Saturday, July 13, 2013

ملالہ ڈے اور ملالہ کی تقریر پر تبصرہ - عمران زاہد کے قلم سے

A US Drone Vicitim

قارئین کرام،  مجھے خدا نے ذہن ہی کچھ ایسا دیا ہے کہ کسی سیدھی با ت کو بھی آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ بلکہ کافی دیر تک ادھیڑ بن میں پڑا رہتا ہے۔۔ اس کے مختلف پہلو  سوچتا رہتا ہے اور کئی دفعہ کسی فیصلے پر پہنچنے پر ناکام رہتا ہے۔ ایسے مواقع پر میں دِل کی سنتا ہوں اور اس کی مانتا ہوں۔۔۔  کئی دوست میرے کسی خیال کی وجہ جاننا چاہتے ہیں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ میرے پاس اس کی سوائے اس کے کوئی وجہ نہیں کہ میرا دل اس خیال سے میل کھاتا ہے۔


ملالہ کا واقعہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ بظاہر تو سادہ معاملہ ہے۔ ایک لڑکی کو کچھ لوگوں نے گولی ماری جو کہ بقول اخباروں کہ اس کے سر اور گردن کو چھُوتے ہوئے گردن میں لگ گئی۔ ملالہ مظلوم ہے اور ہمیں اس کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا چاہیئے اور طالبان کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کرنا چاہیئے۔۔۔ اللہ اللہ خیر صلیٰ ۔۔   لیکن جیسا کہ عرض کیا کہ میرا دماغ اس سیدھی سادی دلیل کو قبول ہی نہیں کر پایا۔۔۔۔ انسانیت کے ناطے سے ملالہ جو کہ ایک معصوم بچی ہے اس سے ہمدردی تو ہوئی ۔کہ بیچاری کو گولی کی تکلیف سے گذرنا پڑا۔۔ اُن ظالموں کی دل سے مذمت کی۔۔ دل سے ان کے لیے بددعا نکلی کہ تباہ و برباد ہوں وہ۔۔ایک نہتی بچی پر ایسے حملے کو کم سے کم الفاظ میں وحشیانہ ہی کہا جا سکتا ہے۔۔ ایسے درندوں کی سزا صرف اور صرف موت ہونی چاہیئے۔۔۔۔  لیکن اس سب کے باوجود  کچھ کردار ،جو کہ ملالہ کی اس مظلومیت کو کیش کروا کے اپنے کچھ سیاسی و فوجی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے، نے مجھے ملالہ کی اس ہمدردی کی لہر سے دور کر دیا۔۔ یا کم از کم اس ہمدردی کو میں نے دل میں گہرا دفن کر دیا۔     اُن کرداروں کا تذکرہ کچھ یوں ہے:

ملالہ کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اور نہ ہی کوئی آخری واقعہ ہے۔ اس نام نہاد دہشت گردی  کی جنگ میں لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں لیکن امریکہ کے صدر سے لیکر۔۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری ، برطانیہ کے وزیر اعظم، افغانستان کے صدر  ، ہندوستان کے وزیرِ اعظم اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے ملالہ کے لیے بیانات جاری ہو رہے ہیں۔ہماری حقوقِ انسانی کی انجمنوں کو بھی خیال آیا کہ اب غیر ملکی ڈونرز کے ڈالرز بٹورنے کا وقت آ گیا۔۔۔ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بیانات دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔  آج تک ان لوگوں کو کسی اور شہید یا زخمی کے لیے ہمدردی کی توفیق نہیں ہوئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری ، امریکہ کے صدر  ، انڈیا اور افغانستان صدور  نے کبھی ڈرون سے شہید ہونے والے کسی بچے کے حق میں تو کلمہ خیر نہیں کہا۔۔ ملالہ کا دکھ کیوں ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھانے لگا۔  جب ایسی بیان بازی شروع ہوجاتی ہے تو میں یہی سوچتا ہوں   کہ ان لوگوں کو پاکستا ن کا مفاد کب سے عزیز ہو گیا؟ یہ اگر کسی ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں تو اپنے ہی کسی مقصد کے لیے کر رہے ہیں۔ اپنی سوچ سے اختلاف کرنے والوں سے یہی عرض کروں گا کہ میں اپنی سوچ کی محدودیت پر بہت نادم ہوں۔۔ لیکن کیاکروں میں ایسے ہی سوچتا ہوں۔ مجھے پاکستان کو تباہ کرنی والی طاقتوں کے منہ  سے پاکستان کی ہمدردی ہضم ہی نہیں ہوتی۔۔۔ یہ تو وہی بات ہوئی ۔۔ کہ نالے چور وی تے نالے چتر وی۔

مجھے یاد ہے کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا ۔۔ یار تم ملالہ سے ہمدردی کیوں نہیں رکھتے۔۔ تو میرا جواب یہ تھا۔۔ کہ ہمدردی تو بہت ہے۔۔ لیکن اس ہمدردی کو میں کسی   غیرکے مقاصد کے لیے ایندھن نہیں بنا سکتا۔۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جس شام کو ملالہ والا واقعہ ہوا۔۔ اگلے ہی روزمجھے گیارہ بارہ بجے کے لگ بھگ مال روڈ  سے گذرنے کا اتفاق ہوا تو میں دیکھ کے دنگ رہ گیا کہ ۔۔ مال روڈ بینروں سے رنگا رنگ ہوا ہوا تھا جس میں ملالہ پر حملے کی مذمت کے ساتھ ساتھ  وزیرستان میں آپریشن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔۔۔ مجھے سوات آپریشن کا سارا ڈرامہ یاد آ گیا۔۔ وہ چاند بی بی جس پر کوڑے برسے۔اس کی ویڈیو سارے چینلز پہ چلی۔۔لوگوں کی ہمدردی بٹور کر  سوات کے نفاذِ شریعت والوں پر فوجی آپریشن ٹھونس دیا۔۔۔۔۔ حالانکہ وہ بیچارے صرف شرعی عدالتوں کا نظام مانگتے تھے جو کہ وہاں پر پہلے سے قائم تھا اور انصاف  مہیا کر رہا تھا، جسے پاکستان کی حکومت نے ختم کر دیا تھا  اور انصاف نہ دے سکنے والا نظام نافذ کر دیا تھا جس میں دادا کے دائر کیے ہوئے مقدمے کا فیصلہ پوتا ہی سنتا ہے ۔۔بلکہ اکثر تو وہ بھی نہیں۔۔بعد میں  سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ویڈیو جعلی ہے۔۔  مجھے یہ لگا کہ ملالہ دوسری چاند بی بی بنایا  جا رہا ہے۔ بس دل وہیں سے پھِر گیا۔ پتہ نہیں کیوں۔۔ میں سیدھا سادا کیوں نہیں سوچتا۔۔ہمیشہ گھما پھرا کے کیوں سوچتا ہوں۔۔ لیکن کیا کروں۔۔

بہرحال ملالہ کی تقریر  پر تبصرے کی طرف آتے ہیں۔ تبصرہ سے پہلے صرف یہ کہوں گا کہ۔۔۔ ملالہ ایک بچی ہے۔۔ چھوٹی بچی۔۔۔ جہاں جہاں ملالہ کے بارے میں کوئی تنقید پڑھیں تو براہ کرم سمجھ جائیں کہ  یہ تنقید چھوٹی بچی ملالہ کے لیے نہیں ہے۔۔۔ یہ ملالہ کے والد اور اس کو استعمال کرنے والے پردہ نشینوں کے لیے ہے۔ ملالہ کے لیے ہماری دعائیں اور پیار ہے۔ امید ہے وہ بڑی ہو کر خود کو استعمال کرنے والوں کو سمجھ جائے گی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ میرے علم میں نہیں تھا کہ آج  ملالہ ڈے منایا جا رہا ہے۔۔۔ ان  دن منانے کے سلسلوں کو میں ایک ڈھکوسلے سے زیادہ نہیں سمجھتا۔۔ اس لیے کبھی سنجیدگی سے ان کو منانے یا نہ منانے میں دلچسپی نہیں لی۔فیس بک  پہ جب  ڈاکٹر یزدانی کا تبصرہ (سب سے آخر میں دیا گیا ہے ) پڑھا  تو مجھے اس  دن کے منائے جانے  کا پتہ چلا۔۔ چونکہ میں ڈاکٹر یزدانی کی بہت عزت کرتا ہوں اور ان کے علم و فضل کا بہت بڑا مداح ہوں۔۔ اور ان کے کیے ہوئے تبصرے کو خاص اہمیت دیتا ہوں۔۔۔ لہٰذا اس  کے بعد میں نے نیٹ  پر ڈھونڈ کے ملالہ کی تقریر سنی ۔ کچھ حصہ  سرسری سنا اور کچھ غور سے سنا ۔۔۔ کسی نے بہت اچھی تقریر لکھی ہے اور بڑی اچھی تیاری کروائی ہے۔ ملالہ کا انداز قابلِ تحسین ہے۔تقریر میں ساری باتیں وہی ہیں جو کہ تعلیم کے حوالے سے اکثر سنتے رہتے ہیں اور سُن سُن کر دماغ  پک  جاتے ہیں اور کان بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ کیونکہ ان میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔۔ کوئی نیا خیال ، ندرت  اور جدت نہیں ہوتی۔۔ وہی اسٹیریو ٹائپ باتیں ہیں۔۔۔ جو آپ تعلیم کے موضوع پر کسی بھی شخص سے کہیں گے تو وہ سنا دے گا، ہمارے تعلیم کے وزراء اس قسم کی تقاریر اپنے اسپیچ رائٹرز سے لکھوا کر تقریبات میں پڑھتے رہتے ہیں۔حتیٰ کہ زرداری صاحب جیسے کرپشن میں بدنام شخص بھی اس قسم کی تقریریں کر کے ہم عوام پہ اپنا احسان چڑھاتے رہتے ہیں۔   اور میرا نہیں خیال کہ کسی بھلے آدمی کو اس سے اختلاف ہو گا۔ ہر شخص اپنے بچوں کے لیے اچھی سے اچھی تعلیم چاہتا ہے اور اس کے لیے اپنی اوقات سے بھی زیادہ فیسیں ادا کرتا ہے۔ حتٰی کہ اسے  اپنا پیٹ بھی کاٹنا پڑے تو وہ کاٹتا ہے لیکن بچوں کو تعلیم دلواتا ہے۔ یہ سب لوگ آپ کے آس پاس۔۔ آپ کے خاندان میں ۔۔ بکھرے ہوئے ہیں۔۔ حتیٰ کہ آپ خود بھی انہی افراد کا حصہ ہیں۔

ملالہ کی تقریر میں جو اس نے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بچوں کی بات کی ہے۔۔ امید ہے کہ ڈرون حملوں سے مرنے والے بے نام و نشان بچے بھی اس کے ذہن میں ہوں گے۔ ان بچوں کے  سفاکانہ قتل کی مذمت کرنےسے امریکہ کی مذمت لازم آتی ۔۔ ملالہ کو لانچ کرنے والے اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔ ان کے ذہنوں کی محدودیت تو میرے ذہن سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک ڈرون آپریٹر کو ان بچوں کے خون کا احساس اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس ہوا اور اس نے میڈیا میں آ کر شرمندگی اور ندامت کا اظہار کر لیا۔۔۔ کیا ڈرون حملوں کے حامی بھی ایسی ندامت کا اظہار کر سکتے ہیں۔
ڈرون حملوں میں مرنے والے بے نام و نشاں بچے۔۔  یہ پھول  بچے
۔۔ نہ ہوئے وہ کسی سیکولر والدین کے بچے ۔۔
۔۔کہ جو انہیں امریکہ بہادر وہاں سے اٹھا کر تعلیم و امن کا نشان بنا دیتا۔
۔۔ وہ تو مٹی میں لت پت ہونے  آئے تھے
۔۔ ایک ڈرون کی آواز انہیں نے سنی۔۔
۔۔۔ ایک میزائل چلا ۔۔
۔۔ اور وہ اپنی اپنی گڑیوں اور کھلونوں کے ساتھ خون اور مٹی کے آمیزے میں لت پت ہو گئے ۔۔
۔۔ کسی یو این او میں ان کا نوحہ نہیں پڑھا گیا۔۔
۔ کسی ادارے نے نہیں کہا کہ تعلیم ان کا بھی حق ہے۔۔۔۔
-زندگی ان کا بھی حق ہے۔۔ سنہری چمکدار زندگی۔۔
ستم ظریفی یہ کہ بچوں کے مدرسے پر ڈرون حملہ کیا گیا اور قران پاک پڑھتے ہوئے 80 معصوم بچوں کو مار دیا گیا۔۔۔۔ اور اعلان کیا گیا کہ دہشت گرد مار دیے گئے۔۔۔ امیدِ واثق  ہے ملالہ کو یہ واقعہ یاد ہو گا۔ ہوناچاہیئے۔۔ اسی کے قریب کا علاقے کا ہی تو تھا یہ واقعہ۔ اس واقعے کے ذمہ داروں کی بھی کیا اتنی ہی مذمت ہے؟

ملالہ سے کہوں گا۔۔۔ بیٹا۔۔۔ تعلیم کی جو آپ باتیں کر رہی ہو۔۔۔ تعلیم سے بھی اہم ہے ایک چیز۔۔۔ "جان" ۔۔ ان بچوں کو جان کی امان ملے گی تو یہ پڑھ بھی لیں گے۔ لیکن بیٹی۔۔ تمہارے پروموٹرز،  سپورٹرز، تمہارے لیے تالیاں مارنے والے۔۔ تمہیں ایک علامت اور نشان بنانے والے۔۔۔ وہی تو ہیں جو ان کی جان لے لیتے ہیں اور پھر تم سے کہتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ ملالہ۔۔ کیا تمہیں یہ تضاد محسوس نہیں ہوتا؟  جان لے کے تعلیم دینے والے یہ ہمارے محسن ۔۔ بقول شاعر۔۔
شمار کیا کروں اس کی سخاوت کا کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں

ڈاکٹر یزدانی کی بات کی 100 فیصد تائید کروں گا کہ "ملالہ" کو ایک بڑے سیکولر پراجیکٹ کے چھوٹے سے حصے کے طور پر "بنایا" گیا ہے اور میڈیا ہائپ دی گئی ہے۔ ہمارے سرکاری عمّال بھی اس میں شامل ہیں۔ آخر جنرل پاشا کے بیان سے یہ ثابت بھی تو ہو گیا کہ ڈرون حملوں میں ہمارے عمّال کی رضامندی شامل ہے۔ بلکہ انہوں نے تو ڈرون حملوں کے فائدے گنوائے ہیں۔ تو ملالہ پراجیکٹ میں یہ کیوں نہ شامل ہوں گے۔۔۔ وہ تو عوامی ردعمل تھا کہ بیچارے۔۔۔ مظلومیت بیچ نہیں پائے۔ سوات کی کوڑوں والی چاند بی بی کے بعد یہ مال بکنے والا نہیں تھا۔۔ لوگ سمجھ دار ہو گئے تھے۔ سوات آپریشن کے دور میں حامد میر نے ایک کالم لکھا تھا جس میں ایک عورت کی مظلومیت کی داستان بیان کی تھی جو طالبان کے  مظالم سے بھاگتی چھپتی پھر رہی تھی۔ آپریشن کے بعد۔۔۔ حامد میر صاحب نے ایک اور کالم لکحا اور اس میں معذرت کی کہ ان کو غلط معلومات دی گئی تھیں۔۔ اس خاتون کا  کوئی خاندانی مسئلہ  تھا۔۔۔ طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ ہائے اس ذودِ پشیمان کا پشیمان ہونا۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہوں گا۔۔۔
حال ہی میں جس طرح ایک سیکولر لیڈر الطاف حسین کا پول کھل گیا کہ کس طرح سے اس نے غیر ملکی اداروں کو پاکستان میں جاسوسی کی خدمات مہیا کرنے کی پیشکش کی۔۔ اور کس طرح سے پاکستانی آئی ایس آئی کے خلاف  شکایات بیان کیں۔ اور کوئی بعید نہیں کہ کراچی سے اغوا ہونے والی عافیہ صدیقی کے پیچھے بھی اسی گروہ کا مکروہ ہاتھ ہو۔ اسی طرح سے۔۔۔۔ میری بات نوٹ کر لیجیے ۔۔۔ تھوڑے عرصے بعد ۔۔ یہ پول کھلنے والا ہے کہ ملالہ کو کس طرح سے "بنایا" گیا۔ کس کس نے کب کب امریکی عمال سے ملاقاتیں کیں۔۔ کیا کیا طے کیا۔۔۔۔ قوم تو یہ بات اچھی طرح جانتی ہے اور سمجھتی ہے۔۔۔ لیکن اس کے ثبوت بھی مل جائیں گے۔۔۔ وہ لوگ خود ہی دے دیں گے ۔۔۔۔ سب نقاب اتریں گے۔ مولانا مودودی  رحمتہ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ یہ زمانہ بہت بے رحم صراف ہے۔۔ یہ ایسے گھسِتا ہے کہ کھرا کھوٹا سب سامنے آ جاتا ہے۔ اس ساری کھیل کے کھلاڑی بھی سامنے آ کے رہیں گے۔ اب جس رفتار سے واقعات آگے بڑھ رہے ہیں۔۔ کوئی بعید نہیں ان واقعات کو کھلنے میں زیادہ دیر نہ لگے۔ واللہ اعلم بالصواب

میرے اس اندازے کی بنیاد کچھ یوں ہے۔۔۔
۱-  تحریکِ طالبان پاکستان ۔۔۔ جس کے بارے میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ وہ امریکی و ہندی فنڈڈ باڈی ہے۔۔۔۔۔ جس کا کام پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے۔۔۔ اور اس کو پاکستانی حکومت سے گن پوائینٹ پر پے در پے غلطیاں کروا کے بنوایا گیا۔۔۔۔ ہیں تو ہمارے ہیں بھائی بند۔۔۔ اسی قوم کے افراد۔۔۔ لیکن ایسی برین واشنگ کی گئی ہے کہ وہ اب پاکستان کا نام بھی نہیں سننا چاہتے۔۔۔۔۔ بہرحال۔۔۔۔ انہیں سے ملالہ پر حملہ کروایا۔۔ اور اپنی نوعیت کا واحد حملہ جس میں وہ ٹھیک نشانہ بھی نہ لے سکے۔۔شاید ابھی "انٹرن" طالبان ہوں۔۔ نشانہ کچا ہو۔۔ اور پھر ملالہ کی مظلومیت کی ہائپ بنوا کر۔۔۔ اس کو ایک آئیڈل ایک علامت  کی شکل دی گئی۔۔۔ ہمارے سیکولر لوگ تو ہائے ہائے کر اٹھے۔۔ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ محرم کی طرز پر شامِ غریباں مناتے۔۔یا  ۔۔ یاملالہ ملالہ کہہ کر سینہ کوبی کرتے۔۔۔ یا ملالہ کے نعرے بلند کرتے ہوئے زنجیر زنی کرتے۔۔۔یاد  رہے۔ ۔ یہ  وہی سیکولر  ہیں جو امریکی سفیروں اور سینیٹروں کو پرائیویٹ مجالس میں  کہتے تھے کہ حضور آپ ڈرون حملے جاری رکھیں۔۔ ہم واویلا جاری رکھیں گے۔۔ آ پ اپنا کام کریں۔۔ ہم اپنا کام کریں گے۔۔۔ ڈاکٹر یزدانی کا بالکل درست سوال ہے کہ سوائے خود کو اور اپنے والدین کو بیرون ملک سیٹل کروانے کے اور کیا خدمات ہیں ملالہ کی؟

۲- ملالہ کا والد جو کہ اے این پی کا ہمدرد ہے۔۔۔ ملالہ نے بھی اپنی تقریر میں گاندھی کے ساتھ ساتھ سرحدی گاندھی باچاخان کے فلسفے کا ذکر کیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اے این پی کو حکومت میں لانے والی کون سی طاقت تھی۔۔الیکشن سے پہلے اسفند یار ولی صاحب امریکی حکومتی ایوانوں کا دورہ فرما کے آئے تھے اور انہوں نے بیان دیا تھا کہ میں پٹھانوں کا مقدمہ لڑ کے آیا ہوں۔۔اللہ اللہ۔۔ پٹھانوں کا ایسا مقدمہ لڑا کہ سب سے زیادہ پٹھان اے این پی کے دور میں ان کے آقاؤں کے ہاتھوں مارے گئے۔کوئی بعید نہیں۔۔ ایم کیو ایم کی طرح ان کا غدارانہ کردار بھی سامنے آ جائے کہ کس طرح سے انہوں نے وار آن ٹیرر نامی جنگ میں پاکستان کے دشمنوں کو امداد مہیا کی۔  واللہ اعلم بالصواب

میرا گمان ہے کہ اے این پی اور ملالہ کے سب واقعات کھلیں گے۔۔ الطاف حسین ہی کی طرح۔ لوگ  چُھپی ہوئی کہانی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے،

آخر میں پھر کہوں گا۔۔۔ تعلیم کے میدان میں پاکستان کے "ملالہ مخالفوں" کی خدمات چھپی ہوئی نہیں ہیں۔۔۔ میں مدرسوں کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ جدید تعلیم کے اداروں کی بات کر رہا ہوں۔۔بے شمار تعلیمی  ادارے ہیں۔۔ اور تو اور۔۔جماعت الدعوۃ کے معتدبہ تعلیمی ادارے۔۔۔لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے ۔۔ جماعت اسلامی کے اپنے اور اس سے منسلک لوگوں  کے لاتعداد۔تعلیمی ادارے۔۔ سکول کالج اور یونیورسٹیاں۔۔۔جب  بھی  رائیٹ کےلوگ حکومت میں آئے انہوں نے نئے نئے تعلیمی پروگرام شروع کیے ۔۔۔ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت اور حال میں  تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مشترکہ حکومت ۔۔۔۔ پنجاب میں پرویز اٰلہی اور شہباز شریف کی حکومتیں اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ تعلیم کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اوردوسری طرف زبانی دعووں کے برعکس ہمارے لیفٹ کے اور سیکولر لوگ جب بھی حکومت میں آئے ہیں انہوں نے تعلیم کا بیڑا غرق ہی کیا ہے۔۔ مثال کے طور پر پی پی پی کی وفاقی اور سندھ میں صوبائی حکومت، اے این پی کی سرحد (اب صوبہ خیبر پختونخواہ) صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھ لیں۔۔ بلکہ پی پی پی کی حکومت نے تو ایچ ای سی کے سارے فنڈ بے نظیر انکم سپورٹ میں لگا کر اعلیٰ تعلیم  کو تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ سندھ میں سکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا جو حال ہے۔۔ الامان۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ آسمان سے اب کون سے سیکولر لوگ نازل ہوں گے جو ملالہ کے تعلیم کے ایجنڈے کو پورا کر پائیں گے۔۔ لے دے کے رائیٹ والے بچتے ہیں لیکن وہ ملالہ کو نہیں پچتے۔۔۔ بات بنے گی تو کیوں کر بنے گی۔
 قصہ مختصر یہ کہ ملالہ کی باتوں سے تعلیم کی حد تک مجھے 1000 فیصد اتفاق ہے۔۔۔ لیکن تعلیم کے علاوہ جس سیکولر ایجنڈے کے لیے اس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔۔۔۔اس سے 1000 فیصد اختلاف ہے۔ نہ یہ ایجنڈا کبھی اس ملک میں جڑ پکڑ سکا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی پکڑ پائے گا۔ ان شاء اللہ۔ 

A Facebook Dialogue:

Dr. Yazdani:
I have been saying for the last year or so that #Malala incident is getting so much hype because she represents secular thought. Today she proved that in her UN speech by naming 'Lord' Jesus, Mandela, Buddha and Jinnah but missed out the name of Seal of the Prophets Muhammad (PBUH) who championed the rights of women in humanity. If she had taken his sacred name her birthday wouldn't have been celebrated in UN the way it was done today. She gained worldly glory by omitting his sacred name. That's quite shameful as a Muslim. My request to all young Muslims (especially females) is not to fall prey to this naked propagation of secularist agenda and think about thousands of Pakistani children who are killed or made handicapped by US #drones and nobody even bothers to count their bodies. One more question: What has Malala achieved for any Pakistani except settling herself and her family in Western countries?
Mr. Nazim:
Correction Mr. Yazdani, I quote the excerpts from her speech ", This is the compassion that I have learnt from Muhammad-the prophet of mercy, Jesus christ and Lord Buddha. This is the legacy of change that I have inherited from Martin Luther King, Nelson Mandela and Muhammad Ali Jinnah". You are a good researcher. And a good researcher never jumps to conclusions. Whether she represents secular thoughts or not - I don't contest but I do object to glaring omission and distortion of facts.
Mr. Murad:
 I was worried as she took all these names in one sentence implying that all of them should be respected equally..
Mr. Khar:
@sir nazim it was just a speech.You should watch speeches made by Bush and obama.They also showed lot of respect for Muslims and Islam in their speeches,actions have importance n0t these speeches :-P
Ms. Sharmeen:
@babar munir khar thats not the point...the issue that was raised was that she didnt take the name of Prophet Muhammad PBUH.That was an accusation which has been clarified by sir nazim.baal ke khaal nikaalnee ho tho woh alag baath hay ..
Dr. Yazdani:
It is so strange that no TV channel including GEO voiced the name of Prophet (PBUH). A case for deconstruction? overturning? metamorphosis? Mohammad Nazim sb or yet another innocent slip by the Western loyalists?









مکمل تقریر یہاں سے سنیے

7 comments :

  1. Are you a doctor; who told you that total hair removal is needed for surgery or that it takes ages for recovery? Do you have any idea of modern surgery? Come out of dull facebook pages
    I do not know that exactly how she was shot and treated, but I have no reason to deny whats been told. Do you have any “proof” of what you are claiming? Why are we always conspiring?
    The problem is that we want to see the things as we want them to see, not as they are. Accepting the realities of life is the first step towards making life better.
    And would somebody tell me WHY the super power USA would stage this so-called drama? What would USA get out of it? 1st she had been cured in army hospital so our army also was also involved in that drama ??? What the army intentions were behind it ???? when the media didnot give porper coverage to shazia and kainat FB jihadi raised this issue if they had sympathy for them than also accept their witness too. Shazia kainat bhe jhooti media bhe jhoota army bhe jhooti such hay to sirf facebook k jihadi ???
    4 hours ago · Edited · Like
    nd i am astonished that army was supporting malala and was involved in drama with that girl who had anti army views ???????????
    This reson wil lbe quite illogical that USA did to defame Pakistan all over the world and for the continuous of Drone attaks or for the operation in waziristan as usama presence (army admitted it )was much enough reason to do all that.2- kindly now dont say that yes army was also involved coz it will be quite surprising that army who had severe conflicts with Gilani government on memo issue but was with them on Malala Drama
    1- My subject of post was that is it Drama???
    2- Thanx if u admitted that its not drama…
    3- Malala has no concern with our religious beliefs , I am just appreciating his political views we may disagree if her any comment is contradictory with the basic teachings of islam (ans seriously I have not listened that upto now)
    4- As Jinnah was a great leader but it doesn’t mean we also agree with her religious views
    5- A community which is more focused on dividing islam in shia sunni brailvi ahle hadees , which is more facues on making gangs /sipah/lashkar/on the name of sahaba and Muhammad SAW , killing one another and making Kafir to 1 another, in that community/ society, belive me, there is no need / role/space of Malala to share its contribution to defame islam Nationally / Internationally.
    6- I am greatly impressed by Molana Tariq Jameel and Raiwand because of that Allah gave Hadayat to Junaid Jamshiad Inzmam Afridi Yousaf and many more. Even the Britain female journalist embraced Islam in the Prison of Afghan Taliban by their attitude ,and respect for women not by their sword.
    7- At present we may live with harmony in the Light of Meesaq e Madina (57 Muslim countries among 200 )which is a benchmark in the history of Islam with international religious harmony rather to involve us in World war by emotions or sentiments which are filled with Hollywood and Bollywood .
    8 - Malala is not supposed to present burma or Kashmir in UN, why Pakistan and Muslim umma raise these issue , just duffer and bulishir writing

    ReplyDelete
    Replies

    1. حکیم صاحب، بہت شکریہ کہ آپ ایک اور پوائینٹ آف ویو سامنے لائے ہیں، گو میرے مضمون میں اٹھائے گئے نکات سے کافی دور ہیں، بلکہ کوئی خاص تعلق
      نہیں ہے۔

      جیسے کہ میں نے اپنے مضمون میں بھی لکھا کہ لوگ شاید ملالہ سے نفرت نہیں کرتے، اس کے آپرٹرز سے کرتے ہیں۔ وہی جو ہمارے علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان کی نہ صرف پشت پناہی کرتے ہیں، ان کو اسلحہ مہیا کرتے ہیں بلکہ افغانستان میں اپنے اڈوں پر پناہ بھی دیتے ہیں۔

      وہی ملالہ کے دکھ میں گھلے جا رہے ہیں۔ جبکہ ایک بہت بڑی حقیقت جس کو وہ جھٹلا نہیں سکتے کہ ملالہ جیسی سینکڑوں معصوم بچیوں کو انہی کی پشت پناہی سے قتل کیا جا رہا ہے۔

      یہ لنک جب تک واضح نہیں ہوتا مشکل ہے کہ کوئی محض ملالہ کے معصوم چہرے سے پگھل جائے۔

      نظریاتی پہلو بھی میں نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے۔ اس کو آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ قوم بڑی عجیب و غریب ہے۔ بحیثیتِ مجموعی یہ ویسٹرن سیکولر ویلیوز کو قبول ہی نہیں کر سکتی۔ آج تک نہیں کیا۔ وہی ویلیوز جس کے پرجارک ملالہ کے ہمدرد و پشتیبان ہیں۔

      میں نے آج ہی ایک پی اچ ڈی سکالر سے ملالہ کے معاملے پر پوچھا جو بہت وسیع الماطالعہ بلکہ مطالعاتی آوارگی کا شکار ہیں۔۔۔ انہوں نے بڑے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔ امریکہ کا ڈرامہ ہے۔

      آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ امریکہ کو اس سے کیا حاصل؟ سب سے بڑا حاصل تو یہی ہو گا کہ وہ مجرم کہلانے کی بجائے ہمارا ہمدرد کہلانا شروع کر دے گا۔
      میرا اس کے مقابلے میں بڑا سیدھا سا سوال ہے ، آخر امریکہ، برطانیہ وغیرہ کو ہم سے کیا اور کیوں ہمدردی؟؟

      Delete
  2. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  3. Malala Yousafzai and the White Saviour Complex By Assed Baig – Part I

    When Malala Yusufzai was shot in the head by Taliban gunmen simply because she wanted to gain an education it sent shockwaves around the world.

    Straight away the Western media took up the issue. Western politicians spoke out and soon she found herself in the UK. The way in which the West reacted did make me question the reasons and motives behind why Malala's case was taken up and not so many others.

    There is no justifying the brutal actions of the Taliban or the denial of the universal right to education, however there is a deeper more historic narrative that is taking place here.

    This is a story of a native girl being saved by the white man. Flown to the UK, the Western world can feel good about itself as they save the native woman from the savage men of her home nation. It is a historic racist narrative that has been institutionalised. Journalists and politicians were falling over themselves to report and comment on the case. The story of an innocent brown child that was shot by savages for demanding an education and along comes the knight in shining armour to save her.

    The actions of the West, the bombings, the occupations the wars all seem justified now, "see, we told you, this is why we intervene to save the natives."

    The truth is that there are hundreds and thousands of other Malalas. They come from Iraq, Afghanistan, Pakistan and other places in the world. Many are victims of the West, but we conveniently forget about those as Western journalists and politicians fall over themselves to appease their white-middle class guilt also known as the white man's burden

    ReplyDelete
  4. Malala Yousafzai and the White Saviour Complex By Assed Baig – Part II
    Gordon Brown stood at the UN and spoke words in support for Malala, yet he is the very same Gordon Brown that voted for the war in Iraq that not only robbed people of their education but of their lives. The same journalists that failed to question or report on the Western wars in an intelligible manner now sing the praises of the West as they back Malala and her campaign without putting it in context of the war in Afghanistan and the destabalisation of the region thanks to the Western occupation of Afghanistan.

    Malala's message is true, it is profound, it is something the world needs to take note of; education is a right of every child, but Malala has been used as a tool by the West. It allows countries like Britain to hide their sins in Afghanistan and Iraq. It allows journalists to report a feel good story whilst they neglect so many others, like the American drone strikes that terrorise men, women and children in Pakistan's border regions.
    The current narrative continues the demonization of the non-white Muslim man. Painting him as a savage, someone beyond negotiating with, beyond engaging with, the only way to deal with this kind of savage is to wage war, occupy and use drones against them. NATO is bombing to save girls like Malala is the message here.
    Historically the West has always used women to justify the actions of war mongering men. It is in the imagery, it is in art, in education, it is even prevalent in Western human rights organisations, Amnesty International's poster campaign coinciding with the NATO summit in New York encouraged NATO to 'keep the progress going!' in Afghanistan.
    Shazia Ramzan and Kainat Riaz were also shot along with Malala, the media and politicians seem to have forgotten about them. Abeer Qassim Hamza al-Janabi - how many of the Western politicians and journalists know about this name? She was the 14-year-old girl gang raped by five US soldiers, then her and her family, including her six-year-old sister were murdered. There are no days named after her, no mentions of her at the UN, and we don't see Gordon Brown pledging his name to her cause.
    I support Malala, I support the right to education for all, I just cannot stand the hypocrisy of Western politicians and media as they pick and choose, congratulating themselves for something that they have caused. Malala is the good native, she does not criticise the West, she does not talk about the drone strikes, she is the perfect candidate for the white man to relieve his burden and save the native.
    The Western savior complex has hijacked Malala's message. The West has killed more girls than the Taliban have. The West has denied more girls an education via their missiles than the Taliban has by their bullets. The West has done more against education around the world than extremists could ever dream of. So, please, spare us the self-righteous and self-congratulatory message that is nothing more than propaganda that tells us that the West drops bombs to save girls like Malala.

    Follow Assed Baig on Twitter: www.twitter.com/assedbaig

    Courtesy of Huffingtonpost

    Link:
    http://www.huffingtonpost.co.uk/assed-baig/malala-yousafzai-white-saviour_b_3592165.html

    ReplyDelete
  5. To all my haters and friends let me make one thing abundently clear to you....i am not against malala at all.... to me she is just a kid..a 16 year old who knows no shit in todays world..... but yes i am deadly against the whole malala episode and drama... it is all a drama and a big game by the international agencies and media.. she is just a poor girl... its sad the way she has been shot..its very crual... taliban or whoever has shot her was an animal.... a real bastred ... but she called for it. her family is actually responsible for it.. as taliban mentioned in their letter that they are not against girls education or shot her for that reason...... further sharmeen obaid chonoy made a much better movie on iraqi children and their sufferings by american bombings.... it was a much better movie in every respect.. content, direction editing.. everything.. but that movie was not even considered... but her other movie which screws pakistan and pakistanies was even given the award...and this movie which was given an oscar...was a very weak movie...sub standered...... so the oscar award was not given to her talent, hardwork, vision and effort..it was given to what that movie screws,,,,, which is pakistan...... and above all pakistanies.......

    A nice post by Shah Sharahbeel

    ReplyDelete
  6. Is Ayaz Amir also a Taliban?? Read his article.
    ================================
    The two faces of innocence By Ayaz Amir
    Friday, July 19, 2013

    Islamabad diary


    If only things were in black and white, with no need for shades of grey.

    Malala shot at by a Taliban hit man and much of Pakistan erupts in an outpouring of anger and raw emotion, so fierce the reaction that it is considered a tipping point, swinging public opinion in favour of drastic action against the Taliban. That was then.



    Malala addresses a gathering at the United Nations, at only 16 her poise, confidence and eloquence far beyond her years. Her audience is transfixed, the world is moved. But across much of Pakistan there is the silence of the mountains…no rapture, no exultation, only stony silence. This is now.



    Why? It’s the same country, the same people, the same beautiful girl. Just bring out the newspapers of that earlier event and the livid anger is palpable. See today’s newspapers and it is as if we are looking at a mighty conversion, an altered landscape. Have the people of Pakistan become more insensitive, the young girl a lesser vessel of symbolism than when she was attacked by the Swat Taliban?

    For complete article please click the following link:

    LINK: http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-190949-The-two-faces-of-innocence

    ReplyDelete

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...