔جسے بعد میں سو ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سو ارب ڈالر کا ایک ایمرجنسی فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں چین 41 ارب ڈالر‘ بھارت، برازیل اور روس اٹھارہ ،اٹھارہ ارب ڈالر اور جنوبی افریقہ پانچ ارب ڈالر کا سرمایہ لگائے گا۔
Labels:
اخباری مضمون
,
پاکستان
,
عالم اسلام
,
عالمی سیاست
,
مسلم دنیا
Sunday, July 20, 2014
پاکستانی سیاست کا چہرہ بدلنے والے تین سیاستدان - عمران زاہد کے قلم سے
Labels:
Imran Khan
,
Imran Zahid
,
Pakistan
,
Politics
,
پاکستان
,
سیاست
,
عمران زاہد
Sunday, June 29, 2014
اپنا اپنا چاند - عمران زاہد کے قلم سے
چاند ہمیں ہمیشہ سے اچھا لگتا ہے۔ چونکہ ہماری والدہ کسی حقیقی بھائی سے محروم ہیں، اس لیے انہوں نے بچپن سے ہی چاند کو ہمارا ماموں بنا دیا تھا۔ اُس دور میں ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹوڈیو نمبر دو سے روزانہ شام کو بچوں کی کہانی اور نغمہ نشر ہوتا تھا، جس میں بچوں کا معروف نغمہ "چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے" اکثر چلایا جاتا تھا، جسے ہم بچے بہت شوق سے سنتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں شام سات بجے سے پہلے بچوں میں مقابلہ ہوتا تھا کہ کون ریڈیو کو گود میں لے کے بیٹھے گا۔ ہمارے شاعروں نے چاند پر ایسی ایسی شاعری لکھ دی ہے کہ انہیں سن کر چاند خود بھی شرمائے۔ ابنِ انشاء نے چودھویں کی رات کے فسوں خیز ماحول کے پسِ منظر میں اپنی محبوب کا ایسا تذکرہ کیا ہے کہ وہ غزل اردو شاعری کی کلاسیکل غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
Labels:
اسلام
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
مسلم دنیا
Friday, June 20, 2014
خداوندا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں - عمران زاہد کے قلم سے
مولانا علامہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے اکنامکس کے استاد محترم شاہد صدیق صاحب بہت یاد آتے ہیں۔ پڑھاتے تو وہ اکنامکس تھے لیکن ساتھ ساتھ بر محل اقوال اور اشعار بھی سناتے جاتے تھے۔ ان کی ایک بہت خاص بات یہ تھی کہ وہ دو زبانوں میں لیکچر دیتے تھے۔ ایک فقرہ انگریزی میں ادا کرتے تھے، پھر اس کو اردو میں ادا کرتے تھے۔ ان کا ہر فقرہ نگینے میں جڑا ہوا ہوتا تھا۔ ہر جملہ اتنا ٹھہر ٹھہر کے ادا کرتے کہ اس کو آرام سے لکھا جا سکتا تھا۔ ان کا جملہ کہنے کا انداز اتنا دلکش ہوتا تھا کہ میں اکثر ان کے چہرے پر نظریں جمائے ان کو بولتا ہوا دیکھا کرتا تھا اور ان کو دیکھنے سے جی نہیں بھرتا تھا۔ ان کے چہرے پر گھنی مونچھیں (بالکل آفتاب اقبال کی مونچھوں جیسی) تھیں، جو ان پر بہت بھلی لگتی تھیں۔ میرا اللہ میرے استاد محترم کو خوش رکھے اور انہیں اپنی بے پناہ رحمتوں کے حصار میں رکھے۔ آمین۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
Monday, June 16, 2014
بجٹ والی مائی - عمران زاہد کے قلم سے
کچھ عرصہ ہوا کہ ہمارے اکاؤنٹس کے افسرِ اعلیٰ جناب ساجد صاحب سے بات چیت ہو رہی تھی۔ فرمانے لگے کہ ان کی فیلڈ میں اس اکاؤنٹنٹ کو نااہل مانا جاتا ہے جو کھاتوں میں منافع دکھائے۔ خسارہ دکھانے والا اکاؤنٹنت ہی با صلاحیت مانا جاتا ہے۔ نہ تو ہمیں اکاؤنٹینسی کے شعبے سے کچھ لینا دینا ہے اور ظاہر ہے یہ ان کا پیشہ ہے اور وہ اس کے حسن و قبح کو ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہم نہ ہی ان کے اس خسارے والے اصول پہ علمی بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی یہ بات اس وقت شدت سے یاد آئی جب ہمیں وفاقی و صوبائی وزراء خزانہ کے خسارے والے بجٹ سننے کو ملے۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
معاشرت
Thursday, June 12, 2014
آئی ایل ایم اور یو ایم ٹی میں میرے پندرہ سال - عمران زاہد کے قلم سے
شام کے وقت مجھے گھر سے کال آئی کہ کیا آپ نے گھر نہیں آنا؟
میں نے جواب دیا کہ نہیں، آج دیر ہو جائے گی کیونکہ آج ہماری سالگرہ ہے۔
بیگم بولیں کہ ہماری سالگرہ آج تو نہیں۔
میں نے کہا، بھئی، آج ہمارے آئی ایل ایم اور یو ایم ٹی کی سالگرہ ہے۔
بیگم جواباً بولیں، جناب، یو ایم ٹی کو موجودہ مقام پر پہنچانے میں میرا بھی بڑا حصہ ہے۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
شخصیت
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
Wednesday, March 5, 2014
Tuesday, December 24, 2013
Sunday, December 22, 2013
پاکستان میں بجلی کے بحران پر ہلکی پھلکی گپ شپ - عمران زاہد کے قلم سے
سعید صاحب ہمارے فیملی فرینڈ ہیں۔ وہ میرے والد صاحب مرحوم کے ساتھ ہی واپڈا میں کام کرتے تھے۔ ہم کافی عرصہ ایک ہی کالونی میں ساتھ ساتھ رہتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا تعلق ہمارے گھرانے سے ایک دوست اور رشتہ دار کا تھا۔ وہ ابھی پچھلے سال ہی واپڈا سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ کافی سالوں بعد ہمارے ہاں بمعہ اہلیہ تشریف لائے۔
ان سے بجلی کے مسئلے پر بات چیت ہوئی، اس کا خلاصہ یہ ہے:
Labels:
Pakistan
,
PPP
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
Thursday, October 10, 2013
داستان بکرافروشوں کی - عمران زاہد کے قلم سے
پچھلی بڑی عید کا یہ یادگار واقعہ ہمارے ماموں جان نے ہمیں سنایا۔ انہیں کی زبانی یہ واقعہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
شیخ صاحب ہمارے ہمسائے ہیں ۔ اتنے زیادہ ذہین، موقعہ شناس اور کاروباری ہیں کہ ان کی اس ذہانت کا خمیازہ اکثر ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ ہماری بیگم اکثر ہمیں دق کرتی رہتی ہیں اور ہماری کاروباری اور پیشہ وارانہ کامیابیوں کو ان کے مقابلے میں ہیچ گردانتی ہیں۔ ہمارے سودا ، پھل اور دوسری چیزیں خریدنے کے ہنر کو بھی اکثر تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ شیخ صاحب گویا ان کے لیے ایک نمونہ ہیں جو گھر گرہستی کے معاملات سے لے کر مارکیٹ، بازار اور کاروباری دنیا کے معاملات تک کے ماہر ہیں ۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
حیوانات
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
مزاح
,
مغربی تہذیب
Tuesday, September 17, 2013
آج کے مسلمان نوجوان کے لیے آئیڈیلز - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے
ہمیشہ اصلاحی اور بدی کی قوتوں کے ہر اول دستے کا کردار نوجوانوں نے نبھایا
ہے۔کیونکہ ان میں نام نہاد مصلحت نہیں ہوتی۔ یہ جس چیز کو صحیح سمجھتے ہیں
اسے کرنا چاہتے ہیں اور جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اسے مٹانا چاہتے ہیں۔ جو
گلیوں کے نکڑوں پہ کھڑے ہو کر آتے جاتوں پر آوازے کستے ہیں، منشیات کا
شکار ہیں، قبضے کرتے اور زندگیاں اجیرن کرتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ اور جو
صلاح و فلاح کی مجالس سجاتے ،مساجد کی رونق بڑھاتے ، رفاہی کاموں میں بڑھ
چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ گویا ایک معاشرہ اتناہی ترقی یافتہ
ہوگاجتنا اس کے نوجوان بامقصد ہوں گے۔
Labels:
اسلام
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سماجی بہبود
,
سید ثمر احمد
,
متفرق مضامین
,
مسلم دنیا
,
معاشرت
,
مغربی تہذیب
Monday, September 16, 2013
اک تاریخ نہاں ہے نعروں میں ۔ جناب احمد شاہین کے قلم سے
اگر آپ نے زمانہ طالبعلمی کسی سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں گزارا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کے کان نعروں سے محروم رہے ہوں۔ خوشی کا موقع ہو یا غمی و افسوس کا، انتظامیہ سے چپقلش پیدا ہوجائے یا ادارے کے دو برتن آپس میں ہی ٹکرا جائیں، سب سے پہلے بلند ہونے والی صدا یقینا ایک نعرہ ہوتی ہے اور اس کے بعد "دے مار، ساڑھے چار" خیر یہ مضمون کسی چٹ پٹے پھڈے کا احوال سنانے کیلئے تو تحریر نہیں کیا جارہا بلکہ کوشش ہے کہ دور طالب علمی کی یادوں کو کرید کر ذرا "نعرہ بازی" کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔
Labels:
ATI
,
MSF
,
Pakistan
,
PPP
,
PTI
,
احمد شاہین
,
پاکستان
,
تہذیب
,
سیاست
,
طلبہ سیاست
Monday, September 2, 2013
سیکولر ذہن کی سطح - جناب شاہنواز فاروقی کے قلم سے
پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقات نے تمام مذہبی لوگوں کو ”طالبان“ بنادیا ہے، اور طالبان بھی اپنی پسند کا۔ سیکولر اور لبرل عناصر کے طالبان انتہا پسند ہیں۔ دہشت گرد ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ہر وقت اسلحہ ہوتا ہے۔ وہ دستی بموں اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس سے لیس ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں سے ہر وقت وحشت اور درندگی ٹپکتی رہتی ہے۔ وہ دائمی طور پر خون کے پیاسے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔
Labels:
اسلام
,
پاکستان
,
تہذیب
,
سیکولرازم
,
شاہنواز فاروقی
,
متفرق مضامین
Wednesday, August 21, 2013
ہم نے وہ دور دیکھا ہے - جناب سجاد میر کے قلم سے
ارادہ تو نہیں تھا کہ بھٹو نامے کے مزید ابواب رقم کرتا، مگر دوست یار پرانے زخم تازہ ہونے سے ایسے اچھلے ہیں کہ ہر کوئی نئی بات یاد دلا رہا ہے۔ ہمارے ایک پبلشر دوست نے تو اس موضوع پر کتاب لکھنے کا مطالبہ کر دیا ہے کہ یہ کوئی ذاتی دکھوں کی کتھا نہیں اس قوم کی تباہی کی داستان ہے۔ یہ استحقاق تو دراصل برادرم مجیب شامی صاحب (خبردارجواب اسے کتابت کی غلطی سے مجیب نظامی لکھا گیا) کا ہے، مگر کوئی تو آئے جو اس راکھ کو کرید کر تاریخ کے چند تاریک باب روشن کرے۔
Tuesday, August 20, 2013
لبرل نظامِ تعلیم کا غیر ملکی ایجنڈا - پروفیسر نعیم قاسم کے قلم سے
پچھلے دنوں پاکستان کی مشہور صحافی نجم سیٹھی صاحب نے اپنے ٹی وی پروگرام "آپس کی بات" میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی طرف سے سکولوں کے نصابِ تعلیم میں این جی اوز کی سیکولر اصلاحات کو رد کرنے اور اسلامی اصلاحات کو قبول کرنے کے پر خاصی تنقید فرمائی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے اس سارے معاملے کا ذمہ دار جماعتِ اسلامی کو ٹھہرایا اور جماعت کے نظامِ تعلیم کے حوالے سے نظریات کی کافی شدت سے مخالفت کی۔ اس مخالفت میں وہ اتنی پستی میں اتر گئے کہ مضحکہ خیز مثالیں دینے لگے، مثلاً جماعتِ اسلامی کے تعلیمی وژن کو دو مجاہد جمع دو مجاہد برابر ہیں چارمجاہد جیسی حسابی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسلام کو تو کچھ نہیں کہہ سکے تو اِس کو "جماعتِ اسلامی کا اسلام" کہہ کے رد فرماتے رہے۔ یہ سیکولر اور لبرل لابی کا پرانا حربہ ہے۔ اس حربے سے وہ یہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی اسلام کی بات کرتے تو اس کو اسی کے نام سے موسوم کر کے شریعت کے نفاذ سے بچا جا سکے۔ مثلاً جماعت اسلامی کی جگہ اگر تحریکِ انصاف اسلامی اصلاحات کرنا چاہے گی تو اس کو "تحریکِ انصاف کا اسلام" کہہ کے رد کردیں گے۔ کل کلاں مولانا فضل الرحمٰن کوئی اسلامی اصلاح پیش کریں گے تو اس کو "مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام" کہہ کے رد کر دیں گے۔ نواز شریف صاحب پہ تو پہلے ہی امیرالمومنین کی پھبتی کسی جاتی ہے۔
Labels:
Jamaat e Islami
,
JI
,
JUI
,
Pakistan
,
اخباری مضمون
,
اسلام
,
پاکستان
,
پروفیسر نعیم قاسم
,
حالاتِ حاضرہ
,
معاشرت
,
مغربی تہذیب
Monday, August 19, 2013
پیارے انقلابیو، منہ مت کھلواؤ - جناب سجاد میر کے قلم سے
ہمارے انقلابی بھائی مجاہد بریلوی نے کیا لکھ دیا کہ ٹیلیفون لائنوں کا تانتا بندھ گیا کہ اب کی بار جانے نہ پائے۔ خیر اس عزیز کو کیا کہنا، مگر دو چار تاریخی مغالطے ہیں جنہیں رفع کرنا ضروری ہے۔ ہمارے بائیں بازو کے ڈنڈی مار تاریخ کو ضیاء الحق سے شروع کرتے ہیں اور ایسی گرد اڑاتے ہیں کہ بھٹو شاہی کے کرتوت اس دھول میں چھپ جاتے ہیں۔
Labels:
PPP
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)


















