Showing posts with label خودنوشت. Show all posts
Showing posts with label خودنوشت. Show all posts

Friday, May 15, 2015

ٹی وی ہمارے بچپن کا ۔ عمران زاہد کے قلم سے


پہلا ٹی وی جو ہم نے دیکھا  وہ ہمارے ہمسائیوں کا تھا۔ 
بات بہت پرانی نہیں ہے، یہی کوئی اَسّی کی دہائی کی بات ہے۔
اس دور میں ہم ریڈیو سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمیں  روزانہ شام کو بچوں کی کہانی سننے کا لپکا تھا۔ کہانی کے بعد بچوں کا گیت ضرور لگتا تھا۔ چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے ریڈیو پہ ہی سنا تھا۔ ہم بہن بھائیوں میں ریڈیو پہ قبضہ جمانے کا مقابلہ چلتا تھا۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ریڈیو کو اپنی گود میں رکھ کر کہانی سنے۔  اس طرح سے آواز صاف سنائی دیتی تھی۔

Saturday, November 22, 2014

ایک تربیت گاہ کی یادیں - عمران زاہد کے قلم سے


سن 1992 کی بات ہے، مہینہ شاید نومبر کا ہی تھا کہ جمعیت صوبہ پنجاب کی ایک تربیت گاہ بہاولپور میں رکھی گئی۔ سفر میں زیادہ سامان سے مجھے ہمیشہ کوفت ہوتی ہے، لہٰذا والدہ سے کرایہ لیا اور خالی ہاتھ گھر سے نکل آیا۔ والدہ نے اصرار بھی کیا کہ ساتھ کوئی گرم کمبل لیجاؤ کہ وہاں رات کو ٹھنڈ ہو گی۔۔ لیکن کمبل کو اٹھانے کی کوفت سے بچنے کے لیے میں سنی ان سنی کرتا ہوا ویسے ہی گھر سے نکل آیا۔ ایک ہلکی سی چادر ضرور جماعتی سٹائل میں اوڑھ لی کہ سردی سے بچاؤ کے لیے کافی ہے۔ بار بار اتارنے اور پہننے سے بچنے کے لیے مجھے تسموں والے بوٹ بھی ہمیشہ سے اَن ایزی لگتے تھے لہٰذا عام گھریلو چپل ہی پہنے رکھی کہ اس میں پاؤں کو خاصا سکون ملتا ہے۔

Wednesday, July 24, 2013

گھوم چکے ہم نگری نگری - جسٹس حاذق الخیری کی خود نوشت "جاگتے لمحے" سے ماخوذ


ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد مجھے ایل ایل بی کا امتحان بھی دینا تھا، جو چھ ماہ بعد تھا، چنانچہ میں نے ایم اے ہسٹری میں داخلہ لے لیا جس کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمود حسین تھے، وہ اس وقت شعبہ آرٹس کے ڈین بھی تھے، الیکشن کا چسکہ تو پڑ ہی چکا تھا، سوچا کہ کیوں نہ سیکرٹری ہسٹری سوسائٹی کا الیکشن لڑا جائے، اس دفعہ بھی وہ ترکیب کام آئی، یعنی لڑکیوں سے وعدہ لے لیا
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...