Showing posts with label تہذیب. Show all posts
Showing posts with label تہذیب. Show all posts

Friday, May 15, 2015

ٹی وی ہمارے بچپن کا ۔ عمران زاہد کے قلم سے


پہلا ٹی وی جو ہم نے دیکھا  وہ ہمارے ہمسائیوں کا تھا۔ 
بات بہت پرانی نہیں ہے، یہی کوئی اَسّی کی دہائی کی بات ہے۔
اس دور میں ہم ریڈیو سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمیں  روزانہ شام کو بچوں کی کہانی سننے کا لپکا تھا۔ کہانی کے بعد بچوں کا گیت ضرور لگتا تھا۔ چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے ریڈیو پہ ہی سنا تھا۔ ہم بہن بھائیوں میں ریڈیو پہ قبضہ جمانے کا مقابلہ چلتا تھا۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ریڈیو کو اپنی گود میں رکھ کر کہانی سنے۔  اس طرح سے آواز صاف سنائی دیتی تھی۔

Sunday, September 29, 2013

اسامہ بن لادن، سکھ پروفیسر، امریکی نوجوان اور ہمارا میڈیا


مسلمان بڑے انتہا پسند ہوتے ہیں۔ تہذیب سے عاری ہوتے ہیں۔ کسی ایک کا بدلہ دوسرے سےلیتے ہیں۔ تحقیق نہیں کرتے… غیر ذمہ دار ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن امریکی میڈیا اورحکمرانوں نے امریکیوں کو کیا بنادیا ہے اس کا اندازہ اب پڑھے لکھے امریکیوں کے رویہ سے بھی ہوتا ہے۔ ویسے یہ پتا نہیں کہ امریکا میں پڑھے لکھے کا معیار کیا ہے۔ پاکستان  میں منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنے والے کو پڑھا لکھا سمجھ لیا جاتا ہے لیکن امریکا میں تو بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے اور خوب منہ ٹیڑھا کر کے بولتا ہے بلکہ انگریزی ہی کو ٹیڑھا کر ڈالتاہے۔ پھر بھی روشن خیال کہلاتا ہے۔ اتنی لمبی بات یوں کہی کہ چند روز قبل امریکی میڈیا اورحکومت کے پروپیگنڈے کے زیر اثر چند مشتعل نوجوانوں نے کولمبیا یونیورسٹی کے ایک اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر پربھ جوت سنگھ کو سرعام اسامہ بن لادن کہہ کر مار مار کر زخمی کردیا… بات صرف یہ تھی کہ سکھ پروفیسر نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور لمبی سی ڈاڑھی تھی بس یہی اس کا گناہ تھا۔

Monday, September 16, 2013

اک تاریخ نہاں ہے نعروں میں ۔ جناب احمد شاہین کے قلم سے


اگر آپ نے زمانہ طالبعلمی کسی سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں گزارا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کے کان نعروں سے محروم رہے ہوں۔ خوشی کا موقع ہو یا غمی و افسوس کا، انتظامیہ سے چپقلش پیدا ہوجائے یا ادارے کے دو برتن آپس میں ہی ٹکرا جائیں، سب سے پہلے بلند ہونے والی صدا یقینا ایک نعرہ ہوتی ہے اور اس کے بعد "دے مار، ساڑھے چار" خیر یہ مضمون کسی چٹ پٹے پھڈے کا احوال سنانے کیلئے تو تحریر نہیں کیا جارہا  بلکہ کوشش ہے کہ دور طالب علمی  کی یادوں کو کرید کر ذرا "نعرہ بازی" کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔

Monday, September 2, 2013

سیکولر ذہن کی سطح - جناب شاہنواز فاروقی کے قلم سے


پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقات نے تمام مذہبی لوگوں کو ”طالبان“ بنادیا ہے، اور طالبان بھی اپنی پسند کا۔ سیکولر اور لبرل عناصر کے طالبان انتہا پسند ہیں۔ دہشت گرد ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ہر وقت اسلحہ ہوتا ہے۔ وہ دستی بموں اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس سے لیس ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں سے ہر وقت وحشت اور درندگی ٹپکتی رہتی ہے۔ وہ دائمی طور پر خون کے پیاسے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

Saturday, August 10, 2013

ناقابلِ فراموش واقعات جو زندگی بدل دیں - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے


جس قوم کے اخلاق ڈوب جائیں وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہا کرتی۔ تاریخ کا یہ سبق تاریخ میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ کسی قوم کے عروج کا سورج ڈوبنے کی سب سے بڑی وجہ اخلاقی شعبے کا زوال ہوتا ہے۔ بقیہ تمام شعبہ جات اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ مغربی سورج بھی زرد ہورہا ہے یا یہ ترقی منتقل کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے پاس انسانی تاریخ کی وہ عظیم اور حیرت انگیز مثالیں ہیں جو حقیقی بھی ہیں اور ترقی حاصل کرنے کا خطِ مستقیم بھی۔ مغرب کے نبض شناس اقبال نے مرض کی ٹھیک ٹھیک تشخیص کر کے نوجوانوں کو خبردار کیا:

Tuesday, July 30, 2013

وزیر صاحبہ! آیئے چوبیس گھنٹے ایک دوسرے کے قالب میں گزار کر دیکھتے ہیں


عزیزی بیٹرس آسک!

بہت سی وجوہات ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بتاتی ہیں۔ آپ پچاس کی دہائی کے وسط میں پیدا ہوئیں، میری پیدائش ستر کے عشرے کے آواخر میں ہوئی۔ آپ ایک خاتون ہیں، میں ایک مرد ہوں۔ آپ سیاستدان ہیں، میں ایک مصنف ہوں۔ لیکن ہمارے درمیان کچھ چیزیں مشترک بھی ہیں۔ ہم دونوں نے بین الاقوامی اقتصادیات کا مضمون پڑھا ہے۔ (اور دونوں ہی ڈگری حاصل کرنے میں ناکام رہے) ہم دونوں کے بالوں کا اسٹائل تقریباً ایک جیسا ہے (گو ہمارے بالوںکا رنگ مختلف ہے)۔

Thursday, July 18, 2013

کیا کسی مسلمان کے لیے کسی غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا جائز ہے؟ - مفتی تقی عثمانی کی رائے


آئی-چوپال پیج پر مسلمانوں کے غیر مسلم ممالک میں رہائش رکھنے پر گفتگو شروع ہو گئی، جس میں کچھ دوستوں نے قران و حدیث کی رو سے اس رائے کا اظہار کیا کہ غیر مسلم ممالک میں رہائش اختیار کرنا شرعاً غلط ہے۔ صرف کاروبار اور تعلیم کے لیے عارضی قیام کیا جا سکتا ہے۔ 

Thursday, June 20, 2013

چائے خانہ - جناب زاہد مصطفیٰ کے قلم سے



بچپن کی یادوں میں چاچا الہی بخش  کا کھوکھا (چاۓ خانہ) جہاں جلیبیاں خریدنے کی وجہ سے یاد رہا وہیں پر گاؤں کے بوڑھوں کا اکٹھ اور اور ان کے درمیان ملکی اور غیر ملکی حالات و سیاست پر پرُ مغز بحث و مباحثہ کی وجہ سے ہمیشہ یادوں کا حصّہ ہے ۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...