Showing posts with label سماجی بہبود. Show all posts
Showing posts with label سماجی بہبود. Show all posts
Saturday, May 31, 2014
Thursday, May 15, 2014
سونے کے دل والا آدمی - عمران زاہد کے قلم سے
ایک ایسا شخص جس کا دل سونے کا ہے۔ خالص سونے کا۔
اسے کسی کی تکلیف کا پتہ چلتا ہے تو وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ جو بن پڑتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ سب سے پہلے اپنی جیب میں جو ہوتا ہے نکال کے سامنے رکھ لیتا ہے اس کے بعد وہ اپنے دوستوں، عزیزوں، شاگردوں کو کہتا ہے کہ بھئی فلاں مصیبت زدہ کی مدد کرنی ہے۔ اللہ تعالٰی نے ایسی تاثیر دی ہے کہ پل بھر میں رقم جمع ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کا آپریشن ہونا تھا، چالیس ہزار کی رقم چاہیئے تھی۔ ایک دوست نے سوشل میڈیا پہ اس مریض کی ضرورت کے بارے میں شئیر کیا تو چند لمحوں میں ہی ایک بیرون ملک پرانے شاگرد نے پیسے بھجوا دیے۔ مون مارکیٹ میں دھماکہ ہوا تو نادار زخمیوں کے علاج معالجے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ہوپ والوں سے مصنوعی اعضاء کا بندوبست کروایا۔
Labels:
سماجی بہبود
,
شخصیت
,
عمران زاہد
,
معاشرت
Tuesday, September 17, 2013
آج کے مسلمان نوجوان کے لیے آئیڈیلز - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے
ہمیشہ اصلاحی اور بدی کی قوتوں کے ہر اول دستے کا کردار نوجوانوں نے نبھایا
ہے۔کیونکہ ان میں نام نہاد مصلحت نہیں ہوتی۔ یہ جس چیز کو صحیح سمجھتے ہیں
اسے کرنا چاہتے ہیں اور جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اسے مٹانا چاہتے ہیں۔ جو
گلیوں کے نکڑوں پہ کھڑے ہو کر آتے جاتوں پر آوازے کستے ہیں، منشیات کا
شکار ہیں، قبضے کرتے اور زندگیاں اجیرن کرتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ اور جو
صلاح و فلاح کی مجالس سجاتے ،مساجد کی رونق بڑھاتے ، رفاہی کاموں میں بڑھ
چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ گویا ایک معاشرہ اتناہی ترقی یافتہ
ہوگاجتنا اس کے نوجوان بامقصد ہوں گے۔
Labels:
اسلام
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سماجی بہبود
,
سید ثمر احمد
,
متفرق مضامین
,
مسلم دنیا
,
معاشرت
,
مغربی تہذیب
Sunday, August 18, 2013
جوانمردوں کے لیے کامیابی کے اسباق - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے
سماجی ذمہ داری کا احساس:
رکھتے ہیں جو اوروں کے لیے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے
’آفاق ‘ کے چیف ایگزیکٹو ابرار احمد صاحب جرمنی سے واپس تشریف لائے تو
انہوں نے ایک دلچسپ لیکن آنکھیں کھول دینے والی کہانی سنائی۔ کہنے لگے
ہمارے ایک دوست ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے تھے رات کا وقت تھا‘ وہاں چند
لوگ موجود تھے۔ کھانا کھا کے فارغ ہوئے تو کچھ کھانا بچ گیا۔
Labels:
سماجی بہبود
,
سید ثمر احمد
,
متفرق مضامین
,
معاشرت
Saturday, August 10, 2013
ناقابلِ فراموش واقعات جو زندگی بدل دیں - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے
جس قوم کے اخلاق ڈوب جائیں وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہا کرتی۔ تاریخ کا یہ سبق تاریخ میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ کسی قوم کے عروج کا سورج ڈوبنے کی سب سے بڑی وجہ اخلاقی شعبے کا زوال ہوتا ہے۔ بقیہ تمام شعبہ جات اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ مغربی سورج بھی زرد ہورہا ہے یا یہ ترقی منتقل کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے پاس انسانی تاریخ کی وہ عظیم اور حیرت انگیز مثالیں ہیں جو حقیقی بھی ہیں اور ترقی حاصل کرنے کا خطِ مستقیم بھی۔ مغرب کے نبض شناس اقبال نے مرض کی ٹھیک ٹھیک تشخیص کر کے نوجوانوں کو خبردار کیا:
Labels:
Syed Samar Ahmed
,
ادب
,
اسلام
,
تہذیب
,
سماجی بہبود
,
معاشرت
Sunday, August 4, 2013
آسان زندگی - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے
کون ہے جو آسان زندگی نہیں چاہتا؟ کون ہے جو آسانی کو پسند نہیں کرتا؟ ہر
شخص کی خواہش ہے کو اس کی زندگی خوبصورت اور سہل انداز میں گزرے۔ یہ ایک
جائز اور فطری خواہش ہے ۔ لیکن فی زمانہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس کی
تلاش میں سر ٹکراتی پھرتی ہے اور خانماں برباد ہے۔ کیا یہ ایک سراب ہے جو
موجود نہیں لیکن اپنے پیاسے کو مارے جاتا ہے؟ کیا یہ ایک خوشنما دلدل ہے کہ
نکلنے کے لیے جتنے ہاتھ پاؤں مارو اور دھنستے چلے جاؤ؟ ہم آج یہ ثابت کریں
گے کہ یہ سراب ہے نہ دلدل بلکہ ایک قابلِ حصول منزل ہے۔ ہر وہ شخص جو
مضبوط ارادے کے ساتھ اس مضمون کو اپنا لے گا ، اپنی زندگی میں اسی لمحے سے
فرق محسوس کرلے گا۔ ہم گلشنِ حیات میں کینسر کے اس ناسور کی نشان دہی کیے
دیتے ہیں اور علاج کے لیے یقینی نسخہ بھی بتائے دیتے ہیں۔
Labels:
Life Style
,
Self Helf
,
Syed Samar Ahmed
,
سماجی بہبود
,
سید ثمر احمد
,
معاشرت
Friday, May 31, 2013
کلیان سن دھرم - آج کا حاتم طائی
جناب کلیان سن دھرم (Kalayanasundaram) نے پینتیس سال تک بطور لائیبریرین کام کیا ہے۔ انہوں نےلٹریچر اور ہسٹری کے مضمون میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ اِن تمام سالوں میں وہ اپنی ساری کی ساری ماہانہ تنخواہ ضرورت مندوں پر خرچ کرتے رہے۔ اپنی تنخواہ کا ایک دھیلہ بھی وہ اپنے اوپر خرچ کرنا حرام سمجھتے رہے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ ایک ہوٹل میں بیرے کا کام بھی کرتے رہے۔ اِس کے علاوہ بھی وہ مختلف چھوٹے چھوٹے کام کر کے اپنی ضروریات پوری کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پنشن کی رقم تک ضرورت مندوں پر خرچ کر دی۔ یاد رہے اُن کی پنشن کی رقم تقریباً دس لاکھ روپے بنتی ہے۔ یہ اپنا جسم اور آنکھیں تک عطیہ کر چکے ہیں۔
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)






