مولانا علامہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے اکنامکس کے استاد محترم شاہد صدیق صاحب بہت یاد آتے ہیں۔ پڑھاتے تو وہ اکنامکس تھے لیکن ساتھ ساتھ بر محل اقوال اور اشعار بھی سناتے جاتے تھے۔ ان کی ایک بہت خاص بات یہ تھی کہ وہ دو زبانوں میں لیکچر دیتے تھے۔ ایک فقرہ انگریزی میں ادا کرتے تھے، پھر اس کو اردو میں ادا کرتے تھے۔ ان کا ہر فقرہ نگینے میں جڑا ہوا ہوتا تھا۔ ہر جملہ اتنا ٹھہر ٹھہر کے ادا کرتے کہ اس کو آرام سے لکھا جا سکتا تھا۔ ان کا جملہ کہنے کا انداز اتنا دلکش ہوتا تھا کہ میں اکثر ان کے چہرے پر نظریں جمائے ان کو بولتا ہوا دیکھا کرتا تھا اور ان کو دیکھنے سے جی نہیں بھرتا تھا۔ ان کے چہرے پر گھنی مونچھیں (بالکل آفتاب اقبال کی مونچھوں جیسی) تھیں، جو ان پر بہت بھلی لگتی تھیں۔ میرا اللہ میرے استاد محترم کو خوش رکھے اور انہیں اپنی بے پناہ رحمتوں کے حصار میں رکھے۔ آمین۔
Friday, June 20, 2014
Monday, June 16, 2014
بجٹ والی مائی - عمران زاہد کے قلم سے
کچھ عرصہ ہوا کہ ہمارے اکاؤنٹس کے افسرِ اعلیٰ جناب ساجد صاحب سے بات چیت ہو رہی تھی۔ فرمانے لگے کہ ان کی فیلڈ میں اس اکاؤنٹنٹ کو نااہل مانا جاتا ہے جو کھاتوں میں منافع دکھائے۔ خسارہ دکھانے والا اکاؤنٹنت ہی با صلاحیت مانا جاتا ہے۔ نہ تو ہمیں اکاؤنٹینسی کے شعبے سے کچھ لینا دینا ہے اور ظاہر ہے یہ ان کا پیشہ ہے اور وہ اس کے حسن و قبح کو ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہم نہ ہی ان کے اس خسارے والے اصول پہ علمی بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی یہ بات اس وقت شدت سے یاد آئی جب ہمیں وفاقی و صوبائی وزراء خزانہ کے خسارے والے بجٹ سننے کو ملے۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
سیاست
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
معاشرت
Thursday, June 12, 2014
آئی ایل ایم اور یو ایم ٹی میں میرے پندرہ سال - عمران زاہد کے قلم سے
شام کے وقت مجھے گھر سے کال آئی کہ کیا آپ نے گھر نہیں آنا؟
میں نے جواب دیا کہ نہیں، آج دیر ہو جائے گی کیونکہ آج ہماری سالگرہ ہے۔
بیگم بولیں کہ ہماری سالگرہ آج تو نہیں۔
میں نے کہا، بھئی، آج ہمارے آئی ایل ایم اور یو ایم ٹی کی سالگرہ ہے۔
بیگم جواباً بولیں، جناب، یو ایم ٹی کو موجودہ مقام پر پہنچانے میں میرا بھی بڑا حصہ ہے۔
Labels:
پاکستان
,
حالاتِ حاضرہ
,
شخصیت
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
Thursday, June 5, 2014
وہ ایک لمحہ - عمران زاہد کے قلم سے
Labels:
حالاتِ حاضرہ
,
شخصیت
,
طلبہ سیاست
,
عمران زاہد
,
مسلم دنیا
,
معاشرت
Saturday, May 31, 2014
Thursday, May 15, 2014
سونے کے دل والا آدمی - عمران زاہد کے قلم سے
ایک ایسا شخص جس کا دل سونے کا ہے۔ خالص سونے کا۔
اسے کسی کی تکلیف کا پتہ چلتا ہے تو وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ جو بن پڑتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ سب سے پہلے اپنی جیب میں جو ہوتا ہے نکال کے سامنے رکھ لیتا ہے اس کے بعد وہ اپنے دوستوں، عزیزوں، شاگردوں کو کہتا ہے کہ بھئی فلاں مصیبت زدہ کی مدد کرنی ہے۔ اللہ تعالٰی نے ایسی تاثیر دی ہے کہ پل بھر میں رقم جمع ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کا آپریشن ہونا تھا، چالیس ہزار کی رقم چاہیئے تھی۔ ایک دوست نے سوشل میڈیا پہ اس مریض کی ضرورت کے بارے میں شئیر کیا تو چند لمحوں میں ہی ایک بیرون ملک پرانے شاگرد نے پیسے بھجوا دیے۔ مون مارکیٹ میں دھماکہ ہوا تو نادار زخمیوں کے علاج معالجے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ہوپ والوں سے مصنوعی اعضاء کا بندوبست کروایا۔
Labels:
سماجی بہبود
,
شخصیت
,
عمران زاہد
,
معاشرت
Wednesday, May 14, 2014
اچھی نرسیں - عمران زاہد کے قلم سے
کل نرسوں کا عالمی دن منایا گیا۔ عالمی دن منانے کا رواج بھی خوب ہے۔ اب تو شاید 365 دن کسی نہ کسی سلسلے میں منائے جاتے ہوں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ کہیں کوئی ایسا وقت نہ آ جائے کہ ایک ایک دن دو دو چیزوں کے لیے منایا جائے۔ جہاں باقی ہر چیز میں سیچوریشن ہو جاتی ہے تو عالمی ایام میں کیوں نہیں، سال تو 365 دنوں سے بڑھنے سے رہا۔
Labels:
حالاتِ حاضرہ
,
عمران زاہد
,
متفرق مضامین
,
معاشرت
Sunday, March 9, 2014
سعودی حکومت نے الاخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا - جناب عطاء سراجی کے قلم سے
وہ یہی دن تهے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم اپنے تعلیمی اداروں کے نصاب میں الاخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا رحمۃ اللہ اور دوسرے اخوانی عمائدین کی کتابیں شامل کئے ہوئے تهی شائد کہ اس وقت یہودیوں کو الاخوان المسلمون سے اس قدر خوف لاحق نہیں تها اور سعودی حکمرانوں میں اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھنے والے بهی کچھ افراد موجود تهے، اور یہ بهی دن آیا ہے کہ انهی کتابوں کے پڑھنے والے اور اسی سوچ کے حامل افراد کو صرف اس سوچ کے قائل ہونے کی بنا پر دہشتگرد قرار دے کر پابندی لگائی گئی ہے۔
Labels:
Egypt
,
Muslim World
,
Politics
,
اسلام
,
سیاست
,
عالمی سیاست
,
عطاء سراجی
,
مسلم دنیا
Wednesday, March 5, 2014
خرم مراد میموریل لیکچر 2014 - چند تاثرات - عمران زاہد کے قلم سے
جناب خرم مراد مرحوم جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے ایک نمایاں راہنما تھے۔ زمانہ طالبعلمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلٰی رہے اور اپنی قران فہمی کے لیے بہت جانے پہچانے جاتے تھے۔ جماعتِ اسلامی میں فکرِ تازہ کا ایک استعارہ تھے۔ لیکن خدا نے ان کو مہلت نہ دی کہ وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنا سکتے۔ اُن کی وفات بلا شبہ تحریکِ اسلامی کے لیے بھاری نقصان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُن کی وفات کے بعد، 2008 سے "خرم مراد میموریل لیکچر" کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ہر سال کسی نہ کسی سکالر کو بلایا جاتا ہے اور اسلام اور اسلامی تحریکات، موجودہ دور کے چیلنجز اور متعلقہ موضوعات پر عالمانہ خطبہ پیش کیا جاتا ہے۔
Labels:
JI
,
Pakistan
,
اسلام
,
تقریب
,
حالاتِ حاضرہ
,
طلبہ سیاست
,
عمران زاہد
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)









