Showing posts with label معاشرت. Show all posts
Showing posts with label معاشرت. Show all posts

Friday, May 15, 2015

ٹی وی ہمارے بچپن کا ۔ عمران زاہد کے قلم سے


پہلا ٹی وی جو ہم نے دیکھا  وہ ہمارے ہمسائیوں کا تھا۔ 
بات بہت پرانی نہیں ہے، یہی کوئی اَسّی کی دہائی کی بات ہے۔
اس دور میں ہم ریڈیو سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمیں  روزانہ شام کو بچوں کی کہانی سننے کا لپکا تھا۔ کہانی کے بعد بچوں کا گیت ضرور لگتا تھا۔ چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے ریڈیو پہ ہی سنا تھا۔ ہم بہن بھائیوں میں ریڈیو پہ قبضہ جمانے کا مقابلہ چلتا تھا۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ریڈیو کو اپنی گود میں رکھ کر کہانی سنے۔  اس طرح سے آواز صاف سنائی دیتی تھی۔

Thursday, June 26, 2014

ایک واقعہ جس نے میری سوچ بدل دی - عمران زاہد کے قلم سے


یہ دو ہزار سات کی ایک صبح کی بات ہے۔ میں تیار ہو کر دفتر جانے کے لیے نکل رہا تھا۔ اسامہ اور حذیفہ، جو میرے جڑواں بیٹے ہیں، کی ڈھائی تین ماہ میں پیدائش متوقع تھی۔ مجھے  اہلیہ نے بتایا کہ کچھ دنوں سے انہیں دائیں جانب گردے کے مقام پہ ہلکی ہلکی درد محسوس ہو رہی ہے، گو ابھی اتنی سیریس نہیں ہے، لیکن پھر بھی کسی دن شام کو چیک کروا لیا جائے۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ آج شام کو ڈاکٹر کے ہاں چلیں گے۔ ابھی میں بیرونی دروازے کے پاس ہی پہنچا تھا کہ گھر سے لیجیو، پکڑیو، سنبھالیو کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔

Monday, June 16, 2014

بجٹ والی مائی - عمران زاہد کے قلم سے


کچھ عرصہ ہوا کہ ہمارے اکاؤنٹس کے افسرِ اعلیٰ جناب ساجد صاحب سے بات چیت ہو رہی تھی۔ فرمانے لگے کہ ان کی فیلڈ میں  اس اکاؤنٹنٹ کو نااہل مانا جاتا ہے جو کھاتوں میں منافع دکھائے۔ خسارہ دکھانے والا اکاؤنٹنت ہی با صلاحیت مانا جاتا ہے۔ نہ تو ہمیں اکاؤنٹینسی کے شعبے سے کچھ لینا دینا ہے اور ظاہر ہے یہ ان کا پیشہ ہے اور وہ اس کے حسن و قبح کو ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہم نہ ہی ان کے اس خسارے والے اصول پہ علمی بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی یہ بات اس وقت شدت سے یاد آئی جب ہمیں وفاقی و صوبائی وزراء خزانہ کے خسارے والے بجٹ سننے کو ملے۔

Thursday, June 5, 2014

وہ ایک لمحہ - عمران زاہد کے قلم سے


نصر اللہ شجیع، جو اپنے ایک طالبعلم کی جان بچاتے ہوئے دریائے کنہار کی موجوں کی نذر ہو گئے،  کو میں نہیں جانتا۔ لیکن اتنا میں بے دھڑک کہہ سکتا ہوں کہ وہ بلاشبہ ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ایسا میں ان کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں۔

Thursday, May 15, 2014

سونے کے دل والا آدمی - عمران زاہد کے قلم سے


ایک ایسا شخص جس کا دل سونے کا ہے۔ خالص سونے کا۔ 
اسے کسی کی تکلیف کا پتہ چلتا ہے تو وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ جو بن پڑتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ سب سے پہلے اپنی جیب میں جو ہوتا ہے نکال کے سامنے رکھ لیتا ہے اس کے بعد وہ اپنے دوستوں، عزیزوں، شاگردوں کو کہتا ہے کہ بھئی فلاں مصیبت زدہ کی مدد کرنی ہے۔ اللہ تعالٰی نے ایسی تاثیر دی ہے کہ پل بھر میں رقم جمع ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کا آپریشن ہونا تھا، چالیس ہزار کی رقم چاہیئے تھی۔ ایک دوست نے سوشل میڈیا پہ اس مریض کی ضرورت کے بارے میں شئیر کیا تو چند لمحوں میں ہی ایک بیرون ملک پرانے شاگرد نے پیسے بھجوا دیے۔ مون مارکیٹ میں دھماکہ ہوا تو نادار زخمیوں کے علاج معالجے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ہوپ والوں سے مصنوعی اعضاء کا بندوبست کروایا۔

Wednesday, May 14, 2014

اچھی نرسیں - عمران زاہد کے قلم سے


کل نرسوں کا عالمی دن منایا گیا۔ عالمی دن منانے کا رواج بھی خوب ہے۔ اب تو شاید 365 دن کسی نہ کسی سلسلے میں منائے جاتے ہوں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ کہیں کوئی ایسا وقت نہ آ جائے کہ ایک ایک دن دو دو چیزوں کے لیے منایا جائے۔ جہاں باقی ہر چیز میں سیچوریشن ہو جاتی ہے تو عالمی ایام میں کیوں نہیں، سال تو 365 دنوں سے بڑھنے سے رہا۔

Sunday, September 29, 2013

اسامہ بن لادن، سکھ پروفیسر، امریکی نوجوان اور ہمارا میڈیا


مسلمان بڑے انتہا پسند ہوتے ہیں۔ تہذیب سے عاری ہوتے ہیں۔ کسی ایک کا بدلہ دوسرے سےلیتے ہیں۔ تحقیق نہیں کرتے… غیر ذمہ دار ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن امریکی میڈیا اورحکمرانوں نے امریکیوں کو کیا بنادیا ہے اس کا اندازہ اب پڑھے لکھے امریکیوں کے رویہ سے بھی ہوتا ہے۔ ویسے یہ پتا نہیں کہ امریکا میں پڑھے لکھے کا معیار کیا ہے۔ پاکستان  میں منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنے والے کو پڑھا لکھا سمجھ لیا جاتا ہے لیکن امریکا میں تو بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے اور خوب منہ ٹیڑھا کر کے بولتا ہے بلکہ انگریزی ہی کو ٹیڑھا کر ڈالتاہے۔ پھر بھی روشن خیال کہلاتا ہے۔ اتنی لمبی بات یوں کہی کہ چند روز قبل امریکی میڈیا اورحکومت کے پروپیگنڈے کے زیر اثر چند مشتعل نوجوانوں نے کولمبیا یونیورسٹی کے ایک اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر پربھ جوت سنگھ کو سرعام اسامہ بن لادن کہہ کر مار مار کر زخمی کردیا… بات صرف یہ تھی کہ سکھ پروفیسر نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور لمبی سی ڈاڑھی تھی بس یہی اس کا گناہ تھا۔

Tuesday, September 17, 2013

آج کے مسلمان نوجوان کے لیے آئیڈیلز - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے


ہمیشہ اصلاحی اور بدی کی قوتوں کے ہر اول دستے کا کردار نوجوانوں نے نبھایا ہے۔کیونکہ ان میں نام نہاد مصلحت نہیں ہوتی۔ یہ جس چیز کو صحیح سمجھتے ہیں اسے کرنا چاہتے ہیں اور جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اسے مٹانا چاہتے ہیں۔ جو گلیوں کے نکڑوں پہ کھڑے ہو کر آتے جاتوں پر آوازے کستے ہیں، منشیات کا شکار ہیں، قبضے کرتے اور زندگیاں اجیرن کرتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ اور جو صلاح و فلاح کی مجالس سجاتے ،مساجد کی رونق بڑھاتے ، رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہ بھی نوجوان ہیں۔ گویا ایک معاشرہ اتناہی ترقی یافتہ ہوگاجتنا اس کے نوجوان بامقصد ہوں گے۔ 

Sunday, August 25, 2013

اسلام اور سیکولر عناصر - جناب شاہنواز فاروقی کے قلم سے


ملاّعمر نے عید کے موقع پر جاری ہونے والے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جدید تعلیم عصر حاضر میں ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ملا عمر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ معاشرے میں تمام انسانوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان غیر ملکی قابض افواج کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے تاہم وہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات پر بھی آمادہ ہیں۔

Tuesday, August 20, 2013

لبرل نظامِ تعلیم کا غیر ملکی ایجنڈا - پروفیسر نعیم قاسم کے قلم سے


پچھلے دنوں پاکستان کی مشہور صحافی نجم سیٹھی صاحب نے اپنے ٹی وی پروگرام "آپس کی بات" میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی طرف سے سکولوں کے نصابِ تعلیم میں این جی اوز کی سیکولر اصلاحات کو رد کرنے اور اسلامی اصلاحات کو قبول کرنے کے پر خاصی تنقید فرمائی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے اس سارے معاملے کا ذمہ دار جماعتِ اسلامی کو ٹھہرایا اور جماعت کے نظامِ تعلیم کے حوالے سے نظریات کی کافی شدت سے مخالفت کی۔ اس مخالفت میں وہ اتنی پستی میں اتر گئے کہ  مضحکہ خیز مثالیں دینے لگے، مثلاً جماعتِ اسلامی کے تعلیمی وژن کو دو مجاہد جمع دو مجاہد برابر ہیں چارمجاہد جیسی حسابی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسلام کو تو کچھ نہیں کہہ سکے تو اِس کو "جماعتِ اسلامی کا اسلام" کہہ کے رد فرماتے رہے۔ یہ سیکولر اور لبرل لابی کا پرانا حربہ ہے۔ اس حربے سے وہ یہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی اسلام کی بات کرتے تو اس کو اسی کے نام سے موسوم کر کے شریعت کے نفاذ سے بچا جا سکے۔ مثلاً جماعت اسلامی کی جگہ اگر تحریکِ انصاف اسلامی اصلاحات کرنا چاہے گی تو اس کو "تحریکِ انصاف کا اسلام" کہہ کے رد کردیں گے۔ کل کلاں مولانا فضل الرحمٰن کوئی اسلامی اصلاح پیش کریں گے تو اس کو "مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام" کہہ کے رد کر دیں گے۔ نواز شریف صاحب پہ تو پہلے ہی امیرالمومنین کی پھبتی کسی جاتی ہے۔

Sunday, August 18, 2013

جوانمردوں کے لیے کامیابی کے اسباق - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے



سماجی ذمہ داری کا احساس:


رکھتے ہیں جو اوروں کے لیے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے


’آفاق ‘ کے چیف ایگزیکٹو ابرار احمد صاحب جرمنی سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے ایک دلچسپ لیکن آنکھیں کھول دینے والی کہانی سنائی۔ کہنے لگے ہمارے ایک دوست ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے تھے رات کا وقت تھا‘ وہاں چند لوگ موجود تھے۔ کھانا کھا کے فارغ ہوئے تو کچھ کھانا بچ گیا۔

Saturday, August 10, 2013

ناقابلِ فراموش واقعات جو زندگی بدل دیں - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے


جس قوم کے اخلاق ڈوب جائیں وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہا کرتی۔ تاریخ کا یہ سبق تاریخ میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ کسی قوم کے عروج کا سورج ڈوبنے کی سب سے بڑی وجہ اخلاقی شعبے کا زوال ہوتا ہے۔ بقیہ تمام شعبہ جات اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ مغربی سورج بھی زرد ہورہا ہے یا یہ ترقی منتقل کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے پاس انسانی تاریخ کی وہ عظیم اور حیرت انگیز مثالیں ہیں جو حقیقی بھی ہیں اور ترقی حاصل کرنے کا خطِ مستقیم بھی۔ مغرب کے نبض شناس اقبال نے مرض کی ٹھیک ٹھیک تشخیص کر کے نوجوانوں کو خبردار کیا:

Sunday, August 4, 2013

آسان زندگی - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے



کون ہے جو آسان زندگی نہیں چاہتا؟ کون ہے جو آسانی کو پسند نہیں کرتا؟ ہر شخص کی خواہش ہے کو اس کی زندگی خوبصورت اور سہل انداز میں گزرے۔ یہ ایک جائز اور فطری خواہش ہے ۔ لیکن فی زمانہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس کی تلاش میں سر ٹکراتی پھرتی ہے اور خانماں برباد ہے۔ کیا یہ ایک سراب ہے جو موجود نہیں لیکن اپنے پیاسے کو مارے جاتا ہے؟ کیا یہ ایک خوشنما دلدل ہے کہ نکلنے کے لیے جتنے ہاتھ پاؤں مارو اور دھنستے چلے جاؤ؟ ہم آج یہ ثابت کریں گے کہ یہ سراب ہے نہ دلدل بلکہ ایک قابلِ حصول منزل ہے۔ ہر وہ شخص جو مضبوط ارادے کے ساتھ اس مضمون کو اپنا لے گا ، اپنی زندگی میں اسی لمحے سے فرق محسوس کرلے گا۔ ہم گلشنِ حیات میں کینسر کے اس ناسور کی نشان دہی کیے دیتے ہیں اور علاج کے لیے یقینی نسخہ بھی بتائے دیتے ہیں۔ 

Wednesday, July 24, 2013

گھوم چکے ہم نگری نگری - جسٹس حاذق الخیری کی خود نوشت "جاگتے لمحے" سے ماخوذ


ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد مجھے ایل ایل بی کا امتحان بھی دینا تھا، جو چھ ماہ بعد تھا، چنانچہ میں نے ایم اے ہسٹری میں داخلہ لے لیا جس کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمود حسین تھے، وہ اس وقت شعبہ آرٹس کے ڈین بھی تھے، الیکشن کا چسکہ تو پڑ ہی چکا تھا، سوچا کہ کیوں نہ سیکرٹری ہسٹری سوسائٹی کا الیکشن لڑا جائے، اس دفعہ بھی وہ ترکیب کام آئی، یعنی لڑکیوں سے وعدہ لے لیا

Wednesday, July 10, 2013

اسلام امن کا مذہب ہے - مہدی حسن کے آکسفورڈ یونین میں پرجوش دلائل - ویڈیو

Mehdi Hasan and Anne-Marie Waters at Oxford Union

اس ویڈیو میں ایک نوجوان مسلم صحافی مہدی حسن ،جو ہفنگٹن   پوسٹ (Huffington Post) میں بطور مدیرِ سیاسیات کے کام رہے ہیں، نے بہت شاندار طریقے سے یہ ثابت کیا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ انہوں نے اپنے دلائل ایک مباحثہ میں دیے جس میں ان کی مخالفت اینی میری واٹرز (Anne-Marie Waters)  نے کی۔

Saturday, July 6, 2013

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر - ویڈیو دیکھیں



آپ نے بوم رنگ کا نام سنا ہو گا۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہوتا ہے جو پھینکنے والے کی طرف واپس پلٹ آتا ہے۔ ہمارے رویے بھی بعینہ اسی طرح عمل کرتے ہیں، جو جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں لازمی ہماری طرف پلٹ کر آتا ہے۔ اچھے اعمال کا نتیجہ بھی اچھا اور برے کاموں کا انجام بھی خراب ہوتا ہے۔  دوسروں کو پیار اور عزت دیں گے تو ہمیں بھی پیار اور عزت ہی ملے گا۔ دوسروں کو تنگ کریں گے تو سکھ ہم بھی نہ پا سکیں گے۔

محترمہ خوش بخت شجاعت صاحبہ - عمران زاہد کے قلم سے




خوش بخت شجاعت صاحبہ کو ہم لڑکپن سے ٹی وی پر دیکھتے آئے ہیں۔ ٹی وی پر اُن کے آتے ہی کسی اور چیز کا دھیان ہی نہ رہتا۔ ان کی وقار اور حسن کو دیکھ کر گویا ایک سحر سا طاری ہو جاتا۔ اُن کی میٹھی سی آواز سُن کر دل کو قرار سا آجاتا۔ ٹی وی کی سکرین اُن سے سج سی جاتی۔

Thursday, June 27, 2013

"انتہا پسندوں سے معذرت کے ساتھ"

فیس بک پر ایک دوست کے نادر خیالات جاننے کا موقع ملا جو مندرجہ ذیل ہیں .
وہ فرماتے ہیں .کہ فحاشی و عریانی عورت کے جسم یا دکھاوے میں نہیں ہوتی بلکہ مردوں کے ذہن میں ہوتی ہے۔۔

Thursday, June 20, 2013

چائے خانہ - جناب زاہد مصطفیٰ کے قلم سے



بچپن کی یادوں میں چاچا الہی بخش  کا کھوکھا (چاۓ خانہ) جہاں جلیبیاں خریدنے کی وجہ سے یاد رہا وہیں پر گاؤں کے بوڑھوں کا اکٹھ اور اور ان کے درمیان ملکی اور غیر ملکی حالات و سیاست پر پرُ مغز بحث و مباحثہ کی وجہ سے ہمیشہ یادوں کا حصّہ ہے ۔

Friday, May 31, 2013

کلیان سن دھرم - آج کا حاتم طائی


جناب کلیان سن دھرم (Kalayanasundaram) نے پینتیس سال تک بطور لائیبریرین کام کیا ہے۔ انہوں نےلٹریچر اور ہسٹری کے مضمون میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ اِن تمام سالوں میں وہ اپنی ساری کی ساری  ماہانہ تنخواہ ضرورت مندوں   پر خرچ کرتے رہے۔ اپنی تنخواہ کا ایک دھیلہ بھی وہ اپنے اوپر خرچ کرنا حرام سمجھتے رہے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ ایک ہوٹل میں بیرے کا کام  بھی کرتے رہے۔ اِس کے علاوہ بھی وہ مختلف چھوٹے چھوٹے کام کر کے اپنی ضروریات پوری کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پنشن کی رقم تک ضرورت مندوں پر خرچ کر دی۔ یاد رہے اُن کی پنشن کی رقم تقریباً دس لاکھ  روپے بنتی ہے۔ یہ اپنا جسم اور آنکھیں تک عطیہ کر چکے ہیں۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...