Thursday, June 20, 2013
Saturday, June 15, 2013
دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن - جناب نعیم حسن کے قلم سے
دنیائے سائنس کے سب سے بڑے موجد تھامس ایلوا ایڈیسن نے پرل سٹریٹ، لوئر مین ہٹن میں 4 ستمبر 1882ء کو پہلا مکمل کمرشل الیکٹرک لائٹنگ اینڈ پاور سسٹم قائم کیا۔ ایڈیسن کے بلب کی کامیابی نے پاور کے سورس کے لئے طلب پیدا کردی تھی اور یہ طلب ہی پرل سٹریٹ (Pearl Street)سٹیشن کی تعمیر اور جدید الیکٹرک یوٹیلٹی انڈسٹری کے قیام کا سبب بنی۔ قابل انحصار مرکزی پاور جنریشن، محفوظ اور موثر ڈسٹری بیوشن اور صارف کے لئے گیس لائٹنگ سے بھی کم قیمت پر برقی بلب کی روشنی کی فراہمی پرل سٹریٹ سٹیشن کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔
Wednesday, June 12, 2013
طیب اردوغان بمقابلہ عالمی قوتیں - جناب عبدالغفار عزیز کے قلم سے
استنبول کا ایک چھوٹا سا پارک ختم کرنے پر شروع ہونے والا "ملک گیر" احتجاج ترکی میں تو ختم ہو رہا ہے، لیکن عالمی ذرائع ابلاغ اسے اب بھی مسلسل ہوا دے رہے ہیں۔ معروف برطانوی رسالے اکانومسٹ نے اپنے تازہ شمارے کے ٹائٹل پر وزیراعظم طیب اردوغان کی بڑی سی تصویر شائع کی ہے: عثمانی خلیفہ کا لباس پہنے، مسند لگائے بیٹھے وزیر اعظم اردوغان پر پھبتی کستے ہوئے سرخی جمائی ہے "ڈیموکریٹ یا سلطان؟"۔
Labels:
Muslim World
,
Politics
,
Turkey
,
عالمی سیاست
,
مسلم دنیا
Wednesday, June 5, 2013
Tuesday, June 4, 2013
غیر منقوط ترجمہ قران کی افادیت
میرے پچھلے مضمون، جو غیر منقوط ترجمہ قران کے بارے تھا، پر بہت سے دوستوں نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا۔ بہت سے دوستوں نے تو مسرت اور مبارکباد کا اظہار کیا بلکہ میرے بہت ہی محترم طارق بھائی نے تو اس پر تبصرہ بھی غیر منقوط ہی کر ڈالا۔۔ اُن کا تبصرہ تھا کہ "سی ڈی کا عدل کرو" شاید اس کا مفہوم یہ ہو کہ سی ڈی کا انتظام کرو۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ تبصرہ پڑھ کر بہت لطف اٹھایا، ساتھ ہی یہ تجویز کیا کہ "عدل" کی جگہ "ادا" یا "دو" کے لفظ کو استعمال کر کے ذیادہ بہتر غیر منقوط جملہ بن سکتا تھا۔
Labels:
Quran
,
Undotted Translation
,
اسلام
,
متفرق مضامین
Monday, June 3, 2013
Sunday, June 2, 2013
سیگ وے - چلنے پھرنے کا ایک انوکھا آلہ
پہلی نظر میں، میں اس چیز کو دیکھ کر مسحور ہی ہو گیا۔ میں اپنی بیگم کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی گیا ہوا تھا ، برادر طلعت علوی بھی ہمارے ہمراہ تھے۔ یہ شاندار آلہ جسے (Segway Human Transporter) کہتے ہیں بظاہر دیکھنے میں ایک جدید سکوٹر سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔ لیکن جن جن لوگوں نے اس کو استعمال کر کے دیکھا ہے وہ دعوٰی کرتے ہیں کہ سفر کا یہ بہت ذیادہ مختلف بلکہ بالکل ہی ایک نیا طریقہ ہے۔
Labels:
Dean Kamen
,
Segway Human Transporter
,
سائینس
,
متفرق مضامین
,
ویڈیو
ہوائی صنعت کی جنگِ عظیم - حقیقت یا فسانہ
قارئین، جو مضمون میں آپ سے شئیر کرنے جا رہا ہوں، اس میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ بوئنگ ایک ایسا مسافر طیارہ بنا چکا ہے جو کہ جہاز کے جسم اور پروں کو ضم کرنے والے ڈیزائن پر مشتمل ہے۔ بہت سے ماہرین اس دعوے کو جعلی (Hoax) قرار دے رہے ہیں۔ حتٰی کہ بوئنگ کے اہلکار بھی اس کی تصدیق کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ اس مضمون کے ساتھ تصاویر کو بھی بعض لوگ یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں یہ حقیقی ہیں اور کسی شوقیہ فوٹوگرافر نے اتفاقاً بنا لیں تھیں، جبکہ ماہرین ِ جعلسازی اِن تصاویر کو فوٹوشاپ کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔ بہرحال اس مضمون کی دلچسپ معلومات کی وجہ سے یہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ قارئین خود گوگل استعمال کر کے اس کے حقیقی یا جعلی ہونے کے متعلق رائے قائم کر سکتے ہیں۔
Labels:
Airbus A380
,
Boing 797
,
سائینس
,
متفرق مضامین
Friday, May 31, 2013
کلیان سن دھرم - آج کا حاتم طائی
جناب کلیان سن دھرم (Kalayanasundaram) نے پینتیس سال تک بطور لائیبریرین کام کیا ہے۔ انہوں نےلٹریچر اور ہسٹری کے مضمون میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ اِن تمام سالوں میں وہ اپنی ساری کی ساری ماہانہ تنخواہ ضرورت مندوں پر خرچ کرتے رہے۔ اپنی تنخواہ کا ایک دھیلہ بھی وہ اپنے اوپر خرچ کرنا حرام سمجھتے رہے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ ایک ہوٹل میں بیرے کا کام بھی کرتے رہے۔ اِس کے علاوہ بھی وہ مختلف چھوٹے چھوٹے کام کر کے اپنی ضروریات پوری کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پنشن کی رقم تک ضرورت مندوں پر خرچ کر دی۔ یاد رہے اُن کی پنشن کی رقم تقریباً دس لاکھ روپے بنتی ہے۔ یہ اپنا جسم اور آنکھیں تک عطیہ کر چکے ہیں۔
Thursday, May 30, 2013
خروٹ آباد کا سچا آدمی - ڈاکٹر باقر شاہ شہید
ظالموں نے ڈاکٹر باقر شاہ کو مار دیا۔ ڈاکٹر کو پتہ تھا کہ جو وہ کرنے جا رہا ہے، اس کے نتیجے میں موت اُس کا مقدر بنے گی۔ اُس کو کسی کونے کھدرے سے چلائی ہوئی گولی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جائےگا۔ لیکن اُس نے موت کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا فرض انجام دینا مناسب سمجھا۔ اُس نے بے خوفی سے اپنا فرض انجام دیا اور نتیجہ میں خاموش کر دیا گیا۔ اُس کی فصیلِ جاں کو پانچ گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ ایسی بابرکت موت کو اللہ رب العزت نے زندگی سے تعبیر فرمایا ہے جس کو ہم جیسے کم فہم لوگ نہیں سمجھ پاتے۔
Labels:
Kharotabad Killings
,
Pakistan
,
Terrorism
,
پاکستان
,
شخصیت
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)








