Showing posts with label کہانی. Show all posts
Showing posts with label کہانی. Show all posts

Friday, May 15, 2015

ٹی وی ہمارے بچپن کا ۔ عمران زاہد کے قلم سے


پہلا ٹی وی جو ہم نے دیکھا  وہ ہمارے ہمسائیوں کا تھا۔ 
بات بہت پرانی نہیں ہے، یہی کوئی اَسّی کی دہائی کی بات ہے۔
اس دور میں ہم ریڈیو سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمیں  روزانہ شام کو بچوں کی کہانی سننے کا لپکا تھا۔ کہانی کے بعد بچوں کا گیت ضرور لگتا تھا۔ چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے ریڈیو پہ ہی سنا تھا۔ ہم بہن بھائیوں میں ریڈیو پہ قبضہ جمانے کا مقابلہ چلتا تھا۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ریڈیو کو اپنی گود میں رکھ کر کہانی سنے۔  اس طرح سے آواز صاف سنائی دیتی تھی۔

Wednesday, July 24, 2013

گھوم چکے ہم نگری نگری - جسٹس حاذق الخیری کی خود نوشت "جاگتے لمحے" سے ماخوذ


ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد مجھے ایل ایل بی کا امتحان بھی دینا تھا، جو چھ ماہ بعد تھا، چنانچہ میں نے ایم اے ہسٹری میں داخلہ لے لیا جس کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمود حسین تھے، وہ اس وقت شعبہ آرٹس کے ڈین بھی تھے، الیکشن کا چسکہ تو پڑ ہی چکا تھا، سوچا کہ کیوں نہ سیکرٹری ہسٹری سوسائٹی کا الیکشن لڑا جائے، اس دفعہ بھی وہ ترکیب کام آئی، یعنی لڑکیوں سے وعدہ لے لیا

Monday, June 24, 2013

پیاری ببلی - شررؔ جی کے قلم سے


آفس میں کام کی زیادتی نے مجھے آج شدید تھکا دیا تھا ۔ راحیل صاحب کی شادی تھی اور وہ چھٹیوں پر تھے جس وجہ سے میں ان کے بیک اپ پر ان کے کام کو بھی ہینڈل کر رہا تھا ۔ اور اُدھر گھر میں لوڈشیڈنگ کے عذاب نے بھی جینا محال کر رکھا تھا ۔ کافی دنوں سے صحیح طرح سے سو بھی نہیں پایا تھا ۔ پر آج میں نے تہیہ کرلیا تھا کہ گھر جا کر سیدھا چھت پر چلا جاؤں گا اور دو تین گھنٹے تو کم از کم ٹِکا کر نیند پوری کروں گا ۔

Thursday, May 30, 2013

پاکستانی دیگ


نقل ہے کہ ایک شہر میں ایک مست بابا آ گیا۔ آتے ہی اُس نے حکم دیا کہ ایک بہت بڑی دیگ لاؤ۔ دیگ آ گئی تو بولا، اس دیگ کے لائق ایک چولہا بناؤ، اس میں لکڑیاں رکھ کر بھانبنڑ لگا دو۔ چولہا جل گیا، مست نے حکم دیا کہ دیگ میں پانی بھر دو، اوپر ڈھکنا لگا دو، اسے چولہے پر رکھ دو۔ اگلی صبح انھوں نے دیگ کا ڈھکنا اُٹھایا تو دیکھا کہ وہ پلاؤ سے بھری ہوئی ہے۔ سارے شہر میں اعلان کر دیا گیا کہ حاجت مند آئیں، انھیں کھانا مفت تقسیم کیا جائے گا۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...