Showing posts with label طلبہ سیاست. Show all posts
Showing posts with label طلبہ سیاست. Show all posts

Saturday, November 22, 2014

ایک تربیت گاہ کی یادیں - عمران زاہد کے قلم سے


سن 1992 کی بات ہے، مہینہ شاید نومبر کا ہی تھا کہ جمعیت صوبہ پنجاب کی ایک تربیت گاہ بہاولپور میں رکھی گئی۔ سفر میں زیادہ سامان سے مجھے ہمیشہ کوفت ہوتی ہے، لہٰذا والدہ سے کرایہ لیا اور خالی ہاتھ گھر سے نکل آیا۔ والدہ نے اصرار بھی کیا کہ ساتھ کوئی گرم کمبل لیجاؤ کہ وہاں رات کو ٹھنڈ ہو گی۔۔ لیکن کمبل کو اٹھانے کی کوفت سے بچنے کے لیے میں سنی ان سنی کرتا ہوا ویسے ہی گھر سے نکل آیا۔ ایک ہلکی سی چادر ضرور جماعتی سٹائل میں اوڑھ لی کہ سردی سے بچاؤ کے لیے کافی ہے۔ بار بار اتارنے اور پہننے سے بچنے کے لیے مجھے تسموں والے بوٹ بھی ہمیشہ سے اَن ایزی لگتے تھے لہٰذا عام گھریلو چپل ہی پہنے رکھی کہ اس میں پاؤں کو خاصا سکون ملتا ہے۔

Tuesday, November 4, 2014

عمران خان کے نواز شریفی ہتھکنڈے - عمران زاہد کے قلم سے


میاں نواز شریف ماضی میں اپنے اتحادیوں کی سبکی کا باعث بنتے رہے ہیں بلکہ یہ رویہ ان کی اہم سیاسی حکمت عملی بن چکا ہے۔ چانکیہ کوٹلیا کی فلاسفی کہیں یا میکاولی کے اصول کہیں، سیاسی کامیابی کے لیے ایسے ہی طریقے بیان کیے گئے ہیں کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لو اور ضرورت نہ ہو تو باپ کو بھی گڑھے میں ڈال دو۔ عمران خان صاحب بھی اسی روش پر گامزن ہیں۔ موجودہ دھرنے  کے دوران قادری صاحب اور عمران خان صاحب کے درمیان طے شدہ باتوں سے خان صاحب کا نظریہ ضرورت کے تحت انحراف اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس ضمن میں بہت سی  باتیں تو علامہ طاہرالقادری کے حوالے سے میڈیا میں آ چکی ہیں۔ وہ بیچارے مایوس ہو کر خان صاحب کا ساتھ ہی چھوڑ گئے۔

Thursday, June 5, 2014

وہ ایک لمحہ - عمران زاہد کے قلم سے


نصر اللہ شجیع، جو اپنے ایک طالبعلم کی جان بچاتے ہوئے دریائے کنہار کی موجوں کی نذر ہو گئے،  کو میں نہیں جانتا۔ لیکن اتنا میں بے دھڑک کہہ سکتا ہوں کہ وہ بلاشبہ ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ایسا میں ان کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں۔

Wednesday, March 5, 2014

خرم مراد میموریل لیکچر 2014 - چند تاثرات - عمران زاہد کے قلم سے



جناب خرم مراد مرحوم جو جماعتِ اسلامی پاکستان کے ایک نمایاں راہنما تھے۔ زمانہ طالبعلمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلٰی رہے اور اپنی قران فہمی کے لیے بہت جانے پہچانے جاتے تھے۔ جماعتِ اسلامی میں فکرِ تازہ کا ایک استعارہ تھے۔ لیکن خدا نے ان کو مہلت نہ دی کہ وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنا سکتے۔ اُن کی وفات بلا شبہ تحریکِ اسلامی کے لیے بھاری نقصان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُن کی وفات کے بعد، 2008 سے "خرم مراد میموریل لیکچر" کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ہر سال کسی نہ کسی سکالر کو بلایا جاتا ہے اور اسلام اور اسلامی تحریکات، موجودہ دور کے چیلنجز اور متعلقہ موضوعات پر عالمانہ خطبہ پیش کیا جاتا ہے۔  

Monday, September 16, 2013

اک تاریخ نہاں ہے نعروں میں ۔ جناب احمد شاہین کے قلم سے


اگر آپ نے زمانہ طالبعلمی کسی سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں گزارا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کے کان نعروں سے محروم رہے ہوں۔ خوشی کا موقع ہو یا غمی و افسوس کا، انتظامیہ سے چپقلش پیدا ہوجائے یا ادارے کے دو برتن آپس میں ہی ٹکرا جائیں، سب سے پہلے بلند ہونے والی صدا یقینا ایک نعرہ ہوتی ہے اور اس کے بعد "دے مار، ساڑھے چار" خیر یہ مضمون کسی چٹ پٹے پھڈے کا احوال سنانے کیلئے تو تحریر نہیں کیا جارہا  بلکہ کوشش ہے کہ دور طالب علمی  کی یادوں کو کرید کر ذرا "نعرہ بازی" کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...