Showing posts with label Jamaat e Islami. Show all posts
Showing posts with label Jamaat e Islami. Show all posts

Tuesday, November 4, 2014

عمران خان کے نواز شریفی ہتھکنڈے - عمران زاہد کے قلم سے


میاں نواز شریف ماضی میں اپنے اتحادیوں کی سبکی کا باعث بنتے رہے ہیں بلکہ یہ رویہ ان کی اہم سیاسی حکمت عملی بن چکا ہے۔ چانکیہ کوٹلیا کی فلاسفی کہیں یا میکاولی کے اصول کہیں، سیاسی کامیابی کے لیے ایسے ہی طریقے بیان کیے گئے ہیں کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لو اور ضرورت نہ ہو تو باپ کو بھی گڑھے میں ڈال دو۔ عمران خان صاحب بھی اسی روش پر گامزن ہیں۔ موجودہ دھرنے  کے دوران قادری صاحب اور عمران خان صاحب کے درمیان طے شدہ باتوں سے خان صاحب کا نظریہ ضرورت کے تحت انحراف اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس ضمن میں بہت سی  باتیں تو علامہ طاہرالقادری کے حوالے سے میڈیا میں آ چکی ہیں۔ وہ بیچارے مایوس ہو کر خان صاحب کا ساتھ ہی چھوڑ گئے۔

Tuesday, August 20, 2013

لبرل نظامِ تعلیم کا غیر ملکی ایجنڈا - پروفیسر نعیم قاسم کے قلم سے


پچھلے دنوں پاکستان کی مشہور صحافی نجم سیٹھی صاحب نے اپنے ٹی وی پروگرام "آپس کی بات" میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی طرف سے سکولوں کے نصابِ تعلیم میں این جی اوز کی سیکولر اصلاحات کو رد کرنے اور اسلامی اصلاحات کو قبول کرنے کے پر خاصی تنقید فرمائی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے اس سارے معاملے کا ذمہ دار جماعتِ اسلامی کو ٹھہرایا اور جماعت کے نظامِ تعلیم کے حوالے سے نظریات کی کافی شدت سے مخالفت کی۔ اس مخالفت میں وہ اتنی پستی میں اتر گئے کہ  مضحکہ خیز مثالیں دینے لگے، مثلاً جماعتِ اسلامی کے تعلیمی وژن کو دو مجاہد جمع دو مجاہد برابر ہیں چارمجاہد جیسی حسابی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسلام کو تو کچھ نہیں کہہ سکے تو اِس کو "جماعتِ اسلامی کا اسلام" کہہ کے رد فرماتے رہے۔ یہ سیکولر اور لبرل لابی کا پرانا حربہ ہے۔ اس حربے سے وہ یہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی اسلام کی بات کرتے تو اس کو اسی کے نام سے موسوم کر کے شریعت کے نفاذ سے بچا جا سکے۔ مثلاً جماعت اسلامی کی جگہ اگر تحریکِ انصاف اسلامی اصلاحات کرنا چاہے گی تو اس کو "تحریکِ انصاف کا اسلام" کہہ کے رد کردیں گے۔ کل کلاں مولانا فضل الرحمٰن کوئی اسلامی اصلاح پیش کریں گے تو اس کو "مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام" کہہ کے رد کر دیں گے۔ نواز شریف صاحب پہ تو پہلے ہی امیرالمومنین کی پھبتی کسی جاتی ہے۔

Friday, August 9, 2013

یہودی ایجنٹ - جناب سہراب واصل کے قلم سے


اسلام کے دورِ اول سے لے کر آج تک امت کے مختلف طبقوں اور افراد میں فکر ونظر ، سیاسی مسائل اور رائے کا اختلاف ہوتاچلا آ رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی بنیاد اگرخلوص، تعمیر اور نیک نیتی پر ہو تو اس سے جمود اورتعطل ختم ہوتا ہے اور فکرونظر کی جَلا مل کر ترقی کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں ۔مگر جس دور سے ہم گذررہے ہیں اس میں اختلاف اختلاف نہیں رہا بلکہ مخالفت دشمنی اور بغض تک ترقی کرگیا ہے ۔آج کل کسی سے اختلاف کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اس کی دشمنی مول لی ہے سیاسی اور مذہبی دونوں محاذوں پر اختلاف مخالفت کا نام ہے سیاسی اختلاف کیجئے تو غدار، انتہاپسند، یہودی ایجنٹ اور تخریبی ہونے کا لقب پائیے اور اگر دینی اختلاف ہو تو اپنے متعلق کافر ، مشرک، بے دین، گمراہ اور زندیق جیسے خطابات سننے کو تیار رہیئے۔

Saturday, August 3, 2013

بنگلہ دیش: مکتی باہنی کے جرائم کا جواب دہ کون؟ - آصف جیلانی کے قلم سے

پروفیسر غلام اعظم کو ایک متنازعہ فیصلے میں نوے سال قید کی سزا سنائی گئی
بنگلہ دیش میں پھر ایک بار انتقام اور سیاسی رقابت کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ جماعت اسلامی کے اعلیٰ راہنماؤں کے خلاف چالیس سال پہلے علیحدگی کی جنگ کے دوران نام نہاد جنگی جرائم کے مقدمات کا جو سلسلہ جاری ہے اس میں اب علی احسن مجاہد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

Tuesday, May 14, 2013

جماعتِ اسلامی بلوچستان کے ایک کارکن کی جدوجہد کا احوال

سید نورمحمد شاہ، ضلع ہرنائی، بلوچستان، پاکستان

پیارے قارئین۔ 
السلامُ علیکم۔

بلوچستان کا مسئلہ اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن پر سوار ہے۔ غیروں کی ریشہ دوانیوں اور اپنوں کی حماقتوں کے سبب بلوچستان ایک پُلِ صراط پر کھڑا ہے۔ ایک چھوٹی سی چنگاری ماحول میں موجود بارود کو بھک سے اڑانی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے لوگ اِن چیزوں سے پہلے سے ہی واقف ہیں، مشرقی پاکستان کا سانحہ ہمارے لاشعور کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔
اتنے نازک حالات میں ضرورت اس اَمر کی ہے کہ بلوچستان میں وفاق کو مضبوط کرنے والی پارٹیاں طاقت پکڑیں۔ جماعتِ اسلامی ایک ایسی ہی وفاقی پارٹی ہے۔ اس کا منشور، اس کے کارکن، اس کی قیادت غرض ہر چیز نظریہ پاکستان ، اسلام اور سالمیتِ پاکستان کے جذبے سے معمور ہے۔

نیچے دی گئی تحریر جماعتِ اسلامی پلوچستان، ضلع ہرنائی کے ایک کارکن کی جدوجہد کا احوال ہے۔ ان کا نام سید نور محمد شاہ ہے۔ اپنا مزید تعارف انہوں نے اپنی تحریر میں ہی کروا دیا ہے۔ اُن کی یہ تحریر اُن کی فیس بُک وال سے لی گئی ہے۔ اس کا مقصد ایک تو آپ کو بلوچستان کے حالات کی ہلکی سی جھلک دکھانا ہے اور دوسرا اِن کٹھن حالات میں اہلِ حق کی جدو جہد کی تصویر دکھانا ہے۔ ان کے حالات پڑھ کر بلا اختیار یہ کہنے کا دل کرتا ہے کہ "ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ"۔  لیجیے ملاحظہ فرمائیے ان کی خوبصورت تحریر۔ 

Sunday, May 12, 2013

کراچی کا کوڑھ خانہ - عمران زاہد کے قلم سے



کراچی کے حالات دیکھ دیکھ کر جو دل کڑھتا ہے اس کو میں نے اس مضمون میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرح سے اپنا کتھارسس ہی کیا ہے۔ میرے کسی کراچی کے دوست کو برا لگے تو میں دست بستہ معافی کا خواستگار ہوں۔ میں خود جو ہوں شاید دوسروں کو بھی ویسا ہی دیکھ رہا ہوں۔۔۔ بالکل آئینے کے عکس کی طرح۔ پھر سے معافی کا خواستگار ہوں۔


میری تو سوچی سمجھی رائے یہی ہے کہ کراچی رہنے کے قابل جگہ نہیں رہی۔ اندھیروں کی بستی میں رہنے کی نسبت کسی جنگل میں رہنا ذیادہ موزوں ہے۔ کراچی کے لوگ تعلقات اور رشتے ناتوں کے لیے موزوں ہی نہیں رہے۔ کراچی والوں سے تو کوسوں دور سے گزر جانا چاہیئے۔ ان لوگوں کو تو منہ ہی نہیں لگانا چاہیئے۔ نہ یہ جگہ رہنے قابل ہیں ناں یہ لوگ ملنے کے قابل ہیں۔ یہ کوڑھ خانوں میں رہنے والے کوڑھیوں سے ذیادہ کوڑھ زدہ ہیں۔ ان کوڑھیوں سے تو دور ہی رہنا چاہیئے۔ کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کی طرح ان کو باقی لوگوں سے الگ تھلگ رکھا جانا چاہیئے۔ پاکستان کے باقی لوگوں کو ان کے کوڑھ سے بچانے کے لیے ان پر پابندی عائد کر دینی چاہیئے کہ یہ کسی اور سے نہ ملیں ۔ باقی لوگوں کو بیمار نہ کریں۔

پی ٹی آئی کے الیکشن نتائج کا تجزیہ - عمران زاہد کے قلم سے


الیکشن کے بعد سب سے اہم کام اپنی جیت ہار کا جائزہ لینا ،اس کی مثبت و منفی پہلوؤں کو جانچنا اور آئندہ کے لیے  دوبارہ سے صف بندی کی پلاننگ کرنا ہے۔ پی ٹِی آئی میرے نزدیک جماعت ِ اسلامی کے بعد دوسری آپشن تھی۔ گو میرا ووٹ گیا تو جماعت کو، لیکن پی ٹی آئی کی کارکردگی پرمیری توجہ تھی۔ میرے نزدیک اُن کے نتائج بالکل ٹھیک اندازے کے عین مطابق آئے ہیں۔ لیکن پھر بھی پی ٹی آئی بہتر کارگردگی دکھا سکتی تھی جو وہ نہ دکھا سکی۔ میرے نزدیک اس کی وجوہات  نیچے دی گئی ہیں، ہو سکتا ہے کہ بہت ساری وجوہات overlap کر رہی ہوں، لیکن یہ میرا فوری ردعمل ہے۔

Tuesday, April 30, 2013

جماعتِ اسلامی کی کامیابی - سجاد میر کے قلم سے



ارادہ تھا کہ اس مسئلے پر انتخابات کے بعد لکھوں گا۔ اب بھی یہی خیال ہے۔ یہ ایسا اتھلا مسئلہ نہیں ہے کہ اسے الیکشن کے طوفانوں کی نذر کیا جا سکے۔ جو بھی اٹھتا ہے جماعت اسلامی کی حکمت عملی پر لب کشائی کرنے لگتا ہے۔ بعض تو وہ ہیں جو بڑے دکھ کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی حالات میں جماعت نے درست سیاسی چالبازی کا مظاہرہ نہیں کیا، اس لئے وہ اب گویا ایک کٹی پتنگ کی طرح ڈول رہی ہے۔ ان کی بات الگ ہے۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...