Thursday, May 2, 2013

یوگنڈا ، مستقبل کا دبئی - محمد عرفان صدیقی ٹوکیو کے قلم سے

  
دریائے نیل کے دیس سے... محمدعرفان صدیقی…ٹوکیو

محترم !آپ اپنی حرکتوں سے ہمارے ملک کا نظم و ضبط خراب کرنے سے گریز کریں ،ایک گرجدار اور کڑکتی ہوئی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ یہ آواز کسی ترقی یافتہ ملک کے امیگریشن آفیسر کی نہیں بلکہ افریقہ کے ایک پسماندہ ملک یوگنڈا کے امیگریشن آفیسر کی تھی جو امیگریشن کی قطار تبدیل کرنے والے کسی عرب ملک سے تعلق رکھنے والے شہری کیلئے تھی جس نے وقت بچانے کیلئے اپنی قطار تبدیل کرلی تھی ۔

یوگنڈا میں داخل ہوتے وقت میرے لئے یہ افریقی حب الوطنی کا پہلا جھٹکا تھا جبکہ یوگنڈا کے شہریوں اور سرکاری حکام کی جانب سے قانون کی عملداری ، ایمانداری اور حب الوطنی کے ایسے درجنوں واقعات نے اگلے تین دن تک مجھے جس قومی احساس محرومی میں جکڑے رکھا کیونکہ ان تمام چیزوں کی خواہش اور توقع مجھے پاکستان میں رہی ہے، جو آج مجھے پاکستان سے بھی کم ترقی یافتہ افریقی ملک میں دیکھنے کو مل رہی تھی۔ میں امریکہ، جاپان، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے پاکستانی دوستوں کو ان ممالک کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کرنے سے منع کرتا رہا ہوں۔ یہ کہنا کسی حد تک درست ہے کہ ان ممالک کے ساتھ موازنہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے تاہم آج جس ملک میں ہوں اس کا نام سن کر تو دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والا عام آدمی خوفزدہ ہوسکتا ہے، یہاں صرف کچھ عرصہ قبل تک جنگ و جدل ، قتل ، عدم تحفظ اور لوٹ مار جیسے واقعات عام سی بات تھی ، جو میڈیا کے ذریعے عام آدمی تک بھی پہنچتے رہتے تھے، یہی وجہ تھی کہ مجھے کئی دوست احباب نے اہل خانہ کے ساتھ اس ملک کا سفر کرنے سے روکنے کی کوشش کی تاہم میں یہاں آنے کا فیصلہ کرچکا تھا ۔ اگر میں یہاں امیگریشن میں پیش آنے والے واقعے کے بعد افریقہ کے اس پسماندہ ملک کے ساتھ جس نے پاکستان کے بننے کے کافی عرصہ بعد برطانیہ سے ہی آزادی حاصل کی اور جو دو دہائی قبل تک شدید خانہ جنگی کا شکار رہا ہے پاکستان کا موازنہ کروں توایسا کرنا یقینا کچھ غلط نہ ہوگا اس لئے میں اس ملک کے نظام زندگی کے ہر پہلو کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کروں گا لیکن ان تین دنوں میں مجھے ہر جگہ قومی احساس محرومی کے جس عمل سے گزرنا پڑا وہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔
یوگنڈا کے ایئرپورٹ کا اگر صرف کراچی ایئرپور ٹ سے موازنہ کرلیا جائے تو ہمیں یوگنڈا جیسے غریب ملک کے سامنے جس غریبی کا احساس ہوگا اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس نے کراچی ایئرپورٹ اور یوگنڈا کے انتیبے ایئرپورٹ پر لینڈکیا ہو ، دنیابھر کے ایئرپورٹ وہ پہلی جگہ ہوتی ہے جہاں میزبان ملک کے بارے میں غیر ملکیوں کو شناسائی حاصل ہوتی ہے لہٰذا بین الاقوامی سطح پر ایئرپورٹوں کی تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ، یوگنڈا کے انتیبے ایئرپورٹ کو بھی بہترین طریقے سے سجایا گیا ہے ۔بہترین رن وے ، گھاس کو خوبصورت طریقے سے کاٹ کر مختلف ڈیزائن تیار کئے گئے ہیں جہاں رنگ برنگے پھولوں سے اس کو مزید نکھارا گیا ہے ، پہلی بار دیکھنے والوں کو یوگنڈا آمد پر اس سے بہترین استقبال ہو نہیں ہوسکتا جبکہ کراچی کے ایئرپورٹ پر لینڈنگ کرتے ہوئے یقین جانئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے کسی پسماندہ ترین شہر میں لینڈ کررہے ہیں۔ رن وے کے اردگرد موجود سڑکوں میں ٹوٹ پھوٹ کے آثار واضح دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ رن وے کے اطراف میں گھاس اب جھاڑیوں کا منظر پیش کرنے لگی ہے جسے کئی سالوں سے کاٹا نہیں گیا۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین شخصیات کراچی ایئرپورٹ کے ذریعے ہی آتی جاتی ہیں پھر بھی نہ جانے کیوں کراچی کے ساتھ اتنی بے اعتنائی برتی جاتی ہے۔
یوگنڈا 9/اکتوبر1962ء کو برطانیہ سے آزاد ہوا، اس کی آبادی ساڑھے تین کروڑنفوس سے زائدہے، اس کا دارالحکومت کمپالا ہے ، سرکاری زبان سواحلی اور انگریزی ہے، یہاں کے صدر یوویری موسووینی تیس سال سے زائد عرصہ سے حکومت کررہے ہیں، ملک کا رقبہ دولاکھ چھتیس ہزارمربع کلومیٹر ہے جبکہ فی کس آمدنی چھ سو ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یہاں حکومت نے دریائے نیل پر کئی ڈیم بنا کر بجلی کی پیداوار میں نہ صرف کفالت حاصل کرلی ہے بلکہ یہ پڑوسی ممالک کو برآمد بھی کی جارہی ہے۔ ملک میں پانی ،بجلی اور گیس وافر ہیں یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کار یوگنڈا کی جانب رخ کر رہے ہیں۔ یوگنڈا کے انتیبے ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی جاپان سے ہی آئے ہوئے دوست اشرف سحارا اور یوگنڈا میں مقیم پاکستانی حاجی عارف اور فرحان ظہور کو اپنا منتظر پایا، ایئرپورٹ سے روانہ ہوتے ہی چاروں طرف موجود ہریالی نے بھرپور استقبال کیا ،بہترین سڑک پر سفر کرتے ہوئے چاروں طرف اونچی نیچی وادیاں اور ان پر بنے لال چھتوں والے رنگین مکانات انتہائی خوبصورت منظر پیش کررہے تھے جبکہ ہلکی بارش موسم کا مزا دوبالا کر رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی جھیل وکٹوریہ تک پہنچ گئے۔ اشرف سحارا نے میری اس جھیل کے حوالے سے دلچسپی کو دیکھ کر دوپہر کے کھانے کا یہیں انتظام کرنے کا فیصلہ کیا ، اس جھیل کے گرد و نواح کو انتہائی بہترین طریقے سے سجایا گیا ہے، کئی معروف ریستوران اسی جھیل سے شکار کی گئی مچھلیوں کو بہترین طریقے سے فرائی کرکے سیاحوں کو پیش کرتے ہیں ، کچھ وقت یہاں گزارنے کے بعد دارالحکومت کمپالا کی طرف روانہ ہوئے جو ایئرپورٹ سے تقریباً ستّر کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے،کچھ دور ہی آگے بڑھے تھے کہ ٹریفک پولیس سارجنٹ نے ہاتھ دیکر روک لیا ، پولیس سارجنٹ کے پاس بہترین موٹر سائیکل موجود تھی جبکہ وردی بھی چمکدار سفید تھی جس کا اپنا رعب و دبدبہ تھا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ آج ہی نئی وردی پہنی ہے ، میری بات سن کر حاجی عارف نے بتایا کہ یوگنڈا میں پولیس انتہائی مستعد ہے اور یہاں ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال سخت ممنوع ہے جبکہ سیٹ بیلٹ بھی پہننا انتہائی ضروری ہے، بصورت دیگر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کچھ ہی دیر میں ہم دارالحکومت کمپالا کے مرکزی علاقے میں پہنچ گئے تھے جو کسی بھی طرح ٹوکیو سے کم نہیں تھا۔ شہر کے مرکز سے نکل کر کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ یوگنڈا کی غربت کے آثار بھی نمایاں ہونے لگے ۔
اشرف سحارا مجھے بتارہے تھے کہ یوگنڈا میں بہت امیر لوگ ہیں یا بہت غریب، یہاں پر ملازم پاکستانی چار سے پانچ ہزار روپے میں بآسانی مل جاتے ہیں جو بہت محنتی اور ایماندار ہوتے ہیں جبکہ کئی پاکستانی کاروباری شخصیات یہاں سے مقامی لوگوں کو اپنے ساتھ جاپان اور دبئی بطور گھریلو ملازم لے جاتے ہیں جن کو سو ڈالر ماہانہ تنخواہ ادا کی جاتی ہے، ان گھریلو ملازمین میں افریقی خواتین کو ترجیح دی جاتی ہے یہ خواتین گھر کا کام بہترین انداز میں کرتی ہیں وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باعث انگریزی بھی روانی سے بولتی ہیں ،وہ بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کی خدمت بھی انجام دیتی ہیں۔اشرف سحارا کے مطابق اس وقت یوگنڈا میں تین ہزار پاکستانی ہیں جو زیادہ تر گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں اور یوگنڈا کی حکومت پاکستانیوں کو بحیثیت غیر ملکی سرمایہ کار بہت اہمیت دیتی ہے تاہم حکومت پاکستان یوگنڈا میں اپنا سفارتخانہ قائم کرنے سے قاصر ہے، جس پر یوگنڈا میں مقیم پاکستانیوں کو خاصی مشکلات کا سامنا رہتا ہے، یوگنڈا کے مقامی لوگ انتہائی پُرامن اور ملنسار ہیں۔ یوگنڈا کی پاکستانی کمیونٹی میں اتحاد ہے جبکہ کئی پاکستانی ریستوران بھی موجود ہیں جس میں جمبو بونڈ میں موجود علی بھائی کا ریستوران قابل ذکر ہے، یوگنڈا کی قابل ذکر بات یہاں سے شروع ہونے والا دریائے نیل بھی ہے جس کی لمبائی چھ ہزار چار سو کلومیٹر ہے جو نائجیریا اور مصر تک جاتا ہے۔ یوگنڈا کے بارے میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ چند سالوں میں یہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہونے والا ہے جس کی وجہ یہاں دریافت ہونے والے تیل اور گیس کے بھاری ذخائر ہیں۔ یہاں چار ارب بیرل تیل کے ذخائر دریافت ہوچکے ہیں جبکہ ذخائر کا اندازہ دس ارب بیرل ہے، یہاں تیل کی دریافت کا تناسب نوّے فیصد ہے جو عالمی سطح پر دس سے پندرہ فیصد ہوتاہے جس سے یوگنڈا کے مستقل کا اندازہ ہوتا ہے، اس وقت دنیا کے کئی ممالک یوگنڈا سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن ہماری حکومت اپنے ہی مسائل میں ایسی جکڑی ہے جسے دنیا کے معاملات دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ 

بشکریہ روزنامہ  جنگ یکم مئی  ۲۰۱۳


http://travelinksites.com/wp-content/uploads/2012/11/TLS_Uganda_3wm.jpg


No comments :

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...