Showing posts with label Politics. Show all posts
Showing posts with label Politics. Show all posts

Friday, May 15, 2015

ٹی وی ہمارے بچپن کا ۔ عمران زاہد کے قلم سے


پہلا ٹی وی جو ہم نے دیکھا  وہ ہمارے ہمسائیوں کا تھا۔ 
بات بہت پرانی نہیں ہے، یہی کوئی اَسّی کی دہائی کی بات ہے۔
اس دور میں ہم ریڈیو سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمیں  روزانہ شام کو بچوں کی کہانی سننے کا لپکا تھا۔ کہانی کے بعد بچوں کا گیت ضرور لگتا تھا۔ چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے ریڈیو پہ ہی سنا تھا۔ ہم بہن بھائیوں میں ریڈیو پہ قبضہ جمانے کا مقابلہ چلتا تھا۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ریڈیو کو اپنی گود میں رکھ کر کہانی سنے۔  اس طرح سے آواز صاف سنائی دیتی تھی۔

Sunday, April 12, 2015

راشد نسیم صاحب - عمران زاہد کے قلم سے



راشد نسیم صاحب جو قومی اسمبلی کے حلقہ 246 سے ضمنی الیکشن لڑ رہے ہیں، اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلٰی رہ چکے ہیں۔ جب ہم 88ء میں جمعیت میں داخل ہوئے تب سراج صاحب ناظمِ اعلیٰ تھے۔ ان سے پہلے اعجاز چوہدری صاحب، امیر العظیم صاحب اور راشد نسیم صاحب ناظمِ اعلٰی رہ چکے تھے۔ سراج صاحب کے بعد، اویس قاسم صاحب، وقاص جعفری صاحب، اظہار الحق اور انجینئیر نعیم الرحمٰن صاحب ناظم اعلٰی بنے۔

Tuesday, November 25, 2014

جماعتِ اسلامی کے سالانہ اجتماع میں کچھ وقت - عمران زاہد کے قلم سے



کئی دوستوں کی معیت اور کشش کے سبب جماعت کے سالانہ اجتماع میں جانے کا پکا پروگرام تھا لیکن ہماری یونیورسٹی کے کانوکیشن نے، جو انہی تاریخوں میں منعقد ہوا، اسے تقریباً ناممکن بنا دیا۔   گو فیس بک کے ذریعے پتہ چلتا رہا کہ اجتماعِ عام میں لاکھوں لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک سے مندوبین کا اجلاس ہوا۔ خواتین کا ایک علیحدہ سے پروگرام ہوا۔ نوجوانوں کا ایک کنونشن بھی ہوا ،  جس میں  جمعیت والوں نے ایک ڈرامہ بھی پیش کیا۔ سوشل میڈیا کیمپ کا خاصا چرچا تھا۔ فیس بک پہ ہی اس میں موجود سہولتوں کے بارے میں پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اردو بلاگرز  جن میں ایم بلال بھی شامل ہیں ان کے سوشل میڈیا کیمپ کے وزٹ کی خبر بھی پہنچی۔  اسی طرح کی مزید کئی سرگرمیوں کی خبریں پہنچتی رہی تھیں لیکن ان میں عملاً شریک ہونا ناممکن تھا۔  تئیس نومبرکو اجتماع کا آخری دن تھا۔بائیس کی شام کو کانوکیشن سے فارغ ہوا تو  برادرم الیاس انصاری  نے  دعوت دی کہ آخری دن اکٹھے چلا جائے۔ میں نے ان کی دعوت پہ لبیک کہا۔ سوچا چلو اسی طرح سے انگلی کٹا کے شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

Sunday, July 20, 2014

پاکستانی سیاست کا چہرہ بدلنے والے تین سیاستدان - عمران زاہد کے قلم سے

  پاکستان کی سیاست میں تین ایسے کردار ہیں ، جو پاکستان کے سیاسی ماحول میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا باعث بنے  ہیں۔ ان تبدیلیوں کے دور رس اثرات ہماری سیاست  کو ہر طرح سے متاثر کر چکے ہیں۔ ان سے نہ صرف سیاست، بلکہ ہمارا معاشرہ اور  پور ا نظام ِ حکومت ہی متاثر ہو چکا ہے ۔    ان میں سے کچھ اثرات مثبت ہیں اور کچھ منفی ہیں۔ میری کوشش ہے کہ ان اثرات کو مختصراً بیان کیا جائے۔

Sunday, March 9, 2014

سعودی حکومت نے الاخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا - جناب عطاء سراجی کے قلم سے


وہ یہی دن تهے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم اپنے تعلیمی اداروں کے نصاب میں الاخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا رحمۃ اللہ اور دوسرے اخوانی عمائدین کی کتابیں شامل کئے ہوئے تهی شائد کہ اس وقت یہودیوں کو الاخوان المسلمون سے اس قدر خوف لاحق نہیں تها اور سعودی حکمرانوں میں اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھنے والے بهی کچھ افراد موجود تهے، اور یہ بهی دن آیا ہے کہ انهی کتابوں کے پڑھنے والے اور اسی سوچ کے حامل افراد کو صرف اس سوچ کے قائل ہونے کی بنا پر دہشتگرد قرار دے کر پابندی لگائی گئی ہے۔

Tuesday, December 24, 2013

جماعت اسلامی پنجاب کا المیہ - جناب زاہد مصطفیٰ کے قلم سے



2013 کے انتخابات میں جماعت اسلامی کی پورے ملک میں اور خاص طور پر پنجاب میں بدترین شکست اس کارکنان کے لیے  المیہ اور پارٹی کیلئے حادثہ سے کم نہیں . شاید جماعت اسلامی پنجاب کی تاریخ میں اس سے بدترین شکست شاید ہی ہو۔

Wednesday, August 21, 2013

ہم نے وہ دور دیکھا ہے - جناب سجاد میر کے قلم سے


ارادہ تو نہیں تھا کہ بھٹو نامے کے مزید ابواب رقم کرتا، مگر دوست یار پرانے زخم تازہ ہونے سے ایسے اچھلے ہیں کہ ہر کوئی نئی بات یاد دلا رہا ہے۔ ہمارے ایک پبلشر دوست نے تو اس موضوع پر کتاب لکھنے کا مطالبہ کر دیا ہے کہ یہ کوئی ذاتی دکھوں کی کتھا نہیں اس قوم کی تباہی کی داستان ہے۔ یہ استحقاق تو دراصل برادرم مجیب شامی صاحب (خبردارجواب اسے کتابت کی غلطی سے مجیب نظامی لکھا گیا) کا ہے، مگر کوئی تو آئے جو اس راکھ کو کرید کر تاریخ کے چند تاریک باب روشن کرے۔

Saturday, July 27, 2013

نواز لیگ نائن زیرو یاترا - جناب زاہد مصطفی کے قلم سے



اگر جذبات سے لوگ ذرا ہٹ کے سوچیں تو مانیں گے کہ مسلم لیگ کے پاس نائن زیرو جانے اور MQM کے پاس نون لیگیوں پر گل پاشی کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں تھا- بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ نواز لیگ نے نائن زیرو آنے میں کچھ تاخیر کی اور وجہ تاخیر یہی تھی کہ MQM کا دماغ لندن ڈرامے کے ذریعے ٹھیک کیا جائے اور ان کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملات طے کیے جائیں اس لیے لندن ڈرامے کی کچھ اقساط پیش کرکے باقی کی اقساط تکنیکی خرابی کی بنیاد بنا کر موخر کردی جائیں گی۔

Wednesday, June 12, 2013

طیب اردوغان بمقابلہ عالمی قوتیں - جناب عبدالغفار عزیز کے قلم سے



استنبول کا ایک چھوٹا سا پارک ختم کرنے پر شروع ہونے والا "ملک گیر" احتجاج ترکی میں تو ختم ہو رہا ہے، لیکن عالمی ذرائع ابلاغ اسے اب بھی مسلسل ہوا دے رہے ہیں۔ معروف برطانوی رسالے  اکانومسٹ  نے اپنے تازہ شمارے کے ٹائٹل پر وزیراعظم طیب اردوغان کی بڑی سی تصویر شائع کی ہے: عثمانی خلیفہ کا لباس پہنے، مسند لگائے بیٹھے وزیر اعظم اردوغان پر پھبتی کستے ہوئے سرخی جمائی ہے "ڈیموکریٹ یا سلطان؟"۔

Wednesday, May 29, 2013

ایک بہادر اور انسان دوست یہودی خاتون، میڈیہ بنجامن


جب امریکی صدر اوباما نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے زیرِ انتظام نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے ذریعے اپنی نئی ڈرون حملوں کی پالیسی اور امریکہ کیلئے اس قدر مہنگی اور بدنامی کا باعث گوانتاموبے کی جیل بند کرنے کے بارے میں قوم اور دنیا کو آگاہ کر رہے تھے تو سامعین میں موجود ایک امریکی خاتون نے تقریر کے آخری مراحل میں اختلاف اوراحتجاج کرتے ہوئے تقریر میں خلل ڈالا تو صدر اوباما نے انہیں کہا کہ وہ صدر کی تقریر ختم ہونے دیں
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...