Showing posts with label سیاست. Show all posts
Showing posts with label سیاست. Show all posts

Sunday, April 12, 2015

راشد نسیم صاحب - عمران زاہد کے قلم سے



راشد نسیم صاحب جو قومی اسمبلی کے حلقہ 246 سے ضمنی الیکشن لڑ رہے ہیں، اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلٰی رہ چکے ہیں۔ جب ہم 88ء میں جمعیت میں داخل ہوئے تب سراج صاحب ناظمِ اعلیٰ تھے۔ ان سے پہلے اعجاز چوہدری صاحب، امیر العظیم صاحب اور راشد نسیم صاحب ناظمِ اعلٰی رہ چکے تھے۔ سراج صاحب کے بعد، اویس قاسم صاحب، وقاص جعفری صاحب، اظہار الحق اور انجینئیر نعیم الرحمٰن صاحب ناظم اعلٰی بنے۔

Tuesday, November 25, 2014

جماعتِ اسلامی کے سالانہ اجتماع میں کچھ وقت - عمران زاہد کے قلم سے



کئی دوستوں کی معیت اور کشش کے سبب جماعت کے سالانہ اجتماع میں جانے کا پکا پروگرام تھا لیکن ہماری یونیورسٹی کے کانوکیشن نے، جو انہی تاریخوں میں منعقد ہوا، اسے تقریباً ناممکن بنا دیا۔   گو فیس بک کے ذریعے پتہ چلتا رہا کہ اجتماعِ عام میں لاکھوں لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک سے مندوبین کا اجلاس ہوا۔ خواتین کا ایک علیحدہ سے پروگرام ہوا۔ نوجوانوں کا ایک کنونشن بھی ہوا ،  جس میں  جمعیت والوں نے ایک ڈرامہ بھی پیش کیا۔ سوشل میڈیا کیمپ کا خاصا چرچا تھا۔ فیس بک پہ ہی اس میں موجود سہولتوں کے بارے میں پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اردو بلاگرز  جن میں ایم بلال بھی شامل ہیں ان کے سوشل میڈیا کیمپ کے وزٹ کی خبر بھی پہنچی۔  اسی طرح کی مزید کئی سرگرمیوں کی خبریں پہنچتی رہی تھیں لیکن ان میں عملاً شریک ہونا ناممکن تھا۔  تئیس نومبرکو اجتماع کا آخری دن تھا۔بائیس کی شام کو کانوکیشن سے فارغ ہوا تو  برادرم الیاس انصاری  نے  دعوت دی کہ آخری دن اکٹھے چلا جائے۔ میں نے ان کی دعوت پہ لبیک کہا۔ سوچا چلو اسی طرح سے انگلی کٹا کے شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

Tuesday, November 4, 2014

عمران خان کے نواز شریفی ہتھکنڈے - عمران زاہد کے قلم سے


میاں نواز شریف ماضی میں اپنے اتحادیوں کی سبکی کا باعث بنتے رہے ہیں بلکہ یہ رویہ ان کی اہم سیاسی حکمت عملی بن چکا ہے۔ چانکیہ کوٹلیا کی فلاسفی کہیں یا میکاولی کے اصول کہیں، سیاسی کامیابی کے لیے ایسے ہی طریقے بیان کیے گئے ہیں کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لو اور ضرورت نہ ہو تو باپ کو بھی گڑھے میں ڈال دو۔ عمران خان صاحب بھی اسی روش پر گامزن ہیں۔ موجودہ دھرنے  کے دوران قادری صاحب اور عمران خان صاحب کے درمیان طے شدہ باتوں سے خان صاحب کا نظریہ ضرورت کے تحت انحراف اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس ضمن میں بہت سی  باتیں تو علامہ طاہرالقادری کے حوالے سے میڈیا میں آ چکی ہیں۔ وہ بیچارے مایوس ہو کر خان صاحب کا ساتھ ہی چھوڑ گئے۔

Sunday, July 20, 2014

پاکستانی سیاست کا چہرہ بدلنے والے تین سیاستدان - عمران زاہد کے قلم سے

  پاکستان کی سیاست میں تین ایسے کردار ہیں ، جو پاکستان کے سیاسی ماحول میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا باعث بنے  ہیں۔ ان تبدیلیوں کے دور رس اثرات ہماری سیاست  کو ہر طرح سے متاثر کر چکے ہیں۔ ان سے نہ صرف سیاست، بلکہ ہمارا معاشرہ اور  پور ا نظام ِ حکومت ہی متاثر ہو چکا ہے ۔    ان میں سے کچھ اثرات مثبت ہیں اور کچھ منفی ہیں۔ میری کوشش ہے کہ ان اثرات کو مختصراً بیان کیا جائے۔

Friday, June 20, 2014

خداوندا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں - عمران زاہد کے قلم سے


مولانا علامہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے اکنامکس کے استاد محترم شاہد صدیق صاحب بہت یاد آتے ہیں۔  پڑھاتے تو وہ اکنامکس تھے لیکن ساتھ ساتھ بر محل اقوال اور اشعار بھی سناتے جاتے تھے۔ ان کی ایک بہت خاص بات یہ تھی کہ وہ دو زبانوں میں لیکچر دیتے تھے۔ ایک فقرہ انگریزی میں ادا کرتے تھے، پھر اس کو اردو میں ادا کرتے تھے۔ ان کا ہر فقرہ نگینے میں جڑا ہوا ہوتا تھا۔ ہر جملہ اتنا ٹھہر ٹھہر کے ادا کرتے کہ اس کو آرام سے لکھا جا سکتا تھا۔ ان کا جملہ کہنے کا انداز اتنا دلکش ہوتا تھا کہ میں اکثر ان کے چہرے پر نظریں جمائے ان کو بولتا ہوا دیکھا کرتا تھا اور ان کو دیکھنے سے جی نہیں بھرتا تھا۔ ان کے چہرے پر گھنی مونچھیں (بالکل آفتاب اقبال کی مونچھوں جیسی) تھیں، جو ان پر بہت بھلی لگتی تھیں۔ میرا اللہ میرے استاد محترم کو خوش رکھے اور انہیں اپنی بے پناہ رحمتوں کے حصار میں رکھے۔ آمین۔

Monday, June 16, 2014

بجٹ والی مائی - عمران زاہد کے قلم سے


کچھ عرصہ ہوا کہ ہمارے اکاؤنٹس کے افسرِ اعلیٰ جناب ساجد صاحب سے بات چیت ہو رہی تھی۔ فرمانے لگے کہ ان کی فیلڈ میں  اس اکاؤنٹنٹ کو نااہل مانا جاتا ہے جو کھاتوں میں منافع دکھائے۔ خسارہ دکھانے والا اکاؤنٹنت ہی با صلاحیت مانا جاتا ہے۔ نہ تو ہمیں اکاؤنٹینسی کے شعبے سے کچھ لینا دینا ہے اور ظاہر ہے یہ ان کا پیشہ ہے اور وہ اس کے حسن و قبح کو ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہم نہ ہی ان کے اس خسارے والے اصول پہ علمی بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی یہ بات اس وقت شدت سے یاد آئی جب ہمیں وفاقی و صوبائی وزراء خزانہ کے خسارے والے بجٹ سننے کو ملے۔

Sunday, March 9, 2014

سعودی حکومت نے الاخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا - جناب عطاء سراجی کے قلم سے


وہ یہی دن تهے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم اپنے تعلیمی اداروں کے نصاب میں الاخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا رحمۃ اللہ اور دوسرے اخوانی عمائدین کی کتابیں شامل کئے ہوئے تهی شائد کہ اس وقت یہودیوں کو الاخوان المسلمون سے اس قدر خوف لاحق نہیں تها اور سعودی حکمرانوں میں اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھنے والے بهی کچھ افراد موجود تهے، اور یہ بهی دن آیا ہے کہ انهی کتابوں کے پڑھنے والے اور اسی سوچ کے حامل افراد کو صرف اس سوچ کے قائل ہونے کی بنا پر دہشتگرد قرار دے کر پابندی لگائی گئی ہے۔

Tuesday, December 24, 2013

جماعت اسلامی پنجاب کا المیہ - جناب زاہد مصطفیٰ کے قلم سے



2013 کے انتخابات میں جماعت اسلامی کی پورے ملک میں اور خاص طور پر پنجاب میں بدترین شکست اس کارکنان کے لیے  المیہ اور پارٹی کیلئے حادثہ سے کم نہیں . شاید جماعت اسلامی پنجاب کی تاریخ میں اس سے بدترین شکست شاید ہی ہو۔

Sunday, December 22, 2013

پاکستان میں بجلی کے بحران پر ہلکی پھلکی گپ شپ - عمران زاہد کے قلم سے



سعید صاحب ہمارے فیملی فرینڈ ہیں۔ وہ میرے والد صاحب مرحوم کے ساتھ ہی واپڈا میں کام کرتے تھے۔ ہم کافی عرصہ ایک ہی کالونی میں ساتھ ساتھ رہتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا تعلق ہمارے گھرانے سے ایک دوست اور رشتہ دار کا تھا۔ وہ ابھی پچھلے سال ہی واپڈا سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ کافی سالوں بعد ہمارے ہاں بمعہ اہلیہ تشریف لائے۔

ان سے بجلی کے مسئلے پر بات چیت ہوئی، اس کا خلاصہ یہ ہے:

Sunday, September 29, 2013

نعرہ بازی جاری ہے - جناب احمد شاہین کے قلم سے


چند روز قبل نعرے بازی سے متعلق ذاتی مشاہدات پر مبنی ایک ہلکی پھلکی تحریر لکھی تو جیسے "چپکے سے ویرانے میں بہار آجائے" یار دوستوں نے ایس ایم ایس، ای میلز اور کمنٹس کے ذریعے اپنی رائے کا خوب "ڈٹ" کر اظہار کیا۔ یہاں تک کہ چند جوشیلے جوا نوں نے تو اپنا قیمتی بیلنس اس "پھسڈی" سی تحریر پر قربان کر کے حاتم طائی کو بھی "للکار کے کہہ دو۔ ۔ ۔ زندہ ہے!" والا نعرہ سنا دیا۔ بیشتر احباب کا کہنا ہے کہ کالم میں تحریر کئے گئے نعرے بلاشبہ ان کی یادوں میں محفوظ ہیں لیکن کیا ہمارے نوجوان اتنے ہی" کند ذہن " ہو چکے ہیں کہ پچھلے 15،20 سالوں میں کوئی نیا نعرہ تخلیق نہ کرسکے۔  یا پھر آپ (یعنی کہ  راقم) نئے "ٹرینڈز" سے ناواقف ہیں۔ اور چیلنج کیا گیا کہ صاحب اگر صحافت یا کالم نگاری کا شوق ہے تو کچھ اچھوتا پیش کرو۔

Monday, September 16, 2013

اک تاریخ نہاں ہے نعروں میں ۔ جناب احمد شاہین کے قلم سے


اگر آپ نے زمانہ طالبعلمی کسی سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں گزارا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کے کان نعروں سے محروم رہے ہوں۔ خوشی کا موقع ہو یا غمی و افسوس کا، انتظامیہ سے چپقلش پیدا ہوجائے یا ادارے کے دو برتن آپس میں ہی ٹکرا جائیں، سب سے پہلے بلند ہونے والی صدا یقینا ایک نعرہ ہوتی ہے اور اس کے بعد "دے مار، ساڑھے چار" خیر یہ مضمون کسی چٹ پٹے پھڈے کا احوال سنانے کیلئے تو تحریر نہیں کیا جارہا  بلکہ کوشش ہے کہ دور طالب علمی  کی یادوں کو کرید کر ذرا "نعرہ بازی" کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔

Wednesday, August 21, 2013

ہم نے وہ دور دیکھا ہے - جناب سجاد میر کے قلم سے


ارادہ تو نہیں تھا کہ بھٹو نامے کے مزید ابواب رقم کرتا، مگر دوست یار پرانے زخم تازہ ہونے سے ایسے اچھلے ہیں کہ ہر کوئی نئی بات یاد دلا رہا ہے۔ ہمارے ایک پبلشر دوست نے تو اس موضوع پر کتاب لکھنے کا مطالبہ کر دیا ہے کہ یہ کوئی ذاتی دکھوں کی کتھا نہیں اس قوم کی تباہی کی داستان ہے۔ یہ استحقاق تو دراصل برادرم مجیب شامی صاحب (خبردارجواب اسے کتابت کی غلطی سے مجیب نظامی لکھا گیا) کا ہے، مگر کوئی تو آئے جو اس راکھ کو کرید کر تاریخ کے چند تاریک باب روشن کرے۔

Monday, August 19, 2013

پیارے انقلابیو، منہ مت کھلواؤ - جناب سجاد میر کے قلم سے


ہمارے انقلابی بھائی مجاہد بریلوی نے کیا لکھ دیا کہ ٹیلیفون لائنوں کا تانتا بندھ گیا کہ اب کی بار جانے نہ پائے۔ خیر اس عزیز کو کیا کہنا، مگر دو چار تاریخی مغالطے ہیں جنہیں رفع کرنا ضروری ہے۔ ہمارے بائیں بازو کے ڈنڈی مار تاریخ کو ضیاء الحق سے شروع کرتے ہیں اور ایسی گرد اڑاتے ہیں کہ بھٹو شاہی کے کرتوت اس دھول میں چھپ جاتے ہیں۔

Friday, August 9, 2013

یہودی ایجنٹ - جناب سہراب واصل کے قلم سے


اسلام کے دورِ اول سے لے کر آج تک امت کے مختلف طبقوں اور افراد میں فکر ونظر ، سیاسی مسائل اور رائے کا اختلاف ہوتاچلا آ رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی بنیاد اگرخلوص، تعمیر اور نیک نیتی پر ہو تو اس سے جمود اورتعطل ختم ہوتا ہے اور فکرونظر کی جَلا مل کر ترقی کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں ۔مگر جس دور سے ہم گذررہے ہیں اس میں اختلاف اختلاف نہیں رہا بلکہ مخالفت دشمنی اور بغض تک ترقی کرگیا ہے ۔آج کل کسی سے اختلاف کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اس کی دشمنی مول لی ہے سیاسی اور مذہبی دونوں محاذوں پر اختلاف مخالفت کا نام ہے سیاسی اختلاف کیجئے تو غدار، انتہاپسند، یہودی ایجنٹ اور تخریبی ہونے کا لقب پائیے اور اگر دینی اختلاف ہو تو اپنے متعلق کافر ، مشرک، بے دین، گمراہ اور زندیق جیسے خطابات سننے کو تیار رہیئے۔

Tuesday, July 30, 2013

وزیر صاحبہ! آیئے چوبیس گھنٹے ایک دوسرے کے قالب میں گزار کر دیکھتے ہیں


عزیزی بیٹرس آسک!

بہت سی وجوہات ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بتاتی ہیں۔ آپ پچاس کی دہائی کے وسط میں پیدا ہوئیں، میری پیدائش ستر کے عشرے کے آواخر میں ہوئی۔ آپ ایک خاتون ہیں، میں ایک مرد ہوں۔ آپ سیاستدان ہیں، میں ایک مصنف ہوں۔ لیکن ہمارے درمیان کچھ چیزیں مشترک بھی ہیں۔ ہم دونوں نے بین الاقوامی اقتصادیات کا مضمون پڑھا ہے۔ (اور دونوں ہی ڈگری حاصل کرنے میں ناکام رہے) ہم دونوں کے بالوں کا اسٹائل تقریباً ایک جیسا ہے (گو ہمارے بالوںکا رنگ مختلف ہے)۔

Saturday, July 27, 2013

نواز لیگ نائن زیرو یاترا - جناب زاہد مصطفی کے قلم سے



اگر جذبات سے لوگ ذرا ہٹ کے سوچیں تو مانیں گے کہ مسلم لیگ کے پاس نائن زیرو جانے اور MQM کے پاس نون لیگیوں پر گل پاشی کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں تھا- بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ نواز لیگ نے نائن زیرو آنے میں کچھ تاخیر کی اور وجہ تاخیر یہی تھی کہ MQM کا دماغ لندن ڈرامے کے ذریعے ٹھیک کیا جائے اور ان کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملات طے کیے جائیں اس لیے لندن ڈرامے کی کچھ اقساط پیش کرکے باقی کی اقساط تکنیکی خرابی کی بنیاد بنا کر موخر کردی جائیں گی۔

Tuesday, July 2, 2013

الطاف بھائی پریشان نہ ہوں! - جناب ابو نثر کے قلم سے


وطن عزیز پاکستان میں قانون کی عمل داری کا جو عالم ہے اُس کے پیشِ نظر تو اب تقریباً ہر صوبائی وزیر قانون کے عہدے کا نام بدل کر ’’وزیر لاقانونیت‘‘ رکھ دینا چاہیے۔بالخصوص ہمارے شہر کراچی کے شہری جو پہلے قانون کے اطاعت گزار ہوتے تھے، اب ’’لاقانونیت‘‘ کے فرماں بردار بننے پر مجبور ہوگئے ہیں۔تاہم پچھلے دنوں ہمارے صوبہ پنجاب کے ’’وزیر لاقانونیت‘‘نے(جو فی الحال وزیر قانون ہی کہے جارہے ہیں) ایک بڑی قانونی اور بہت پتے کی بات کہی ہے۔

Wednesday, June 5, 2013

ذوالفقارعلی بھٹو کا دوسرا رُخ


جناب ذوالفقار علی بھٹو بلاشبہ ہماری تاریخ کے ایک جینیئس مگر متنازع کردار ہیں۔ جہاں ان سے انتہا کی حد تک پیار کرنے والے لوگ موجود ہیں وہاں بے انتہا نفرت کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ 

Saturday, May 18, 2013

محترمہ خوش بخت شجاعت کے بارے میں ابو نثر صاحب کی یادیں


ہمارے قارئین جانتے ہیں کہ محترمہ خوش بخت شجاعت صاحبہ ہمارے لڑکپن کی خوبصورت یادوں میں سے ایک ہیں۔ اُن کے بارے میں لکھا گیا میرا گذشتہ مضمون کافی پڑھا گیا۔ جس کے لیے ہم اپنے قارئین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

Tuesday, May 14, 2013

جماعتِ اسلامی بلوچستان کے ایک کارکن کی جدوجہد کا احوال

سید نورمحمد شاہ، ضلع ہرنائی، بلوچستان، پاکستان

پیارے قارئین۔ 
السلامُ علیکم۔

بلوچستان کا مسئلہ اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن پر سوار ہے۔ غیروں کی ریشہ دوانیوں اور اپنوں کی حماقتوں کے سبب بلوچستان ایک پُلِ صراط پر کھڑا ہے۔ ایک چھوٹی سی چنگاری ماحول میں موجود بارود کو بھک سے اڑانی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے لوگ اِن چیزوں سے پہلے سے ہی واقف ہیں، مشرقی پاکستان کا سانحہ ہمارے لاشعور کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔
اتنے نازک حالات میں ضرورت اس اَمر کی ہے کہ بلوچستان میں وفاق کو مضبوط کرنے والی پارٹیاں طاقت پکڑیں۔ جماعتِ اسلامی ایک ایسی ہی وفاقی پارٹی ہے۔ اس کا منشور، اس کے کارکن، اس کی قیادت غرض ہر چیز نظریہ پاکستان ، اسلام اور سالمیتِ پاکستان کے جذبے سے معمور ہے۔

نیچے دی گئی تحریر جماعتِ اسلامی پلوچستان، ضلع ہرنائی کے ایک کارکن کی جدوجہد کا احوال ہے۔ ان کا نام سید نور محمد شاہ ہے۔ اپنا مزید تعارف انہوں نے اپنی تحریر میں ہی کروا دیا ہے۔ اُن کی یہ تحریر اُن کی فیس بُک وال سے لی گئی ہے۔ اس کا مقصد ایک تو آپ کو بلوچستان کے حالات کی ہلکی سی جھلک دکھانا ہے اور دوسرا اِن کٹھن حالات میں اہلِ حق کی جدو جہد کی تصویر دکھانا ہے۔ ان کے حالات پڑھ کر بلا اختیار یہ کہنے کا دل کرتا ہے کہ "ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ"۔  لیجیے ملاحظہ فرمائیے ان کی خوبصورت تحریر۔ 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...