آفس میں کام کی زیادتی نے مجھے آج شدید تھکا دیا تھا ۔ راحیل صاحب کی شادی تھی اور وہ چھٹیوں پر تھے جس وجہ سے میں ان کے بیک اپ پر ان کے کام کو بھی ہینڈل کر رہا تھا ۔ اور اُدھر گھر میں لوڈشیڈنگ کے عذاب نے بھی جینا محال کر رکھا تھا ۔ کافی دنوں سے صحیح طرح سے سو بھی نہیں پایا تھا ۔ پر آج میں نے تہیہ کرلیا تھا کہ گھر جا کر سیدھا چھت پر چلا جاؤں گا اور دو تین گھنٹے تو کم از کم ٹِکا کر نیند پوری کروں گا ۔
Showing posts with label Story. Show all posts
Showing posts with label Story. Show all posts
Monday, June 24, 2013
Thursday, May 30, 2013
پاکستانی دیگ
نقل ہے کہ ایک شہر میں ایک مست بابا آ گیا۔ آتے ہی اُس نے حکم دیا کہ ایک بہت بڑی دیگ لاؤ۔ دیگ آ گئی تو بولا، اس دیگ کے لائق ایک چولہا بناؤ، اس میں لکڑیاں رکھ کر بھانبنڑ لگا دو۔ چولہا جل گیا، مست نے حکم دیا کہ دیگ میں پانی بھر دو، اوپر ڈھکنا لگا دو، اسے چولہے پر رکھ دو۔ اگلی صبح انھوں نے دیگ کا ڈھکنا اُٹھایا تو دیکھا کہ وہ پلاؤ سے بھری ہوئی ہے۔ سارے شہر میں اعلان کر دیا گیا کہ حاجت مند آئیں، انھیں کھانا مفت تقسیم کیا جائے گا۔
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)

