Wednesday, May 14, 2014

اچھی نرسیں - عمران زاہد کے قلم سے


کل نرسوں کا عالمی دن منایا گیا۔ عالمی دن منانے کا رواج بھی خوب ہے۔ اب تو شاید 365 دن کسی نہ کسی سلسلے میں منائے جاتے ہوں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ کہیں کوئی ایسا وقت نہ آ جائے کہ ایک ایک دن دو دو چیزوں کے لیے منایا جائے۔ جہاں باقی ہر چیز میں سیچوریشن ہو جاتی ہے تو عالمی ایام میں کیوں نہیں، سال تو 365 دنوں سے بڑھنے سے رہا۔

مجھے نرسوں سے واسطہ تب پڑا جب والد صاحب ہسپتال میں داخل تھے۔ سچی بات ہے کہ میں نے نرسوں کے بارے میں بہت سے باتیں سن رکھی تھیں، جن میں بہت کم مثبت پیرائے میں تھیں۔ میرا تاثر ان کے بارے میں اگر منفی نہیں تھا  تو کوئی مثبت بھی نہ تھا۔ لیکن جب میرا دن رات کا واسطہ ان سے پڑا تو ان کا کردار بہت عظیم پایا۔ اگر کوئی صیحیح جنت کما رہی ہیں تو یہ نرسیں کما رہی ہیں کہ جو مریضوں کو اپنے والدین اور بھائی بہنوں کی طرح پیار اور لاڈ سے سنبھالتی ہیں۔ ان کی خدمت کرتی ہیں۔ انہیں کھلاتی ہیں، انہیں صاف رکھتی ہیں۔ ان کے لباس اور بستر کا خیال رکھتی ہیں۔ جو مریض سانس کی مشین پر ہوتے ہیں ان کے مانیٹر پر ان کی نظر ہوتی ہے۔ خطرے کی کوئی بھی بیپ بچتی ہی فوراً مدد کو دوڑتی ہیں۔ سانس میں مسئلہ آ جائے تو فوراً سکشن پمپ سے گلا صاف کرنے آ جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کی مبہم تحریر عام آدمی نہیں پڑھ سکتا، لیکن نرسیں ان تحریروں کو پڑھ مریض کو بروقت دوا دیتی ہیں۔ جب بھی کنسلٹنٹ ڈاکٹر وزٹ پہ آتا ہے تو ان کو مکمل رپورٹ دیتی ہیں۔ مریض اگر ہوش میں نہ ہو تو اس کو کروٹ دلاتی ہیں، خیال رکھتی ہیں کہ مریضوں کو بیڈ پہ لیٹے رہنے کی وجہ سے زخم نہ بن جائے۔ ان کو ڈرپ لگی ہے تو اس پر نظر رکھتی ہیں، جب جب اس میں کوئی دوا شامل کرنی ہو تو اپنے وقت کے مطابق اس میں دوا شامل کر دیتی ہیں۔


نرسوں کی کن کن خدمات کو گنواؤں۔ مریضوں کی ہی خدمت نہیں کرتیں، ان کے لواحقین کا حوصلہ بھی بڑھاتی ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کے ازحد خوشی ہوئی کہ نرسیں مریض کا خیال رکھنے میں ان کی مالی حیثیت کا لحاظ نہیں رکھتیں، سب کا ایک جیسا خیال رکھتی ہیں۔




مجھے یاد ہے کہ ایک دو نرسیں والدہ محترمہ سے اتنا گھل مل گئیں تھیں کہ ایسے لگتا تھا کہ ایک ہی خاندان کے لوگ باہم بیٹھے مشورہ کر رہے ہیں۔  ان کی وجہ سے والدہ کو بہت حوصلہ رہتا تھا۔  اللہ تمہیں خوش رکھے میری بے نام بہنو اور بے انتہا اجر سے نوازے ۔ اچھے وقت کے تو بہت سے لوگ ساتھی بن جاتے ہیں لیکن تم ہمارے برے وقت کی ساتھی ہو۔ میرے خیال سے بھی زیادہ عظیم ہو۔

 نرسیں ڈاکٹروں سے زیادہ خیال رکھنے والی ہوتی ہیں۔ کاش ڈاکٹر مرد و خواتیں بھی نرسوں سے کچھ سیکھیں۔ ان کی سی کئیر کا دس فیصد بھی اپنے رویے میں شامل کر لیں تو ولی اللہ بن جائیں۔ مجھے اعتراض صرف اتنا ہے کہ اتنی زیادہ ڈیوٹی کے باوجود ان کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے۔ حکومت کو ان کی تنخواہ موجودہ تنخواہ سے کم از کم دوگنی کر دینی چاہیئِے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو تو کم ہے۔ حالیہ دنوں میں نرسوں نے اپنی تنخواہوں ، کنٹریکٹ اور پے سکیل کے بارے میں بار بار احتجاج کیا ہے لیکن ہماری حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے آگے جھکی ہوئی ہے ، حکومت میں کوئی انسانیت ہو تو نرسوں کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔




نرسوں میں مسلمان اور کرسچین نرسیں دونوں شامل ہیں۔ کرسچن نرسیں پروفیشنل ازم میں باقیوں سے بڑھ کے ہوتی ہیں۔ ان کی تربیت اور انداز کو دیکھ کر مجھے عیسائی نرسوں پر زیادہ بھروسا ہوتا ہے، گو مسلمان نرسوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ گویا  ان کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن  عیسائی نرسیں ہمیشہ ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گی۔ اس مسکراہٹ سے مریضوں کے لواحقین کو بے انتہا حوصلہ ملتا ہے۔

نرسیں اپنا فرض انجام دیتی ہیں اور اس کے عوض صرف احترام چاہتی ہیں۔ لوگ انہیں سسٹر کہتے تو ہیں سمجھتے نہیں، ان کی اتنی خواہش ہے کہ لوگ انہیں سسٹر سمجھنا بھی شروع کر دیں۔۔ 

 اللہ تمہیں  خوش رکھے، شاد و آباد رکھے۔ تم جہاں جہاں بھی ہو، خوش رہو، آباد رہو، سکھی رہو اے اچھی نرسو۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرتی رہو کہ یہی راستہ کامیابی کا ہے۔ تمہاری خدمت کی جزا تنخواہ نہیں ہو سکتی ۔ تمہاری خدمت کی  جزا صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بڑھا چڑھا کر اپنے اجر سے نوازے۔ آمین۔


No comments :

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...