زیتون کی شاخ کسے کہتے ہیں؟ باقی دنیا میں تو جسے بھی کہتے ہوں، مصر میں مشین گن کوکہتے ہیں! مصر کے قائم مقام صدر نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد قوم سے خطاب کیا اور اخوان المسلمون کو ، جس کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فوج نے صدارت ان کے حوالے کی، زیتون کی شاخ کی پیشکش کی۔ اور کہا کہ اخوان کو قومی عمل میں شامل کیا جائے گا۔
Sunday, July 7, 2013
Saturday, July 6, 2013
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر - ویڈیو دیکھیں
آپ نے بوم رنگ کا نام سنا ہو گا۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہوتا ہے جو پھینکنے والے کی طرف واپس پلٹ آتا ہے۔ ہمارے رویے بھی بعینہ اسی طرح عمل کرتے ہیں، جو جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں لازمی ہماری طرف پلٹ کر آتا ہے۔ اچھے اعمال کا نتیجہ بھی اچھا اور برے کاموں کا انجام بھی خراب ہوتا ہے۔ دوسروں کو پیار اور عزت دیں گے تو ہمیں بھی پیار اور عزت ہی ملے گا۔ دوسروں کو تنگ کریں گے تو سکھ ہم بھی نہ پا سکیں گے۔
کیا محمد مرسی واقعی آمر ہے ؟ - جناب اسد احمد کے قلم سے
محمد حسنین ہیکل مصر کے نہایت معروف صحافی ہیں، انھیں مصری اپنا والٹر لیپ مان کہتے ہیں جو امریکا کے بزرگ صحافیوںمیں شمار ہوتے ہیں۔ آپ مصری صدرجمال عبدالناصر اور انورسادات کے کافی قریب رہے ، جب انور سادات سے کسی معاملے پر اختلاف ہوا تو جیل کی ہوا بھی کھائی۔ میڈیا اور مغرب کے تعلق پرمحمد حسنین ہیکل نے ایک جگہ لکھا ہے کہ مغرب میڈیا پر اس قدر کامل دسترس رکھتا ہے کہ وہ جب چاہے تیسری دنیا کے کسی بھی رہنما کو سارے جہاں میں بدنام کرنے کی مہم چلا کر پنجرے میں بند پرندے کی طرح بے بس کردے ۔
Labels:
عالمی سیاست
,
مسلم دنیا
Tuesday, July 2, 2013
الطاف بھائی پریشان نہ ہوں! - جناب ابو نثر کے قلم سے
وطن عزیز پاکستان میں قانون کی عمل داری کا جو عالم ہے اُس کے پیشِ نظر تو اب تقریباً ہر صوبائی وزیر قانون کے عہدے کا نام بدل کر ’’وزیر لاقانونیت‘‘ رکھ دینا چاہیے۔بالخصوص ہمارے شہر کراچی کے شہری جو پہلے قانون کے اطاعت گزار ہوتے تھے، اب ’’لاقانونیت‘‘ کے فرماں بردار بننے پر مجبور ہوگئے ہیں۔تاہم پچھلے دنوں ہمارے صوبہ پنجاب کے ’’وزیر لاقانونیت‘‘نے(جو فی الحال وزیر قانون ہی کہے جارہے ہیں) ایک بڑی قانونی اور بہت پتے کی بات کہی ہے۔
Sunday, June 30, 2013
شکاری پرندوں اور ہم غلاموں کا قصّہءِ مشترک
چند دن ہوئے کہ میں بی-بی-سی پر پرندوں کے متعلق ایک معلوماتی پروگرام دیکھ رہا تھا۔ نہ جانے اس پروگرام کو دیکھتے ہوئے مجھے وہ سب کچھ جانا پہچانا سا کیوں لگنے لگا۔ غور کیا تو پتہ چلا کہ وہ سب کچھ اس لیے جانا پہچانا لگ رہا تھا کیونکہ اس سے ملتی جلتی کہانی ہماری اور ہمارے دیس پاکستان کی ہے۔گو کہانی وہی ہے، بس ان پرندوں کی جگہ ہم ہیں اور ان کے مالکوں کی جگہ ہمارے آقا ہیں۔ پچھلے چھیاسٹھ سالوں میں پاکستان میں یہی کھیل چلتا آ رہا ہے۔ مماثلتیں اتنی گہری تھیں کہ اور وہ سب کچھ اتنا صاف اور واضح تھا کہ مجھے اُن پرندوں میں پاکستان کی شبیہ نظر آنی شروع ہو گئی۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب نے تو صرف ایک ادبی استعارے کے طور پر لکھا تھا کہ "الو ہمارے بھائی ہیں"، لیکن اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ کو اس پر یقین بھی آ جائے گا۔ چلیں الو نہ سہی، یہ شکاری پرندے ہی سہی۔
اُس پروگرام کی تفصیل کچھ یوں ہے:
Thursday, June 27, 2013
Monday, June 24, 2013
پیاری ببلی - شررؔ جی کے قلم سے
آفس میں کام کی زیادتی نے مجھے آج شدید تھکا دیا تھا ۔ راحیل صاحب کی شادی تھی اور وہ چھٹیوں پر تھے جس وجہ سے میں ان کے بیک اپ پر ان کے کام کو بھی ہینڈل کر رہا تھا ۔ اور اُدھر گھر میں لوڈشیڈنگ کے عذاب نے بھی جینا محال کر رکھا تھا ۔ کافی دنوں سے صحیح طرح سے سو بھی نہیں پایا تھا ۔ پر آج میں نے تہیہ کرلیا تھا کہ گھر جا کر سیدھا چھت پر چلا جاؤں گا اور دو تین گھنٹے تو کم از کم ٹِکا کر نیند پوری کروں گا ۔
Saturday, June 22, 2013
فیصل آبادیاں - جناب شرر جی کے قلم سے
ویسے تو پاکستان ایک خوبصورت اور دلکش ملک ہے مگر اس کے چند شہر اپنی تہذیب و تمدن اور اپنی ثقافت اور روایات کی بدولت دنیا بھر میں بہت مقبول و معروف ہیں۔ ان میں شہر قائد کراچی کا ایک الگ مقام ہے۔ اسے روشنیوں کا شہر کہتے ہیں اسی لئے کے ایس سی نے اسے اندھیرے میں ڈبو رکھا ہے۔ لاہور کی تو کیا بات ہے جی۔ اسے تو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مگر اب اس کی شریانیں بند ہو گئیں ہیں۔ اور اس دل کی دھڑکن کا ردھم بھی اِرریگولر ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی وقت ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے۔ اب ہم بات پاکستان کے تیسرے بڑے شہر لائلپور "فیصل آباد" کی کر لیتے ہیں۔
Labels:
Pakistan
,
پاکستان
,
متفرق مضامین
,
مزاح
Thursday, June 20, 2013
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)









