مسلمان بڑے انتہا پسند ہوتے ہیں۔ تہذیب سے عاری ہوتے ہیں۔ کسی ایک کا بدلہ دوسرے سےلیتے ہیں۔ تحقیق نہیں کرتے… غیر ذمہ دار ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن امریکی میڈیا اورحکمرانوں نے امریکیوں کو کیا بنادیا ہے اس کا اندازہ اب پڑھے لکھے امریکیوں کے رویہ سے بھی ہوتا ہے۔ ویسے یہ پتا نہیں کہ امریکا میں پڑھے لکھے کا معیار کیا ہے۔ پاکستان میں منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنے والے کو پڑھا لکھا سمجھ لیا جاتا ہے لیکن امریکا میں تو بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے اور خوب منہ ٹیڑھا کر کے بولتا ہے بلکہ انگریزی ہی کو ٹیڑھا کر ڈالتاہے۔ پھر بھی روشن خیال کہلاتا ہے۔ اتنی لمبی بات یوں کہی کہ چند روز قبل امریکی میڈیا اورحکومت کے پروپیگنڈے کے زیر اثر چند مشتعل نوجوانوں نے کولمبیا یونیورسٹی کے ایک اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر پربھ جوت سنگھ کو سرعام اسامہ بن لادن کہہ کر مار مار کر زخمی کردیا… بات صرف یہ تھی کہ سکھ پروفیسر نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور لمبی سی ڈاڑھی تھی بس یہی اس کا گناہ تھا۔
Showing posts with label سیکولرازم. Show all posts
Showing posts with label سیکولرازم. Show all posts
Sunday, September 29, 2013
Monday, September 2, 2013
سیکولر ذہن کی سطح - جناب شاہنواز فاروقی کے قلم سے
پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقات نے تمام مذہبی لوگوں کو ”طالبان“ بنادیا ہے، اور طالبان بھی اپنی پسند کا۔ سیکولر اور لبرل عناصر کے طالبان انتہا پسند ہیں۔ دہشت گرد ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ہر وقت اسلحہ ہوتا ہے۔ وہ دستی بموں اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس سے لیس ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں سے ہر وقت وحشت اور درندگی ٹپکتی رہتی ہے۔ وہ دائمی طور پر خون کے پیاسے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔
Labels:
اسلام
,
پاکستان
,
تہذیب
,
سیکولرازم
,
شاہنواز فاروقی
,
متفرق مضامین
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)

