Showing posts with label Bhutto. Show all posts
Showing posts with label Bhutto. Show all posts

Wednesday, August 21, 2013

ہم نے وہ دور دیکھا ہے - جناب سجاد میر کے قلم سے


ارادہ تو نہیں تھا کہ بھٹو نامے کے مزید ابواب رقم کرتا، مگر دوست یار پرانے زخم تازہ ہونے سے ایسے اچھلے ہیں کہ ہر کوئی نئی بات یاد دلا رہا ہے۔ ہمارے ایک پبلشر دوست نے تو اس موضوع پر کتاب لکھنے کا مطالبہ کر دیا ہے کہ یہ کوئی ذاتی دکھوں کی کتھا نہیں اس قوم کی تباہی کی داستان ہے۔ یہ استحقاق تو دراصل برادرم مجیب شامی صاحب (خبردارجواب اسے کتابت کی غلطی سے مجیب نظامی لکھا گیا) کا ہے، مگر کوئی تو آئے جو اس راکھ کو کرید کر تاریخ کے چند تاریک باب روشن کرے۔

Wednesday, June 5, 2013

ذوالفقارعلی بھٹو کا دوسرا رُخ


جناب ذوالفقار علی بھٹو بلاشبہ ہماری تاریخ کے ایک جینیئس مگر متنازع کردار ہیں۔ جہاں ان سے انتہا کی حد تک پیار کرنے والے لوگ موجود ہیں وہاں بے انتہا نفرت کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ 

Tuesday, April 23, 2013

پیپلز پارٹی کے انجام کا آغاز ۔۔۔۔۔۔ عبداللہ طارق سہیل کے قلم سے


شاہ محمود قریشی نے بڑے افسوس کے ساتھ یہ بیان جاری کیا کہ تاریخ میں پہلی بار بھٹو کی برسی پر جلسہ نہیں ہوا۔ کراچی کے ایک اخبار نے ایک تصویر بڑے سائز میں شائع کی کہ بھٹو خاندان کی طرف سے بھٹو کی تصاویر کی نمائش کی گئی جسے دیکھنے کوئی نہیں آیا حتیٰ کہ پیپلزپارٹی کے رہنما بھی نہیں آئے۔ اس شاندار نمائش کا انتظام نمائش سے بھی زیادہ شاندار عمارت میں کیا گیا تھالیکن دونوں شانداریاں نظر خزاں ہوگئیں۔ خزاں یعنی راج نیتی میں اکیلے پن کی رت ۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...