Showing posts with label سائینس. Show all posts
Showing posts with label سائینس. Show all posts
Thursday, June 20, 2013
Saturday, June 15, 2013
دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن - جناب نعیم حسن کے قلم سے
دنیائے سائنس کے سب سے بڑے موجد تھامس ایلوا ایڈیسن نے پرل سٹریٹ، لوئر مین ہٹن میں 4 ستمبر 1882ء کو پہلا مکمل کمرشل الیکٹرک لائٹنگ اینڈ پاور سسٹم قائم کیا۔ ایڈیسن کے بلب کی کامیابی نے پاور کے سورس کے لئے طلب پیدا کردی تھی اور یہ طلب ہی پرل سٹریٹ (Pearl Street)سٹیشن کی تعمیر اور جدید الیکٹرک یوٹیلٹی انڈسٹری کے قیام کا سبب بنی۔ قابل انحصار مرکزی پاور جنریشن، محفوظ اور موثر ڈسٹری بیوشن اور صارف کے لئے گیس لائٹنگ سے بھی کم قیمت پر برقی بلب کی روشنی کی فراہمی پرل سٹریٹ سٹیشن کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔
Sunday, June 2, 2013
سیگ وے - چلنے پھرنے کا ایک انوکھا آلہ
پہلی نظر میں، میں اس چیز کو دیکھ کر مسحور ہی ہو گیا۔ میں اپنی بیگم کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی گیا ہوا تھا ، برادر طلعت علوی بھی ہمارے ہمراہ تھے۔ یہ شاندار آلہ جسے (Segway Human Transporter) کہتے ہیں بظاہر دیکھنے میں ایک جدید سکوٹر سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔ لیکن جن جن لوگوں نے اس کو استعمال کر کے دیکھا ہے وہ دعوٰی کرتے ہیں کہ سفر کا یہ بہت ذیادہ مختلف بلکہ بالکل ہی ایک نیا طریقہ ہے۔
Labels:
Dean Kamen
,
Segway Human Transporter
,
سائینس
,
متفرق مضامین
,
ویڈیو
ہوائی صنعت کی جنگِ عظیم - حقیقت یا فسانہ
قارئین، جو مضمون میں آپ سے شئیر کرنے جا رہا ہوں، اس میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ بوئنگ ایک ایسا مسافر طیارہ بنا چکا ہے جو کہ جہاز کے جسم اور پروں کو ضم کرنے والے ڈیزائن پر مشتمل ہے۔ بہت سے ماہرین اس دعوے کو جعلی (Hoax) قرار دے رہے ہیں۔ حتٰی کہ بوئنگ کے اہلکار بھی اس کی تصدیق کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ اس مضمون کے ساتھ تصاویر کو بھی بعض لوگ یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں یہ حقیقی ہیں اور کسی شوقیہ فوٹوگرافر نے اتفاقاً بنا لیں تھیں، جبکہ ماہرین ِ جعلسازی اِن تصاویر کو فوٹوشاپ کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔ بہرحال اس مضمون کی دلچسپ معلومات کی وجہ سے یہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ قارئین خود گوگل استعمال کر کے اس کے حقیقی یا جعلی ہونے کے متعلق رائے قائم کر سکتے ہیں۔
Labels:
Airbus A380
,
Boing 797
,
سائینس
,
متفرق مضامین
Monday, May 20, 2013
پاکستان جی پی ایس کے بجائے “بےڈو” استعمال کرے گا - ایک سائینسی معلوماتی تحریر
پاکستان
نے امریکی گلوبل پوزیشننگ سسٹم یا جی پی ایس کے چینی نعم البدل ’’بے
ڈو‘‘کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس طرح پاکستان وہ پانچواں ملک بن
گیا ہے جس نے “بےڈو” کو استعمال کرنے کی حامی بھری ہے۔ ماہ مئی کی ابتداء
میں ایک امریکی ویب سائٹ defencenews.com نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستانی
ملٹری آفیشل “بے ڈو” کے استعمال کے حق میں ہیں کیونکہ وہ امریکی جی
پی ایس پر بھروسہ نہیں کرتے جو جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے بند بھی
کیا جاسکتا ہے۔
Labels:
Pakistan
,
Science
,
پاکستان
,
سائینس
,
متفرق مضامین
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)




