Sunday, August 4, 2013

آسان زندگی - جناب سید ثمر احمد کے قلم سے



کون ہے جو آسان زندگی نہیں چاہتا؟ کون ہے جو آسانی کو پسند نہیں کرتا؟ ہر شخص کی خواہش ہے کو اس کی زندگی خوبصورت اور سہل انداز میں گزرے۔ یہ ایک جائز اور فطری خواہش ہے ۔ لیکن فی زمانہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس کی تلاش میں سر ٹکراتی پھرتی ہے اور خانماں برباد ہے۔ کیا یہ ایک سراب ہے جو موجود نہیں لیکن اپنے پیاسے کو مارے جاتا ہے؟ کیا یہ ایک خوشنما دلدل ہے کہ نکلنے کے لیے جتنے ہاتھ پاؤں مارو اور دھنستے چلے جاؤ؟ ہم آج یہ ثابت کریں گے کہ یہ سراب ہے نہ دلدل بلکہ ایک قابلِ حصول منزل ہے۔ ہر وہ شخص جو مضبوط ارادے کے ساتھ اس مضمون کو اپنا لے گا ، اپنی زندگی میں اسی لمحے سے فرق محسوس کرلے گا۔ ہم گلشنِ حیات میں کینسر کے اس ناسور کی نشان دہی کیے دیتے ہیں اور علاج کے لیے یقینی نسخہ بھی بتائے دیتے ہیں۔ 

Saturday, August 3, 2013

بنگلہ دیش: مکتی باہنی کے جرائم کا جواب دہ کون؟ - آصف جیلانی کے قلم سے

پروفیسر غلام اعظم کو ایک متنازعہ فیصلے میں نوے سال قید کی سزا سنائی گئی
بنگلہ دیش میں پھر ایک بار انتقام اور سیاسی رقابت کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ جماعت اسلامی کے اعلیٰ راہنماؤں کے خلاف چالیس سال پہلے علیحدگی کی جنگ کے دوران نام نہاد جنگی جرائم کے مقدمات کا جو سلسلہ جاری ہے اس میں اب علی احسن مجاہد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

Tuesday, July 30, 2013

وزیر صاحبہ! آیئے چوبیس گھنٹے ایک دوسرے کے قالب میں گزار کر دیکھتے ہیں


عزیزی بیٹرس آسک!

بہت سی وجوہات ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بتاتی ہیں۔ آپ پچاس کی دہائی کے وسط میں پیدا ہوئیں، میری پیدائش ستر کے عشرے کے آواخر میں ہوئی۔ آپ ایک خاتون ہیں، میں ایک مرد ہوں۔ آپ سیاستدان ہیں، میں ایک مصنف ہوں۔ لیکن ہمارے درمیان کچھ چیزیں مشترک بھی ہیں۔ ہم دونوں نے بین الاقوامی اقتصادیات کا مضمون پڑھا ہے۔ (اور دونوں ہی ڈگری حاصل کرنے میں ناکام رہے) ہم دونوں کے بالوں کا اسٹائل تقریباً ایک جیسا ہے (گو ہمارے بالوںکا رنگ مختلف ہے)۔

Monday, July 29, 2013

مصر خانہ جنگی کے دہانے پر - جناب عبدالغفار عزیز


اسرائیلی صحافی ڈینئل رونی نے تو بیچ بازار بھانڈا پھوڑ دیا۔اسرائیلی چینل 2کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ مصری فوج کے سربراہ جنرل سیسی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو انقلاب سے تین روزپہلے بتا دیا تھا کہ وہ منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے والے ہیں۔ ڈینئل کے بقول: ”جنرل سیسی کو خدشہ تھا کہ صدر مرسی کے خلاف انقلاب لانے پر غزہ سے فلسطینی مجاہدین صدر مرسی کی مدد کے لئے مصر میں نہ داخل ہوجائیں۔ نیتن یاہو نے نہ صرف یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ اس جانب سے تسلی رکھیں بلکہ یہ بھی کہا کہ مرسی حکومت کا خاتمہ ہمارے امن و سلامتی کا اہم تقاضا بھی ہے البتہ بدلے میں تقاضا کیا کہ انقلاب لانے کے بعد وہ غزہ کو سپلائی فراہم کرنے کے لئے فلسطینیوں کی بنائی ہوئی سرنگیں تباہ کردیں گے۔“ اور پھر جنرل سیسی اور نیتن یاہو دونوں نے اپنااپنا وعدہ پوراکردیا۔ نیتن یاہو نے انقلاب کی حفاظت کی اورسیسی نے اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد سرنگیں تباہ کردیں۔

Saturday, July 27, 2013

نواز لیگ نائن زیرو یاترا - جناب زاہد مصطفی کے قلم سے



اگر جذبات سے لوگ ذرا ہٹ کے سوچیں تو مانیں گے کہ مسلم لیگ کے پاس نائن زیرو جانے اور MQM کے پاس نون لیگیوں پر گل پاشی کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں تھا- بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ نواز لیگ نے نائن زیرو آنے میں کچھ تاخیر کی اور وجہ تاخیر یہی تھی کہ MQM کا دماغ لندن ڈرامے کے ذریعے ٹھیک کیا جائے اور ان کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملات طے کیے جائیں اس لیے لندن ڈرامے کی کچھ اقساط پیش کرکے باقی کی اقساط تکنیکی خرابی کی بنیاد بنا کر موخر کردی جائیں گی۔

Thursday, July 25, 2013

اُنھیں ملالِ ملالہ بہت ہے ۔۔۔ کیوں نہ ہو؟ - نثر خند کے قلم سے



اقوام متحدہ کی ’’یوتھ اسمبلی‘‘ میں لگنے والے نعرے۔۔۔ ’’میں ہوں ملالہ‘‘ (I am Malala)۔۔۔کی گونج اب کچھ کچھ معدوم ہوتی جارہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اہلِ ملال کچھ عرصہ کے بعد اِس پُرملال قصے کو بالکل ہی بھول بھال جائیں؟اِس خدشے کے پیش نظرآئیے ہم اس داستان کے دیے کی لو ایک بار پھرکچھ اونچی کردیں۔یوں تو ہونے کو ایسے حملے بہت ہوئے۔ مگر 9اکتوبر 2012ء کو سوات میں ملالہ یوسف زئی اور اُس کی دو ساتھیوں پر حملے کی خبر بی بی سی اور سی این این سے نشر ہوئی تو ہمارے میڈیا کو بھی خبر ہوئی۔

ملالہ کے ایک ہمدرد کالم نگار کا ملالہ کے والد اور میڈیا کمپنی کے رویوں پر اظہارِ تعجب


عظیم ایم میاں جنگ کے صفحات میں ملالہ کے حق میں کالم لکھ چکے ہیں۔ جس میں انہوں نے دل کھول کر ملالہ کی اور اس کی تعلیم سے کمٹمنٹ کی تعریف کی تھی۔ میاں صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں بھی ملالہ کی تعریفیں کی ہیں لیکن بچوں کی نگہداشت کے امریکی قوانین  کی روشنی میں جس طرح سے ملالہ کے والد اور  میڈیا کمپنی کے رویوں کا ذکر کیا ہے، وہ سوچنے سمجھنے والے قارئین کے لیے بین السطور میں پڑھنے کے لیے بہت کچھ چھوڑتا ہے۔ اس کو پڑھ کرملالہ کے ایک پپٹ ہونے کا تاثر مذید پختہ ہو جاتا ہے۔ان شکوک کو مذید ہوا ملتی ہے جو سوشل میڈیا میں پہلے سے ہی کھلے الفاظ میں مباحث کا موضوع ہیں۔ ضرور پڑھیے۔

Wednesday, July 24, 2013

گھوم چکے ہم نگری نگری - جسٹس حاذق الخیری کی خود نوشت "جاگتے لمحے" سے ماخوذ


ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد مجھے ایل ایل بی کا امتحان بھی دینا تھا، جو چھ ماہ بعد تھا، چنانچہ میں نے ایم اے ہسٹری میں داخلہ لے لیا جس کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمود حسین تھے، وہ اس وقت شعبہ آرٹس کے ڈین بھی تھے، الیکشن کا چسکہ تو پڑ ہی چکا تھا، سوچا کہ کیوں نہ سیکرٹری ہسٹری سوسائٹی کا الیکشن لڑا جائے، اس دفعہ بھی وہ ترکیب کام آئی، یعنی لڑکیوں سے وعدہ لے لیا

Monday, July 22, 2013

ملالہ کا شکریہ - عبداللہ طارق سہیل کے قلم سے


ملالہ یوسف زئی کے بارے میں پاکستان بٹا ہوا تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے وہ امریکہ کی ایجنٹ ہے (شاید بے خبر ایجنٹ، اس کے اصل سودا کا رتو کچھ اور لوگ تھے جن کا چیف سیلز مین ملالہ کا ’’روشن ضمیر‘‘ باپ ہے) اور کچھ لوگ کہتے تھے وہ دہشت گردی کے خلاف بہادری کی علامت تھی جو بچیوں کی تعلیم کے لئے لڑتی ہوئی گولی کا نشانہ بنا دی گئی۔ امریکہ اور برطانیہ کی مہربانی سے پاکستانیوں کی الجھن دور ہوگئی اور ملالہ کی بھی مہربانی (اصل میں ان کی مہربانی جنہوں نے اُسے تقریر لکھ کر دی) جس نے اقوام متحدہ میں تقریر کرکے خود کو بے نقاب کر دیا۔اور اپنے آقاؤں کی نشاندہی بھی کر دی۔

Saturday, July 20, 2013

بین المذاہب مذاکرہ میں اسلام کا پیغام بصورتِ اذان - ویڈیو


یہ ویڈیو امریکہ میں لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں ایک چرچ میں اذان پر مشتمل ہے۔ موذن کے دائیں ہاتھ ایک یہودی ربّی اور بائیں ہاتھ عیسائی کیتھولک پادری بیٹھے ہوئے ہیں۔

بیشتر مغربی ممالک میں "انٹر فیتھ ڈائیلاگ" کے عنوان سے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے لوگ آپس میں مل بیٹھ کر ایک مثبت ماحول میں مذاکرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ گمان غالب ہے کہ یہ ویڈیو بھی ایسے ہی کسی موقعہ کی ہے۔ اذان ایک بڑا خوبصورت پیغام ہے جو سننے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب موذن خوش الحان بھی ہو۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...