اسلام کے دورِ اول سے لے کر آج تک امت کے مختلف طبقوں اور افراد میں فکر ونظر ، سیاسی مسائل اور رائے کا اختلاف ہوتاچلا آ رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی بنیاد اگرخلوص، تعمیر اور نیک نیتی پر ہو تو اس سے جمود اورتعطل ختم ہوتا ہے اور فکرونظر کی جَلا مل کر ترقی کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں ۔مگر جس دور سے ہم گذررہے ہیں اس میں اختلاف اختلاف نہیں رہا بلکہ مخالفت دشمنی اور بغض تک ترقی کرگیا ہے ۔آج کل کسی سے اختلاف کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اس کی دشمنی مول لی ہے سیاسی اور مذہبی دونوں محاذوں پر اختلاف مخالفت کا نام ہے سیاسی اختلاف کیجئے تو غدار، انتہاپسند، یہودی ایجنٹ اور تخریبی ہونے کا لقب پائیے اور اگر دینی اختلاف ہو تو اپنے متعلق کافر ، مشرک، بے دین، گمراہ اور زندیق جیسے خطابات سننے کو تیار رہیئے۔
Showing posts with label Extremeism. Show all posts
Showing posts with label Extremeism. Show all posts
Friday, August 9, 2013
یہودی ایجنٹ - جناب سہراب واصل کے قلم سے
Labels:
Extremeism
,
Imran Khan
,
Jamaat e Islami
,
JUI
,
اسلام
,
جمعیت علمائے اسلام
,
حالاتِ حاضرہ
,
سہراب واصل
,
سیاست
,
متفرق مضامین
Thursday, June 27, 2013
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)

