Saturday, May 18, 2013

الیکشن تجزیہ - حصہ اول


الیکشن تجزیوں کے ضمن میں قومی اسمبلی کے الیکشن میں مختلف پارٹیوں کو پڑنے والے ووٹوں کا تناسب پاکستان اور صوبوں میں کل ڈالے گئے ووٹوں کے حساب سے درج کیا گیا ہے۔

Friday, May 17, 2013

کیا آپ الیکشن 2013 کا ڈیٹا ایکسل فارمیٹ میں چاہتے ہیں؟


عزیز دوستو
السلامُ علیکم
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ "غیر ضروری بلاگ عُرف آئی چوپال ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام" کی انتظامیہ نے الیکشن 2013 کے سارے ڈیٹا کو ایکسل فارمیٹ میں ڈھالنے کا منصوبہ شروع کیا۔

Thursday, May 16, 2013

کالا باغ ڈیم - محمد سلیمان خان کے قلم سے

Kala Bagh Dam Model

سائیں!آپ کیوں کالا باغ ڈیم کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ کالا باغ ڈیم تو پنجاب میں بن رہا ہے۔ سارا فائدہ تو پنجاب کا ہے تو پھر سندھ اس کی منظوری کیوں دے؟ یہ وہ سوالات تھے جو سندھ کے بیشتر لوگوں نے کرنل (ر) عبدالرزاق بگٹی سے ملاقاتوں اور میٹنگز میں کئے۔ یہی وہ شوشے ہیں جن کی گرد اڑا کر بھارتی لابی کے چند گماشتے سندھ میں افواہیں اڑاتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بننے سے سندھ کی دھرتی بنجر ہو جائیگی۔ اسطرح ایک عام سندھی کو کالا باغ ڈیم کا مخالف بنایا ہوا ہے۔ ورنہ میں جانتا ہوں ایک سندھی بھی پاکستان کا اتنا ہی حامی، جانثار اور وفادار ہے جتنا کوئی اور محب وطن پاکستانی ڈاکٹر مجید نظامی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان یا جنرل حمید گل۔

Tuesday, May 14, 2013

جماعتِ اسلامی بلوچستان کے ایک کارکن کی جدوجہد کا احوال

سید نورمحمد شاہ، ضلع ہرنائی، بلوچستان، پاکستان

پیارے قارئین۔ 
السلامُ علیکم۔

بلوچستان کا مسئلہ اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن پر سوار ہے۔ غیروں کی ریشہ دوانیوں اور اپنوں کی حماقتوں کے سبب بلوچستان ایک پُلِ صراط پر کھڑا ہے۔ ایک چھوٹی سی چنگاری ماحول میں موجود بارود کو بھک سے اڑانی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے لوگ اِن چیزوں سے پہلے سے ہی واقف ہیں، مشرقی پاکستان کا سانحہ ہمارے لاشعور کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔
اتنے نازک حالات میں ضرورت اس اَمر کی ہے کہ بلوچستان میں وفاق کو مضبوط کرنے والی پارٹیاں طاقت پکڑیں۔ جماعتِ اسلامی ایک ایسی ہی وفاقی پارٹی ہے۔ اس کا منشور، اس کے کارکن، اس کی قیادت غرض ہر چیز نظریہ پاکستان ، اسلام اور سالمیتِ پاکستان کے جذبے سے معمور ہے۔

نیچے دی گئی تحریر جماعتِ اسلامی پلوچستان، ضلع ہرنائی کے ایک کارکن کی جدوجہد کا احوال ہے۔ ان کا نام سید نور محمد شاہ ہے۔ اپنا مزید تعارف انہوں نے اپنی تحریر میں ہی کروا دیا ہے۔ اُن کی یہ تحریر اُن کی فیس بُک وال سے لی گئی ہے۔ اس کا مقصد ایک تو آپ کو بلوچستان کے حالات کی ہلکی سی جھلک دکھانا ہے اور دوسرا اِن کٹھن حالات میں اہلِ حق کی جدو جہد کی تصویر دکھانا ہے۔ ان کے حالات پڑھ کر بلا اختیار یہ کہنے کا دل کرتا ہے کہ "ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ"۔  لیجیے ملاحظہ فرمائیے ان کی خوبصورت تحریر۔ 

Sunday, May 12, 2013

کراچی کا کوڑھ خانہ - عمران زاہد کے قلم سے



کراچی کے حالات دیکھ دیکھ کر جو دل کڑھتا ہے اس کو میں نے اس مضمون میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرح سے اپنا کتھارسس ہی کیا ہے۔ میرے کسی کراچی کے دوست کو برا لگے تو میں دست بستہ معافی کا خواستگار ہوں۔ میں خود جو ہوں شاید دوسروں کو بھی ویسا ہی دیکھ رہا ہوں۔۔۔ بالکل آئینے کے عکس کی طرح۔ پھر سے معافی کا خواستگار ہوں۔


میری تو سوچی سمجھی رائے یہی ہے کہ کراچی رہنے کے قابل جگہ نہیں رہی۔ اندھیروں کی بستی میں رہنے کی نسبت کسی جنگل میں رہنا ذیادہ موزوں ہے۔ کراچی کے لوگ تعلقات اور رشتے ناتوں کے لیے موزوں ہی نہیں رہے۔ کراچی والوں سے تو کوسوں دور سے گزر جانا چاہیئے۔ ان لوگوں کو تو منہ ہی نہیں لگانا چاہیئے۔ نہ یہ جگہ رہنے قابل ہیں ناں یہ لوگ ملنے کے قابل ہیں۔ یہ کوڑھ خانوں میں رہنے والے کوڑھیوں سے ذیادہ کوڑھ زدہ ہیں۔ ان کوڑھیوں سے تو دور ہی رہنا چاہیئے۔ کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کی طرح ان کو باقی لوگوں سے الگ تھلگ رکھا جانا چاہیئے۔ پاکستان کے باقی لوگوں کو ان کے کوڑھ سے بچانے کے لیے ان پر پابندی عائد کر دینی چاہیئے کہ یہ کسی اور سے نہ ملیں ۔ باقی لوگوں کو بیمار نہ کریں۔

پی ٹی آئی کے الیکشن نتائج کا تجزیہ - عمران زاہد کے قلم سے


الیکشن کے بعد سب سے اہم کام اپنی جیت ہار کا جائزہ لینا ،اس کی مثبت و منفی پہلوؤں کو جانچنا اور آئندہ کے لیے  دوبارہ سے صف بندی کی پلاننگ کرنا ہے۔ پی ٹِی آئی میرے نزدیک جماعت ِ اسلامی کے بعد دوسری آپشن تھی۔ گو میرا ووٹ گیا تو جماعت کو، لیکن پی ٹی آئی کی کارکردگی پرمیری توجہ تھی۔ میرے نزدیک اُن کے نتائج بالکل ٹھیک اندازے کے عین مطابق آئے ہیں۔ لیکن پھر بھی پی ٹی آئی بہتر کارگردگی دکھا سکتی تھی جو وہ نہ دکھا سکی۔ میرے نزدیک اس کی وجوہات  نیچے دی گئی ہیں، ہو سکتا ہے کہ بہت ساری وجوہات overlap کر رہی ہوں، لیکن یہ میرا فوری ردعمل ہے۔

آزاد امیدوار کی درخواست۔۔۔تھانیدار کے نام - گل نوخیز اختر کے قلم سے


تھانیدار صاحب! جمیل ملنگی کی طرف سے آہوں اور سسکیوں بھرا سلام قبول کیجئے۔جس کاغذ پر یہ درخواست لکھ رہا ہوں وہ ذرا گیلا ہورہاہے لیکن ذہن میں کوئی غلط خیال نہ لائیے گا‘ یہ میرے آنسو ہیں جو قطرہ قطرہ کاغذ پر گر رہے ہیں۔

Sunday, May 5, 2013

پیپلز پارٹی کو کیا ہوا ؟ - وسعت اللہ خان کے قلم سے




 تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو۔ارے ہم تو وہ لوگ ہیں جو خود موت کا تعاقب کرتے ہیں؛ یہ تیور تھے آصف علی زرداری کے چار اپریل سنہ 2012 کے گڑھی خدا بخش میں۔ اور پھر بلاول کو اسی گڑھی خدا بخش میں باضابطہ طور پر پارٹی کے کراؤن پرنس کے طور پر مرکزی مقرر کا منصب دیا گیا، پھر نہ جانے کیا ہوا اور ہوتا چلا گیا۔

Thursday, May 2, 2013

امریکہ ہمارے لیڈروں کو کیسے خریدتا ہے - عظیم ایم میاں نیویارک کے قلم سے

 http://www.achievement.org/achievers/kar0/large/kar0-011.jpg

حامد کرزئی ”گھوسٹ منی“ کی بارش اورہم؟...عظیم ایم میاں…نیویارک

بظاہر تو یہ خبر ”نظریہٴ سازش“ اور ہر معاملے میں امریکی ہاتھ دیکھنے والے ذریعہ اور ذہن کی اختراع نظر آتی ہے لیکن29/اپریل کے ”نیوپارک ٹائمز“ میں شہ سرخیوں اور چشم کشا تفصیلات اور انکشافات پر مبنی اس خبر کی تصدیق افغان صدر حامد کرزئی نے فوراً ہی کر دی جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بھی ”نیو یارک ٹائمز“ کی خبر کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے صحافیوں کے کئی سوالات کو ٹالنے کی ناکام کوشش کی۔ آخر کار یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ اس خبر اور رقم کا معاملہ میرے امریکی محکمہ خارجہ سے نہیں ہے۔

یوگنڈا ، مستقبل کا دبئی - محمد عرفان صدیقی ٹوکیو کے قلم سے

  
دریائے نیل کے دیس سے... محمدعرفان صدیقی…ٹوکیو

محترم !آپ اپنی حرکتوں سے ہمارے ملک کا نظم و ضبط خراب کرنے سے گریز کریں ،ایک گرجدار اور کڑکتی ہوئی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ یہ آواز کسی ترقی یافتہ ملک کے امیگریشن آفیسر کی نہیں بلکہ افریقہ کے ایک پسماندہ ملک یوگنڈا کے امیگریشن آفیسر کی تھی جو امیگریشن کی قطار تبدیل کرنے والے کسی عرب ملک سے تعلق رکھنے والے شہری کیلئے تھی جس نے وقت بچانے کیلئے اپنی قطار تبدیل کرلی تھی ۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...