Showing posts with label Kalabagh Dam. Show all posts
Showing posts with label Kalabagh Dam. Show all posts

Monday, May 27, 2013

کالا باغ ڈیم اور اسفند یار ولی کی ملک دشمنی


دوستو، آپ جانتے ہی ہیں کہ پاکستان توانائی کے جس شدید ترین بحران سے دوچار ہے۔ اس کی وجہ سے، ہماری انڈسٹری تقریباً بند ہو چکی ہے۔ انڈسٹری بند ہونے کہ وجہ سے بیروزگاری عروج پہ ہے۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ ہمارے نام نہاد لیڈر اس پیچیدہ صورتحال میں بھی اپنے من پسند صوبائیت، علاقیت اور مذہبیت کے خول سے نکل کر قومی کردار ادا کرنے کہ بجائے، ایک ملک دشمن کا کردار ادا کر رہے۔ ایسے ہی ایک لیڈر اسفند یار ولی ہیں۔ جن کو پاکستان کے مفاد سے ذیادہ غیروں کا مفاد عزیز ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پینسٹھ سالوں میں پاکستانی تو نہ بن سکے اور صرف ایک صوبے کے مفاد کا پرچم ہی لہراتے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ طرفہ تماشہ یہ کہ تنگ نائے قومیت سے تو باہر نکلتے نہیں  لیکن اکھنڈ بھارت جیسے وسیع القومی و مذہبی تصور کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ نہ جانے یہ معجزہ کیسے سرانجام پائے گا۔ اکھنڈ بھارت میں جاتے ہی اِن کے چھوٹے چھوٹے دماغ اچانک کیسے بڑے ہو جائیں گے؟
ان عقل کے اندھوں کو کوئی یہ نہیں سمجھاتا کہ جو حقوق آپ ایک چھوٹے سے ملک پاکستان میں حاصل نہیں کر پاتے، وہ ایک بڑے ملک میں کیسے حاصل کر پائیں گے؟  اور جس نام نہاد قومیت پرستی کا پرچم آپ یہاں لہراتے ہیں جہاں آپ کے فلسفے کے مطابق صرف چار قومیتیں بستی ہیں، وہ پرچم آپ ایک ایسے ملک میں جہاں چار سو قومیتیں بستی کیسے لہرا پائیں گے؟
انہی حضرت کے ایک مکالمے کو منیر احمد بلوچ صاحب نے اپنے کالم میں قلم بند کیا ہے، براہ کرم ملاحظہ کیجیے۔

Friday, May 24, 2013

کالا باغ پر اختلافات کے بارے میں مشہور شاعر وادیب اور واپڈا کے سابق افسرِ تعلقاتِ عامہ، خالد احمد صاحب کی رائے


پچھلے دنوں ہی قومی ڈائجسٹ کا ایک پرانا شمارہ پڑھنے کا موقعہ ملا۔ اُس میں مشہور شاعر خالد احمد صاحب کا انٹرویو پڑھا۔ حال ہی میں اِن کا انتقال ہوا ہے۔ آپ مشہور افسانہ نویس بہنوں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے چھوٹے بھائی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی صاحب سے بھی آپ کے پُرانے تعلقات ہیں۔ نوائے وقت میں "لمحہ لمحہ" نامی کالم بھی تحریر فرماتے رہے ہیں۔  اپنے انٹرویو میں انہوں نے اپنی ذاتی اور ادبی زندگی پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اُسی انٹرویو میں پڑھ کر پتہ چلا کہ خالد صاحب واپڈا کے افسرِ تعلقاتِ عامہ بھی رہے ہیں۔ انٹرویو لینے والے نے اچانک کالا باغ ڈیم پر اختلاف کے حوالے سے سوال کر دیا۔ خالد صاحب نے جو جواب دیا، وہ اس قابل ہے کہ آپ دوستوں سے شئیر کیا جائے۔ پڑھیے اور سوچیے۔ اور خدارا، کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر ذہنی وسعت پیدا کیجیے۔

Thursday, May 23, 2013

کالا باغ ڈیم , توانائی کے بحران کا مستقل حل ؟ - جناب مصطفٰے ملک کے قلم سے


جب توانائی کے بحران کے مستقل حل کا سوچا جائے تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سوا کوئی دوسرا مستقل حل قابل عمل اور کارآمد نظر نہیں آتا اس لئے جب ہمارے پاس اس بحران سے عہدہ برا ہونے کا مستقل اور پائیدار ایک ہی حل موجود ہے تو حکمران طبقہ اپنے اپنے مفادات کی بنیاد پر قومی ترقی و بقا کے اس منصوبے کو سیاست کی نذر کرنے پر کیوں تلا بیٹھا ہے اور کیوں اس منصوبے پر قومی اتفاق رائے نہیں کیا جاتا۔

کالا باغ ڈیم پاکستان کے لیے ایک بہترین منصوبہ - اللہ کی ایک نعمت


کالا باغ کے متعلق اس سے پہلے سلیمان خان صاحب نے ایک بہت اچھا مضمون لکھا تھا۔ بہت سارے دوستوں کی رائے یہ تھی کہ کالا باغ ڈیم کے متعلق کچھ بنیادی معلومات شائع کی جائیں اور نئی آنے والی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ پاکستان کے لیے سستی بجلی اور کاشتکاری کے لیے آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس اہم منصوبے کو شروع کرے۔

Thursday, May 16, 2013

کالا باغ ڈیم - محمد سلیمان خان کے قلم سے

Kala Bagh Dam Model

سائیں!آپ کیوں کالا باغ ڈیم کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ کالا باغ ڈیم تو پنجاب میں بن رہا ہے۔ سارا فائدہ تو پنجاب کا ہے تو پھر سندھ اس کی منظوری کیوں دے؟ یہ وہ سوالات تھے جو سندھ کے بیشتر لوگوں نے کرنل (ر) عبدالرزاق بگٹی سے ملاقاتوں اور میٹنگز میں کئے۔ یہی وہ شوشے ہیں جن کی گرد اڑا کر بھارتی لابی کے چند گماشتے سندھ میں افواہیں اڑاتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بننے سے سندھ کی دھرتی بنجر ہو جائیگی۔ اسطرح ایک عام سندھی کو کالا باغ ڈیم کا مخالف بنایا ہوا ہے۔ ورنہ میں جانتا ہوں ایک سندھی بھی پاکستان کا اتنا ہی حامی، جانثار اور وفادار ہے جتنا کوئی اور محب وطن پاکستانی ڈاکٹر مجید نظامی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان یا جنرل حمید گل۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...