Friday, August 9, 2013

یہودی ایجنٹ - جناب سہراب واصل کے قلم سے


اسلام کے دورِ اول سے لے کر آج تک امت کے مختلف طبقوں اور افراد میں فکر ونظر ، سیاسی مسائل اور رائے کا اختلاف ہوتاچلا آ رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی بنیاد اگرخلوص، تعمیر اور نیک نیتی پر ہو تو اس سے جمود اورتعطل ختم ہوتا ہے اور فکرونظر کی جَلا مل کر ترقی کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں ۔مگر جس دور سے ہم گذررہے ہیں اس میں اختلاف اختلاف نہیں رہا بلکہ مخالفت دشمنی اور بغض تک ترقی کرگیا ہے ۔آج کل کسی سے اختلاف کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اس کی دشمنی مول لی ہے سیاسی اور مذہبی دونوں محاذوں پر اختلاف مخالفت کا نام ہے سیاسی اختلاف کیجئے تو غدار، انتہاپسند، یہودی ایجنٹ اور تخریبی ہونے کا لقب پائیے اور اگر دینی اختلاف ہو تو اپنے متعلق کافر ، مشرک، بے دین، گمراہ اور زندیق جیسے خطابات سننے کو تیار رہیئے۔

ویسے توایک دوسرے پر کیچڑاچھالنا، ایک دوسرے کی کردارکشی کرنا اور فتویٰ بازی میں کفروفسق کے حدود تک پہنچ جانا پاکستان کے تقریبا تمام جماعتوں کے باہمی اختلاف کا لازمہ بن چکا ہے لیکن مخالفت میں اپنے مدمقابل کو یہودی ،امریکی اور ہندو ایجنٹ قرار دینا صرف جمعیت علمائے اسلام کا طرۂ امتیاز رہا ہے گویا انہوں نے لوگوں کے دل چیرکر دیکھ لیا ہیں کہ ان میں فریب اور یہودیت کے سوا کچھ نہیں ۔ گذشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان نے عمران خان پر یہودی ایجنٹ کا فتویٰ داغ کر اپنی روایات کے تسلسل کو برقرار رکھا ،اس لئے عمران پر یہودیت کا لیبل لگنا کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ عوام کو اپنا سیاسی اور مذہبی گرویدہ بنانے کا یہ پرانا طریقہ واردات ہے ۔ مجھے عمران کے یہودی ہونے یا نہ ہونے میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی فضل الرحمان کے مدعا سے سروکار لیکن مسلکی جزئیات یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر مدِمقابل کے یہودی یا امریکی ایجنٹ ہونے کی گہرائی تک پہنچنے کی فضل الرحمانی ذہانت پراور مسلکِ دیوبند یا جےیوآئی سے اختلاف کی پاداش میں ان شخصیات اور اداروں کو یہودی، امریکی یا پھر ہندو ایجنٹ قراردے جانے پرتعجب ضرور ہے جنہوں نے دلیل واستدلال کے میدان میں اسلام کا دفاع کیا اوریہودیت ونصرانیت کا تعاقب کیا، ایک بچہ بھی اس متضاد دعوے کو تسلیم کرنے انکار کرے گا کہ ایک بندہ بیک وقت اسلام اور یہودیت کا علمبردار کیسے ہوسکتا ہے؟

 انہی شخصیات میں سے ایک نام ڈاکٹرذاکرنائیک کاہے جو اس وقت پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کررہاہے، تقابل ادیان کے ماہر اس نامورسپوت نے بارہا یہودیت ،ہندوازم اور نصرانیت کے آنگن میں اسلام کا مقدمہ لڑکرہزاروں غیرمسلموں کو اسلام کا گرویدہ بنایا ہے ،تعلیم کے میدان میں دینی ودنیاوی تفریق کو عملاً غلط ثابت کرکے ہندوستان میں لاکھوں بچوں کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کررہا ہے ۔لیکن خالصتا مسلکی اختلاف کی بناء پر ان کے خلاف کتابیں لکھی گئی،یہودی اور ایجنٹ قرار دیئے ۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ مرحوم  کے نام سے کون واقف نہیں جنہوں نے اشتراکی ملحدوں ،سیکولرازم، منکرین حدیث، متجددین اور قادیانیت کا دندان شکن مقابلہ کیا مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مغربی تہذیب کا محاکمہ اور اسلام کا دفاع کیا۔ عرب ،افریقہ، ایشیاء اور یورپ کے مسلمان ان کو مفکراسلام سمجھتے تھے لیکن پاکستان میں دینی وسیاسی ہردو پلیٹ فارموں سے نت نئے القابات سے نوازا گیا اوربالآخر امریکی ایجنٹ قرارپائے۔

ڈاکٹریوسف القرضاوی کودورجدید کا ابن تیمیہ، امام، محدث اورفقیہ سمجھا جاتا ہے، جنہوں نے اسلام کے جدید فقہی مسائل میں اجتہاد کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا لیکن بعض فقہی آراء سے اختلاف کرتے ہوئے پاکستان کے علمائے عظام پر ان کا بھی یہودی ایجنٹ ہونا منکشف ہوگیا۔ ان کے اور مصرکے جامعہ ازہر کے خلاف فتوے لگے اور کتاییں تصنیف کی گئی اور ازہر کو یہودی استشراق کا مرکزکہا گیا۔

پاکستان میں ڈاکٹرفرحت ہاشمی اوران کا ادارہ الہدیٰ انٹرنیشنل ایک عرصے سے خواتین میں قرآن فہمی عام کرنے کے لئے کوشاں ہے، ہزاروں بچیوں کو قرآن، حدیث اور جدید تعلیم کے ساتھ ہنرسکھایا گیا ہے اوراب بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن مسلک کے اختلاف کو وجہ بنا کر ان کی اور ان کے ادارے کے خلاف امریکی ایجنٹ کا فتویٰ لگایا گیا اب بھی علماء کا ایک ٹولہ ان کے خلاف سرگرم ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان جیسے عظیم لوگوں کو یہودی یاامریکی ایجنٹ کہہ کر ہم دنیا اور مسلمانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں ؟ کیا ہمارا کام صرف مسلمانوں کو کافر اوریہودی بنانا رہ گیا ہے؟ جزئیات کے اختلاف کو مخالفت کا رنگ دے کر کیا ہم اسلام پر عدم بردشت اور فرقہ واریت کے الزام کا ثبوت نہیں پیش کرہے ہیں؟ کل کو خدانخواستہ اگرکوئی جذباتی نوجوان یہودیت کی آڑمیں عمران پر حملہ کرے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس لئے خدارا وقت کی نزاکت کا احساس کیجئے دشمنوں کے ارادے کو تاڑیئے،اگر اس ناپسندیدہ اختلاف سے مغرب ذدہ اور سیکولر ملحدین کا گروہ فائدہ اٹھاکر عام مسلمانوں کو دین اور مذہب سے برگشتہ کررہا ہے اور یقیناً کر رہا ہے تو کیا یہ یہودی ایجنڈے کی تکمیل نہیں ہے؟


مصنف کے بارے میں
جناب سہراب واصل نوجوان عالم دین ہیں، سوات کے علاقہ کبل سے تعلق ہے، جامعہ حقانیہ سوات، اور جامعہ اسلامی تفہیم القران سے تعلیم حاصل کی ۔ آج کل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم-فل سکالر ہیں۔
دینی مدارس کی تنظیم جمعیت طلبہ عربیہ کے صوبہ خیبر پختونخوا کے منتظم (صدر) رہے ہیں، وہاں مختلف ذمہ داریوں کے علاوہ اس کی  مرکزی شوریٰ کے رکن بھی رہے ہیں۔ ان سے اس فیس بک لنک پر مِلا جا سکتا ہے۔

No comments :

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...