Showing posts with label حالاتِ حاضرہ. Show all posts
Showing posts with label حالاتِ حاضرہ. Show all posts
Saturday, June 27, 2015
تین غدار، تین کہانیاں - عمران زاہد کے قلم سے
Labels:
Bangladesh
,
History
,
پاکستان
,
تاریخ
,
حالاتِ حاضرہ
,
عالمی سیاست
,
عمران زاہد
Friday, May 15, 2015
ٹی وی ہمارے بچپن کا ۔ عمران زاہد کے قلم سے
پہلا ٹی وی جو ہم نے دیکھا وہ ہمارے ہمسائیوں کا تھا۔
بات بہت پرانی نہیں ہے، یہی کوئی اَسّی کی دہائی کی بات ہے۔
اس دور میں ہم ریڈیو سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمیں روزانہ شام کو بچوں کی کہانی سننے کا لپکا تھا۔ کہانی کے بعد بچوں کا گیت ضرور لگتا تھا۔ چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے ریڈیو پہ ہی سنا تھا۔ ہم بہن بھائیوں میں ریڈیو پہ قبضہ جمانے کا مقابلہ چلتا تھا۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ریڈیو کو اپنی گود میں رکھ کر کہانی سنے۔ اس طرح سے آواز صاف سنائی دیتی تھی۔
Labels:
Imran Zahid
,
Media
,
Politics
,
تہذیب
,
حالاتِ حاضرہ
,
خودنوشت
,
عبدالغفار عزیز
,
عمران زاہد
,
کہانی
,
معاشرت
,
میڈیا
Sunday, April 12, 2015
راشد نسیم صاحب - عمران زاہد کے قلم سے
راشد نسیم صاحب جو قومی اسمبلی کے حلقہ 246 سے ضمنی الیکشن لڑ رہے ہیں، اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلٰی رہ چکے ہیں۔ جب ہم 88ء میں جمعیت میں داخل ہوئے تب سراج صاحب ناظمِ اعلیٰ تھے۔ ان سے پہلے اعجاز چوہدری صاحب، امیر العظیم صاحب اور راشد نسیم صاحب ناظمِ اعلٰی رہ چکے تھے۔ سراج صاحب کے بعد، اویس قاسم صاحب، وقاص جعفری صاحب، اظہار الحق اور انجینئیر نعیم الرحمٰن صاحب ناظم اعلٰی بنے۔
Labels:
Pakistan
,
Politics
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
شخصیت
,
عمران زاہد
Tuesday, November 25, 2014
جماعتِ اسلامی کے سالانہ اجتماع میں کچھ وقت - عمران زاہد کے قلم سے
کئی دوستوں کی معیت اور کشش کے سبب جماعت کے سالانہ اجتماع میں جانے کا پکا پروگرام تھا لیکن ہماری یونیورسٹی کے کانوکیشن نے، جو انہی تاریخوں میں منعقد ہوا، اسے تقریباً ناممکن بنا دیا۔ گو فیس بک کے ذریعے پتہ چلتا رہا کہ اجتماعِ عام میں لاکھوں لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک سے مندوبین کا اجلاس ہوا۔ خواتین کا ایک علیحدہ سے پروگرام ہوا۔ نوجوانوں کا ایک کنونشن بھی ہوا ، جس میں جمعیت والوں نے ایک ڈرامہ بھی پیش کیا۔ سوشل میڈیا کیمپ کا خاصا چرچا تھا۔ فیس بک پہ ہی اس میں موجود سہولتوں کے بارے میں پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اردو بلاگرز جن میں ایم بلال بھی شامل ہیں ان کے سوشل میڈیا کیمپ کے وزٹ کی خبر بھی پہنچی۔ اسی طرح کی مزید کئی سرگرمیوں کی خبریں پہنچتی رہی تھیں لیکن ان میں عملاً شریک ہونا ناممکن تھا۔ تئیس نومبرکو اجتماع کا آخری دن تھا۔بائیس کی شام کو کانوکیشن سے فارغ ہوا تو برادرم الیاس انصاری نے دعوت دی کہ آخری دن اکٹھے چلا جائے۔ میں نے ان کی دعوت پہ لبیک کہا۔ سوچا چلو اسی طرح سے انگلی کٹا کے شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔
Labels:
Imran Zahid
,
JI
,
Pakistan
,
Politics
,
اسلام
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
Tuesday, November 4, 2014
عمران خان کے نواز شریفی ہتھکنڈے - عمران زاہد کے قلم سے
میاں نواز شریف ماضی میں اپنے اتحادیوں کی سبکی کا باعث بنتے رہے ہیں بلکہ یہ رویہ ان کی اہم سیاسی حکمت عملی بن چکا ہے۔ چانکیہ کوٹلیا کی فلاسفی کہیں یا میکاولی کے اصول کہیں، سیاسی کامیابی کے لیے ایسے ہی طریقے بیان کیے گئے ہیں کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لو اور ضرورت نہ ہو تو باپ کو بھی گڑھے میں ڈال دو۔ عمران خان صاحب بھی اسی روش پر گامزن ہیں۔ موجودہ دھرنے کے دوران قادری صاحب اور عمران خان صاحب کے درمیان طے شدہ باتوں سے خان صاحب کا نظریہ ضرورت کے تحت انحراف اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس ضمن میں بہت سی باتیں تو علامہ طاہرالقادری کے حوالے سے میڈیا میں آ چکی ہیں۔ وہ بیچارے مایوس ہو کر خان صاحب کا ساتھ ہی چھوڑ گئے۔
Labels:
Imran Khan
,
Imran Zahid
,
Jamaat e Islami
,
JI
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
طلبہ سیاست
,
عمران زاہد
Sunday, June 29, 2014
اپنا اپنا چاند - عمران زاہد کے قلم سے
چاند ہمیں ہمیشہ سے اچھا لگتا ہے۔ چونکہ ہماری والدہ کسی حقیقی بھائی سے محروم ہیں، اس لیے انہوں نے بچپن سے ہی چاند کو ہمارا ماموں بنا دیا تھا۔ اُس دور میں ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹوڈیو نمبر دو سے روزانہ شام کو بچوں کی کہانی اور نغمہ نشر ہوتا تھا، جس میں بچوں کا معروف نغمہ "چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے" اکثر چلایا جاتا تھا، جسے ہم بچے بہت شوق سے سنتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں شام سات بجے سے پہلے بچوں میں مقابلہ ہوتا تھا کہ کون ریڈیو کو گود میں لے کے بیٹھے گا۔ ہمارے شاعروں نے چاند پر ایسی ایسی شاعری لکھ دی ہے کہ انہیں سن کر چاند خود بھی شرمائے۔ ابنِ انشاء نے چودھویں کی رات کے فسوں خیز ماحول کے پسِ منظر میں اپنی محبوب کا ایسا تذکرہ کیا ہے کہ وہ غزل اردو شاعری کی کلاسیکل غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
Labels:
اسلام
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
مسلم دنیا
Friday, June 20, 2014
خداوندا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں - عمران زاہد کے قلم سے
مولانا علامہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے اکنامکس کے استاد محترم شاہد صدیق صاحب بہت یاد آتے ہیں۔ پڑھاتے تو وہ اکنامکس تھے لیکن ساتھ ساتھ بر محل اقوال اور اشعار بھی سناتے جاتے تھے۔ ان کی ایک بہت خاص بات یہ تھی کہ وہ دو زبانوں میں لیکچر دیتے تھے۔ ایک فقرہ انگریزی میں ادا کرتے تھے، پھر اس کو اردو میں ادا کرتے تھے۔ ان کا ہر فقرہ نگینے میں جڑا ہوا ہوتا تھا۔ ہر جملہ اتنا ٹھہر ٹھہر کے ادا کرتے کہ اس کو آرام سے لکھا جا سکتا تھا۔ ان کا جملہ کہنے کا انداز اتنا دلکش ہوتا تھا کہ میں اکثر ان کے چہرے پر نظریں جمائے ان کو بولتا ہوا دیکھا کرتا تھا اور ان کو دیکھنے سے جی نہیں بھرتا تھا۔ ان کے چہرے پر گھنی مونچھیں (بالکل آفتاب اقبال کی مونچھوں جیسی) تھیں، جو ان پر بہت بھلی لگتی تھیں۔ میرا اللہ میرے استاد محترم کو خوش رکھے اور انہیں اپنی بے پناہ رحمتوں کے حصار میں رکھے۔ آمین۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
Monday, June 16, 2014
بجٹ والی مائی - عمران زاہد کے قلم سے
کچھ عرصہ ہوا کہ ہمارے اکاؤنٹس کے افسرِ اعلیٰ جناب ساجد صاحب سے بات چیت ہو رہی تھی۔ فرمانے لگے کہ ان کی فیلڈ میں اس اکاؤنٹنٹ کو نااہل مانا جاتا ہے جو کھاتوں میں منافع دکھائے۔ خسارہ دکھانے والا اکاؤنٹنت ہی با صلاحیت مانا جاتا ہے۔ نہ تو ہمیں اکاؤنٹینسی کے شعبے سے کچھ لینا دینا ہے اور ظاہر ہے یہ ان کا پیشہ ہے اور وہ اس کے حسن و قبح کو ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہم نہ ہی ان کے اس خسارے والے اصول پہ علمی بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی یہ بات اس وقت شدت سے یاد آئی جب ہمیں وفاقی و صوبائی وزراء خزانہ کے خسارے والے بجٹ سننے کو ملے۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
معاشرت
Thursday, June 12, 2014
آئی ایل ایم اور یو ایم ٹی میں میرے پندرہ سال - عمران زاہد کے قلم سے
شام کے وقت مجھے گھر سے کال آئی کہ کیا آپ نے گھر نہیں آنا؟
میں نے جواب دیا کہ نہیں، آج دیر ہو جائے گی کیونکہ آج ہماری سالگرہ ہے۔
بیگم بولیں کہ ہماری سالگرہ آج تو نہیں۔
میں نے کہا، بھئی، آج ہمارے آئی ایل ایم اور یو ایم ٹی کی سالگرہ ہے۔
بیگم جواباً بولیں، جناب، یو ایم ٹی کو موجودہ مقام پر پہنچانے میں میرا بھی بڑا حصہ ہے۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
شخصیت
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
Thursday, June 5, 2014
وہ ایک لمحہ - عمران زاہد کے قلم سے
Labels:
حالاتِ حاضرہ
,
شخصیت
,
طلبہ سیاست
,
عمران زاہد
,
مسلم دنیا
,
معاشرت
Wednesday, May 14, 2014
اچھی نرسیں - عمران زاہد کے قلم سے
کل نرسوں کا عالمی دن منایا گیا۔ عالمی دن منانے کا رواج بھی خوب ہے۔ اب تو شاید 365 دن کسی نہ کسی سلسلے میں منائے جاتے ہوں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ کہیں کوئی ایسا وقت نہ آ جائے کہ ایک ایک دن دو دو چیزوں کے لیے منایا جائے۔ جہاں باقی ہر چیز میں سیچوریشن ہو جاتی ہے تو عالمی ایام میں کیوں نہیں، سال تو 365 دنوں سے بڑھنے سے رہا۔
Labels:
حالاتِ حاضرہ
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
معاشرت
Wednesday, March 5, 2014
خرم مراد میموریل لیکچر 2014 - چند تاثرات - عمران زاہد کے قلم سے
جناب خرم مراد مرحوم جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے ایک نمایاں راہنما تھے۔ زمانہ طالبعلمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلٰی رہے اور اپنی قران فہمی کے لیے بہت جانے پہچانے جاتے تھے۔ جماعتِ اسلامی میں فکرِ تازہ کا ایک استعارہ تھے۔ لیکن خدا نے ان کو مہلت نہ دی کہ وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنا سکتے۔ اُن کی وفات بلا شبہ تحریکِ اسلامی کے لیے بھاری نقصان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُن کی وفات کے بعد، 2008 سے "خرم مراد میموریل لیکچر" کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ہر سال کسی نہ کسی سکالر کو بلایا جاتا ہے اور اسلام اور اسلامی تحریکات، موجودہ دور کے چیلنجز اور متعلقہ موضوعات پر عالمانہ خطبہ پیش کیا جاتا ہے۔
Labels:
JI
,
Pakistan
,
اسلام
,
تقریب
,
حالاتِ حاضرہ
,
طلبہ سیاست
,
عمران زاہد
Sunday, December 22, 2013
پاکستان میں بجلی کے بحران پر ہلکی پھلکی گپ شپ - عمران زاہد کے قلم سے
سعید صاحب ہمارے فیملی فرینڈ ہیں۔ وہ میرے والد صاحب مرحوم کے ساتھ ہی واپڈا میں کام کرتے تھے۔ ہم کافی عرصہ ایک ہی کالونی میں ساتھ ساتھ رہتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا تعلق ہمارے گھرانے سے ایک دوست اور رشتہ دار کا تھا۔ وہ ابھی پچھلے سال ہی واپڈا سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ کافی سالوں بعد ہمارے ہاں بمعہ اہلیہ تشریف لائے۔
ان سے بجلی کے مسئلے پر بات چیت ہوئی، اس کا خلاصہ یہ ہے:
Labels:
Pakistan
,
PPP
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
Thursday, October 10, 2013
داستان بکرافروشوں کی - عمران زاہد کے قلم سے
پچھلی بڑی عید کا یہ یادگار واقعہ ہمارے ماموں جان نے ہمیں سنایا۔ انہیں کی زبانی یہ واقعہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
شیخ صاحب ہمارے ہمسائے ہیں ۔ اتنے زیادہ ذہین، موقعہ شناس اور کاروباری ہیں کہ ان کی اس ذہانت کا خمیازہ اکثر ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ ہماری بیگم اکثر ہمیں دق کرتی رہتی ہیں اور ہماری کاروباری اور پیشہ وارانہ کامیابیوں کو ان کے مقابلے میں ہیچ گردانتی ہیں۔ ہمارے سودا ، پھل اور دوسری چیزیں خریدنے کے ہنر کو بھی اکثر تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ شیخ صاحب گویا ان کے لیے ایک نمونہ ہیں جو گھر گرہستی کے معاملات سے لے کر مارکیٹ، بازار اور کاروباری دنیا کے معاملات تک کے ماہر ہیں ۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
حیوانات
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
مزاح
,
مغربی تہذیب
Tuesday, September 17, 2013
آج کے مسلمان نوجوان کے لیے آئیڈیلز - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے
ہمیشہ اصلاحی اور بدی کی قوتوں کے ہر اول دستے کا کردار نوجوانوں نے نبھایا
ہے۔کیونکہ ان میں نام نہاد مصلحت نہیں ہوتی۔ یہ جس چیز کو صحیح سمجھتے ہیں
اسے کرنا چاہتے ہیں اور جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اسے مٹانا چاہتے ہیں۔ جو
گلیوں کے نکڑوں پہ کھڑے ہو کر آتے جاتوں پر آوازے کستے ہیں، منشیات کا
شکار ہیں، قبضے کرتے اور زندگیاں اجیرن کرتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ اور جو
صلاح و فلاح کی مجالس سجاتے ،مساجد کی رونق بڑھاتے ، رفاہی کاموں میں بڑھ
چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ گویا ایک معاشرہ اتناہی ترقی یافتہ
ہوگاجتنا اس کے نوجوان بامقصد ہوں گے۔
Labels:
اسلام
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سماجی بہبود
,
سید ثمر احمد
,
متفرق مضامین
,
مسلم دنیا
,
معاشرت
,
مغربی تہذیب
Sunday, August 25, 2013
اسلام اور سیکولر عناصر - جناب شاہنواز فاروقی کے قلم سے
ملاّعمر نے عید کے موقع پر جاری ہونے والے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جدید تعلیم عصر حاضر میں ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ملا عمر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ معاشرے میں تمام انسانوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان غیر ملکی قابض افواج کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے تاہم وہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات پر بھی آمادہ ہیں۔
Labels:
اسلام
,
حالاتِ حاضرہ
,
عالمی سیاست
,
مسلم دنیا
,
معاشرت
,
مغربی تہذیب
Tuesday, August 20, 2013
لبرل نظامِ تعلیم کا غیر ملکی ایجنڈا - پروفیسر نعیم قاسم کے قلم سے
پچھلے دنوں پاکستان کی مشہور صحافی نجم سیٹھی صاحب نے اپنے ٹی وی پروگرام "آپس کی بات" میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی طرف سے سکولوں کے نصابِ تعلیم میں این جی اوز کی سیکولر اصلاحات کو رد کرنے اور اسلامی اصلاحات کو قبول کرنے کے پر خاصی تنقید فرمائی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے اس سارے معاملے کا ذمہ دار جماعتِ اسلامی کو ٹھہرایا اور جماعت کے نظامِ تعلیم کے حوالے سے نظریات کی کافی شدت سے مخالفت کی۔ اس مخالفت میں وہ اتنی پستی میں اتر گئے کہ مضحکہ خیز مثالیں دینے لگے، مثلاً جماعتِ اسلامی کے تعلیمی وژن کو دو مجاہد جمع دو مجاہد برابر ہیں چارمجاہد جیسی حسابی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسلام کو تو کچھ نہیں کہہ سکے تو اِس کو "جماعتِ اسلامی کا اسلام" کہہ کے رد فرماتے رہے۔ یہ سیکولر اور لبرل لابی کا پرانا حربہ ہے۔ اس حربے سے وہ یہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی اسلام کی بات کرتے تو اس کو اسی کے نام سے موسوم کر کے شریعت کے نفاذ سے بچا جا سکے۔ مثلاً جماعت اسلامی کی جگہ اگر تحریکِ انصاف اسلامی اصلاحات کرنا چاہے گی تو اس کو "تحریکِ انصاف کا اسلام" کہہ کے رد کردیں گے۔ کل کلاں مولانا فضل الرحمٰن کوئی اسلامی اصلاح پیش کریں گے تو اس کو "مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام" کہہ کے رد کر دیں گے۔ نواز شریف صاحب پہ تو پہلے ہی امیرالمومنین کی پھبتی کسی جاتی ہے۔
Labels:
Jamaat e Islami
,
JI
,
JUI
,
Pakistan
,
اخباری مضمون
,
اسلام
,
پاکستان
,
پروفیسر نعیم قاسم
,
حالاتِ حاضرہ
,
معاشرت
,
مغربی تہذیب
Monday, August 19, 2013
پیارے انقلابیو، منہ مت کھلواؤ - جناب سجاد میر کے قلم سے
ہمارے انقلابی بھائی مجاہد بریلوی نے کیا لکھ دیا کہ ٹیلیفون لائنوں کا تانتا بندھ گیا کہ اب کی بار جانے نہ پائے۔ خیر اس عزیز کو کیا کہنا، مگر دو چار تاریخی مغالطے ہیں جنہیں رفع کرنا ضروری ہے۔ ہمارے بائیں بازو کے ڈنڈی مار تاریخ کو ضیاء الحق سے شروع کرتے ہیں اور ایسی گرد اڑاتے ہیں کہ بھٹو شاہی کے کرتوت اس دھول میں چھپ جاتے ہیں۔
Labels:
PPP
,
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
Friday, August 9, 2013
یہودی ایجنٹ - جناب سہراب واصل کے قلم سے
اسلام کے دورِ اول سے لے کر آج تک امت کے مختلف طبقوں اور افراد میں فکر ونظر ، سیاسی مسائل اور رائے کا اختلاف ہوتاچلا آ رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی بنیاد اگرخلوص، تعمیر اور نیک نیتی پر ہو تو اس سے جمود اورتعطل ختم ہوتا ہے اور فکرونظر کی جَلا مل کر ترقی کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں ۔مگر جس دور سے ہم گذررہے ہیں اس میں اختلاف اختلاف نہیں رہا بلکہ مخالفت دشمنی اور بغض تک ترقی کرگیا ہے ۔آج کل کسی سے اختلاف کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اس کی دشمنی مول لی ہے سیاسی اور مذہبی دونوں محاذوں پر اختلاف مخالفت کا نام ہے سیاسی اختلاف کیجئے تو غدار، انتہاپسند، یہودی ایجنٹ اور تخریبی ہونے کا لقب پائیے اور اگر دینی اختلاف ہو تو اپنے متعلق کافر ، مشرک، بے دین، گمراہ اور زندیق جیسے خطابات سننے کو تیار رہیئے۔
Labels:
Extremeism
,
Imran Khan
,
Jamaat e Islami
,
JUI
,
اسلام
,
جمعیت علمائے اسلام
,
حالاتِ حاضرہ
,
سہراب واصل
,
سیاست
,
متفرق مضامین
Tuesday, July 30, 2013
وزیر صاحبہ! آیئے چوبیس گھنٹے ایک دوسرے کے قالب میں گزار کر دیکھتے ہیں
عزیزی بیٹرس آسک!
بہت سی وجوہات ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بتاتی ہیں۔ آپ پچاس کی دہائی کے وسط میں پیدا ہوئیں، میری پیدائش ستر کے عشرے کے آواخر میں ہوئی۔ آپ ایک خاتون ہیں، میں ایک مرد ہوں۔ آپ سیاستدان ہیں، میں ایک مصنف ہوں۔ لیکن ہمارے درمیان کچھ چیزیں مشترک بھی ہیں۔ ہم دونوں نے بین الاقوامی اقتصادیات کا مضمون پڑھا ہے۔ (اور دونوں ہی ڈگری حاصل کرنے میں ناکام رہے) ہم دونوں کے بالوں کا اسٹائل تقریباً ایک جیسا ہے (گو ہمارے بالوںکا رنگ مختلف ہے)۔
Labels:
تہذیب
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
شخصیت
,
مغربی تہذیب
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)



















