Showing posts with label Malala. Show all posts
Showing posts with label Malala. Show all posts

Thursday, July 25, 2013

اُنھیں ملالِ ملالہ بہت ہے ۔۔۔ کیوں نہ ہو؟ - نثر خند کے قلم سے



اقوام متحدہ کی ’’یوتھ اسمبلی‘‘ میں لگنے والے نعرے۔۔۔ ’’میں ہوں ملالہ‘‘ (I am Malala)۔۔۔کی گونج اب کچھ کچھ معدوم ہوتی جارہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اہلِ ملال کچھ عرصہ کے بعد اِس پُرملال قصے کو بالکل ہی بھول بھال جائیں؟اِس خدشے کے پیش نظرآئیے ہم اس داستان کے دیے کی لو ایک بار پھرکچھ اونچی کردیں۔یوں تو ہونے کو ایسے حملے بہت ہوئے۔ مگر 9اکتوبر 2012ء کو سوات میں ملالہ یوسف زئی اور اُس کی دو ساتھیوں پر حملے کی خبر بی بی سی اور سی این این سے نشر ہوئی تو ہمارے میڈیا کو بھی خبر ہوئی۔

ملالہ کے ایک ہمدرد کالم نگار کا ملالہ کے والد اور میڈیا کمپنی کے رویوں پر اظہارِ تعجب


عظیم ایم میاں جنگ کے صفحات میں ملالہ کے حق میں کالم لکھ چکے ہیں۔ جس میں انہوں نے دل کھول کر ملالہ کی اور اس کی تعلیم سے کمٹمنٹ کی تعریف کی تھی۔ میاں صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں بھی ملالہ کی تعریفیں کی ہیں لیکن بچوں کی نگہداشت کے امریکی قوانین  کی روشنی میں جس طرح سے ملالہ کے والد اور  میڈیا کمپنی کے رویوں کا ذکر کیا ہے، وہ سوچنے سمجھنے والے قارئین کے لیے بین السطور میں پڑھنے کے لیے بہت کچھ چھوڑتا ہے۔ اس کو پڑھ کرملالہ کے ایک پپٹ ہونے کا تاثر مذید پختہ ہو جاتا ہے۔ان شکوک کو مذید ہوا ملتی ہے جو سوشل میڈیا میں پہلے سے ہی کھلے الفاظ میں مباحث کا موضوع ہیں۔ ضرور پڑھیے۔

Monday, July 22, 2013

ملالہ کا شکریہ - عبداللہ طارق سہیل کے قلم سے


ملالہ یوسف زئی کے بارے میں پاکستان بٹا ہوا تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے وہ امریکہ کی ایجنٹ ہے (شاید بے خبر ایجنٹ، اس کے اصل سودا کا رتو کچھ اور لوگ تھے جن کا چیف سیلز مین ملالہ کا ’’روشن ضمیر‘‘ باپ ہے) اور کچھ لوگ کہتے تھے وہ دہشت گردی کے خلاف بہادری کی علامت تھی جو بچیوں کی تعلیم کے لئے لڑتی ہوئی گولی کا نشانہ بنا دی گئی۔ امریکہ اور برطانیہ کی مہربانی سے پاکستانیوں کی الجھن دور ہوگئی اور ملالہ کی بھی مہربانی (اصل میں ان کی مہربانی جنہوں نے اُسے تقریر لکھ کر دی) جس نے اقوام متحدہ میں تقریر کرکے خود کو بے نقاب کر دیا۔اور اپنے آقاؤں کی نشاندہی بھی کر دی۔

Saturday, July 13, 2013

ملالہ ڈے اور ملالہ کی تقریر پر تبصرہ - عمران زاہد کے قلم سے

A US Drone Vicitim

قارئین کرام،  مجھے خدا نے ذہن ہی کچھ ایسا دیا ہے کہ کسی سیدھی با ت کو بھی آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ بلکہ کافی دیر تک ادھیڑ بن میں پڑا رہتا ہے۔۔ اس کے مختلف پہلو  سوچتا رہتا ہے اور کئی دفعہ کسی فیصلے پر پہنچنے پر ناکام رہتا ہے۔ ایسے مواقع پر میں دِل کی سنتا ہوں اور اس کی مانتا ہوں۔۔۔  کئی دوست میرے کسی خیال کی وجہ جاننا چاہتے ہیں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ میرے پاس اس کی سوائے اس کے کوئی وجہ نہیں کہ میرا دل اس خیال سے میل کھاتا ہے۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...